ہر طرح کے کرداروں کو یادگار بنانیوانے آغا طالش کی کہانی۔۔۔

آغا طالش مرحوم ۔۔
ہر نوعیت کے کردار کو ناقابل فراموش بنانے کا ہنر جاننے والے ایک اداکار – ایک عہد کا نام ۔۔۔

آغا طالش کے آباؤ اجداد کا تعلق ایران سے تھا، البتہ ان کے خاندان نے 1899 میں ایران سے ہجرت کی اور متحدہ بھار_ت و متحدہ پنجاب کے شہر لدھیانہ میں سکونت اختیار کی۔
آغا طالش کے والد محکمہ پولیس میں ملازمت کرتے تھے، ان کا مختلف شہروں میں تبادلہ ہوتا رہتا تھا۔ اداکار طالش کا اصل نام آغا علی عباس قزلباش تھا۔ ان کا گھریلو نام “اورنگ زیب” بھی بتایا جاتا ہے۔ وہ 10 نومبر 1923 (جبکہ ان کے قبر کے کتبے پر ان کی تاریخ پیدائش یکم دسمبر 1923 درج ہے) کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ ابھی کم سن تھے کہ ان کے والد کا تبادلہ متھرا میں ہوگیا۔ متھرا میں ہی آغا طالش نے اپنی حصول تعلیم کے سلسلے کا آغاز کیا اور متھرا میں ہی اپنی تعلیم مکمل کی۔

ان کے بارے میں بلا مبالغہ کہا جاسکتا ہے کہ انھیں بچپن سے اداکاری کا شوق نہیں بلکہ جنون تھا یہی باعث تھا کہ انھوں نے بچپن میں ہی بطور چائلڈ اسٹار اسٹیج ڈراموں میں اداکاری کا آغاز کردیا، آغا طالش نے میٹرک کے بعد کچھ عرصہ فوج بھی جوائن کی۔ فوجی زندگی میں نظم و ضبط، احتیاط اور سوچنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا۔ بتاتے تھے کہ فوج کی سروس کے دوران بھی اندر کا فنکار زندہ رہا اور جی چاہتا تھا کہ میں بھی اس دور کے ہیرو موتی لعل کی طرح نامور ہیرو بنوں، موتی لعل کی فلمیں شوق سے دیکھتے تھے۔

1944 میں جب ان کی عمر 20 برس تھی، ان کے والد کا انتقال ہوگیا، والد کی وفات کا صدمہ بھی ان کی اداکاری کے جنون میں کمی نہ لاسکا اور اسی برس وہ اپنے فلمی شوق میں بمبئی روانہ ہوگئے۔
اس وقت بھا_رت میں فلم سازی کے تین مراکز تھے لاہور بمبئی و کلکتہ۔ تمام ترکوششوں کے باوجود وہ فلموں میں اداکاری توکیا کرتے انھیں کوئی فلمی اسٹوڈیو میں داخل ہونے کی اجازت بھی نہ دیتا۔ البتہ ان کی جمع پونجی ختم ہو گئی تو انھوں نے نیشنل فلم اسٹوڈیو میں کسی دفتر میں ملازمت اختیار کر لی ، یوں وہ اسٹوڈیو میں داخل ہوگئے گو کہ اس سے قبل وہ اسٹوڈیو کے گیٹ پر کھڑے رہتے کہ شاید اسٹوڈیو میں داخل ہونے کی اجازت مل جائے۔

اسی ملازمت کے دوران ان کی ملاقات ممتاز ترقی پسند انقلابی شاعر ساحر لدھیانوی سے ہوگئی جوکہ اکثر نیشنل فلم اسٹوڈیو آتے رہتے تھے، البتہ جب آغا طالش نے ساحر لدھیانوی سے اپنے اس شوق کا اظہار کیا کہ انھیں فلموں میں اداکاری کرنے کا بے حد شوق ہے تو ساحر لدھیانوی صاحب نے آغا طالش کو نامور ادیب کرشن چندر سے ملوایا، کرشن چندر ان دنوں فلم “سرائے کے باہر” بنا رہے تھے۔ بطور ہدایت کار و مصنف۔ چنانچہ کرشن چندر نے ان کو فلم “سرائے کے باہر” میں کاسٹ کرلیا۔ یہ کوئی زیادہ کامیابی حاصل نہ کر پائی نتیجہ آغا طالش کو بمبئی میں مزید کوئی فلم نہ مل پائی۔

تین برس تک طویل قیام کے بعد آغا طالش پشاور آگئے اور ریڈیو پشاور سے منسلک ہوگئے۔ بعدازاں وہ ریڈیو آزاد کش_میر سے وابستہ ہوگئے۔ آغا طالش کی زندگی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ آزاد کش_میر کی تاریخ میں ان کا بہت اہم کردار رہا۔ آزاد کش_میر ریڈیو جس کی کوئی باقاعدہ عمارت نہ تھی وہاں انہوں نے فوجی ٹرکوں پر بیٹھ کر آزاد کش_میر کی ہندوس_تان کے قریب سرحد تراڑ پہنچ کر ریڈیو پروگرام کئے۔ ان کے ہمراہ اس دور کے صداکار علی بابا اور اعجاز بٹالوی بھی تھے۔ وہ نامور وکیل کے ساتھ بہت اچھے صداکار بھی تھے۔ اس دور میں بھار_تی صداکاروں کی آواز میں ایک پروگرام ’’گنبد کی آواز‘‘ نشر ہوتا تھا جو آزاد کش_میر کے مجا_ ہدین کے خلاف ہوتا تھا۔ اس کے فوراً بعد آزاد کش_میر ریڈیو سے ایک پروگرام ڈھول کے پول ہوتا تھا جو سننے والوں میں بہت مقبول پروگرام تھا۔ اس پروگرام میں اعجاز بٹالوی کے سوالات کے جواب آغا طالش اور علی بابا دیا کرتے تھے۔ آغا طالش نے ہوا کے دوش پر اس لڑائی کے حوالے بہت موثر کردار ادا کیا۔ آغا طالش بتاتے تھے کہ ہم نے آزاد کش_میر کے مجا_ ہدین کے ہمراہ آواز کی جنگ لڑ کر آزاد کشمیر کے کچھ علاقوں کو دشمن سے جیتا تھا۔

مگر ان کے اندر کا فنکار انھیں بے چین کیے ہوئے تھا چنانچہ ایک نئے عزم کے ساتھ وہ دوبارہ فلم نگر میں داخل ہوئے مگر ان کا رخ بمبئی نہیں لاہور تھا۔ قیام پاکستان کا قیام عمل میں آچکا تھا پاکستان فلم انڈسٹری اپنے پاؤں پر کھڑی ہونے کی کوشش میں تھی گویا فلم انڈسٹری کی تعمیر کا دشوار گزار مرحلہ درپیش تھا۔ آغا طالش بھی فلم انڈسٹری کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے کمربستہ ہوگئے اور پنجابی فلم “نتھ” میں جلوہ گر ہوئے۔ 1951 میں جب کہ اولین اردو فلم جھیل کنارے قرار پائی۔ 1953 میں پھر تین سال مکمل خاموشی البتہ 1956 میں ان کی چھ فلمیں پردہ سیمیں کی زینت بنیں جن میں دربار حبیب میں یاسمین کے مدمقابل ہیرو کا کردار کیا۔ پنجابی فلم جبرو میں مزاحیہ کردار تھا۔ باغی میں پولیس مین تھے جب کہ 1957 میں سات لاکھ میں کردار نگاری کی اور خوب کی۔ اس فلم میں وہ مے نوش کے کردار میں سامنے آئے اور خوب رہے۔ اس فلم میں ان پر ایک نغمہ بھی فلمایا گیا جس کے بول تھے ” یارو! مجھے معاف رکھو، میں نشے میں ہوں۔” فلم سات لاکھ نے انھیں بام عروج پر پہنچا دیا۔

آغا طالش کی حقیقی شہرت کا آغاز فلم شہید سے ہوا جوکہ ریاض شاہد و خلیل قیصر کی مشترکہ پیشکش تھی اس فلم میں وہ ایک یہو_ دی میجر کے کردار میں پیش ہوئے اور ایسے ہوئے کہ اس قسم کے کردار ان کے لیے مخصوص ہوگئے۔ بعدازاں شہید کے بعد فلم فرنگی، عجب خان، آفریدی، زرقا وغیرہ میں اسی کردار میں جلوہ گر ہوئے بلکہ آغا طالش کی یہ خوبی تھی کہ جس کردار میں آتے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیتے، چنانچہ فلم کنیز میں ایک مغرور نواب کے کردار میں نظر آئے تو سب فلمی ناقدین کا ایک ہی خیال تھا کہ ان سے بہتر کیا ان جیسا کردار کرنے والا کوئی دوسرا نہیں ہے۔

کنیز کے بعد انھوں نے امراؤ جان ادا، دیدار، ثریا بھولی، پنجابی فلم تیرے عشق نچایا میں نواب کا کردار بڑی خوبی سے ادا کیا۔ جبکہ ملنگی، عشق نچاوے گلی گلی، وڈیرا فلموں میں جاگیردار، باغی، الارم، ماں پتر، اور شاہین میں پولیس مین کا کردار، پیداگیر میں گلے میں ڈبہ ڈال کر پان فروش کا کردار، نیند اور ڈائریکٹ حوالدار میں اندھے کا کردار، ایک دھی، پنجاب میں وفادار ملازم کا کردار، بانکی نار میں سکھ کا کردار، یہ امن میں نیک فطرت ہن_دو کا کردار، ماما جی میں پہلے ڈاکو پھر شفیق ماما کا کردار، دھی رانی میں مجبور باپ کا کردار، بڑے میاں دیوانے میں عاشق مزاج بڈھے کا کردار، سچائی میں فراڈیے کا کردار گویا انھوں نے جو بھی کردار کیا خوب کیا۔

آغا طالش نے فلموں میں مختلف نوعیت کے اتنے کردار ادا کئے کہ شاید ہی کسی اور اداکار نے کئے ہوں۔ ان کے دو ہی شوق تھے، ایک اداکاری اور دوسرا دریاؤں پر جا کر مچھلیاں پکڑنا۔ اور ان دونوں کاموں میں انہوں نے زندگی گزار دی۔ اپنی جوانی میں وہ ایک ترقی پسند نوجوان تھے اور ادبی حوالے سے بھی بہت سرگرم رہتے تھے۔
وہ فلم کے جس منظر میں آتے دیگر تمام کرداروں پر چھا جاتے چنانچہ اس حقیقت کا اعتراف لیجنڈ اداکار محمد علی نے ایک ٹیلی ویژن کے پروگرام کے دوران ایک سوال کے جواب میں کیا کہ ”مشکل کام ہے آغا طالش کے سامنے اداکاری کرنا” ۔ طالش نے پی ٹی وی کے چند ڈراموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے جن میں ضرورت، زندگی، قرب وغیرہ کا خصوصیت سے تذکرہ کیا جاسکتا ہے۔

آغا طالش کی مادری زبان فارسی تھی اور ان کی شادی بھی ایسے ہی خاندان میں ہوئی تھی۔ اہلیہ انتہائی پردہ دار اور مذہبی خاتون تھیں۔ ان کا بیٹا احسن طالش پی ٹی وی ڈراموں کا نامور ہدایت کار اور اداکار ہے۔

لگ بھگ پچاس برس تک فلم نگر پر حکومت کرنے والے آغا طالش نے 19 فروری 1998 کو وفات پائی۔ اس وقت ان کی عمر 74 برس تھی۔ انھوں نے 510 فلموں میں اداکاری کی جن میں 310 اردو، 165 پنجابی، 7 پشتو، 28 ڈبل ورژن فلمیں تھیں۔

ان کی فنی خدمات پر انہیں تمغہ برائے حسن کارکردگی اور نگار ایوارڈ سمیت دیگر کئی اعزازات سے نوازا گیا۔ 50 برس سے زیادہ تک فلم نگری پر راج کرنے والے آغا طالش 19 فروری 1998 کو دنیائے فانی سے رخصت ہو گئے۔ ان کی آخری آرام گاہ لاہور کے کریم بلاک قبرستان علامہ اقبال ٹاؤن میں ہے۔
آغا طالش مرحوم کا نام تب تک دلوں میں زندہ رہے گا جب تک فلم نگری کا وجود ہے۔ اللہ کریم ان کی کامل بخشش و مغفرت فرمائے۔ آمین۔۔

Leave a Comment