
گورنر پنجاب رات کے اندھیرے میں تانگے پر عام مسافر بن کر سفر کر رہے تھے، پانچ روپے کی رشوت لینے کے بجائے چالان کرنے والے سپاہی کو گورنر نے ایس ایچ او بنا دیا!
یہ واقعہ سردار عبدالرب نشتر سے منسوب کیا جاتا ہے، جو پاکستان کے ابتدائی دور کی ایک اہم سیاسی شخصیت اور گورنر پنجاب رہ چکے ہیں۔
روایت کے مطابق، رات کے 12 بجے لاہور سے ملتان جانے والی ایک بس اوکاڑہ کے دیپالپور چوک پر رکی۔ ایک نوجوان اترا جسے سول ریسٹ ہاؤس جانا تھا۔ وہاں ایک تانگہ موجود تھا، نوجوان نے کوچوان سے لفٹ مانگی، لیکن اس نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ تانگے میں پہلے ہی چار سواریاں ہیں اور آگے پولیس کا سنتری اضافی سواری پر چالان کر دے گا۔
بالآخر دیگر مسافروں کے اصرار پر کوچوان نے نوجوان کو بھی تانگے میں بٹھا لیا۔ راستے میں پولیس کے سنتری نے تانگہ روک لیا اور مقررہ تعداد سے زیادہ سواریاں بٹھانے پر کوچوان سے بازپرس شروع کر دی۔
نوجوان نے معاملہ ختم کرنے کے لیے کوچوان کو پانچ روپے دیے کہ سنتری کو دے دو، لیکن سنتری نے رقم لینے کے بجائے اسے رشوت قرار دیتے ہوئے کوچوان کا چالان کر دیا۔
نوجوان نے کوچوان کو اپنا کارڈ دیتے ہوئے کہا کہ صبح نو بجے سول ریسٹ ہاؤس آجانا، تمہارا جرمانہ ادا کر دوں گا۔
اگلی صبح جب کوچوان وہاں پہنچا تو اسے معلوم ہوا کہ رات کا وہ نوجوان کوئی عام شخص نہیں بلکہ گورنر پنجاب سردار عبدالرب نشتر ہیں۔
روایت کے مطابق، نشتر صاحب نے رات کا پورا واقعہ متعلقہ افسران کے سامنے بیان کیا، سنتری کو طلب کیا اور اس کی فرض شناسی سے متاثر ہو کر اسے ترقی دینے اور تھانہ صدر گوگیرہ کا ایس ایچ او تعینات کرنے کا حکم دیا۔ دوسری طرف کوچوان کا جرمانہ بھی اپنی جیب سے ادا کیا۔
اس واقعے کا اصل سبق کیا ہے؟
ایک طرف قانون کی پاسداری کرنے والا سپاہی تھا، جس نے پانچ روپے کی خاطر اپنا فرض نہیں چھوڑا، اور دوسری طرف ایک ایسا حکمران تھا جس نے قانون کی خلاف ورزی پر اپنی حیثیت کا فائدہ اٹھانے کے بجائے جرمانہ ادا کرنا بہتر سمجھا۔
آج ہمارے معاشرے کو ایسے ہی حکمرانوں، ایسے ہی افسران اور ایسے ہی فرض شناس اہلکاروں کی ضرورت ہے، جہاں عہدہ طاقت دکھانے کے لیے نہیں بلکہ انصاف قائم کرنے کے لیے استعمال ہو۔
عہدے بڑے ہونے سے کوئی بڑا نہیں بنتا، کردار بڑا ہونا چاہیے!