ایک طرف غیرت کے نام پر بہنوں، بیٹیوں کے ق، ت، ل اور دوسری طرف اس شخص نے مثال قائم کر دی۔۔۔

ایک طرف غیرت کے نام پر بہنوں بیٹیوں کے ق۔ت۔ل تو دوسری جانب اس شخص نے مثال قائم کردی ۔ واقعہ کچھ سال پرانا ضرور ہے مگر نہایت سبق آموز ہے ۔۔۔۔ صوبہ پنجاب کے کسی شہر کے اس بزرگ کی بیٹی نے پسند کی شادی کر لی ، والد کو دکھ ہوا ، رشتہ داروں نے طعنے بھی دیے ، کچھ “غیرت مندوں” نے اکسایا بھی کہ غیرت کا مظاہرہ کرو انہیں زندہ نہ چھوڑو مگر باپ نے کہا رب دا جی اے ، اپنی دھی اے ، کیویں مار دیاں ۔۔۔ بیٹی نے گناہ نہیں کیا تھا شادی کی تھی ، 2 یا تین سال گزرے یہ شخص نانا بن گیا تو بیٹی اور نواسی کی محبت نے جوش مارا ، ادھر بیٹی بھی اپنی بہنوں کے ذریعے کوششوں میں لگی تھی کہ والد کو منا لے ، آخر وہ دن آگیا جب اس شخص نے بیٹی اور داماد کو گھر آنے کی اجازت دے دی ، بیٹی آئی اور اپنے والد کے سینے سے لگ گئی ، اس لمحے سارے گلے شکوے دور ہو گئے ، یہ خاتون آج ہنسی خوشی میکے اور سسرال کے ساتھ اپنی زندگی گزار رہی ہے ۔۔۔

Leave a Comment