
پاکستانی فلم انڈسٹری کی خوبرو اداکارہ نادرہ کی زندگی اور المناک انجام
پاکستانی فلم انڈسٹری کی تاریخ میں کئی ایسی اداکارائیں گزری ہیں جنہوں نے مختصر عرصے میں اپنی خوبصورتی، فنکارانہ صلاحیتوں اور منفرد اندازِ اداکاری کی بدولت لاکھوں شائقین کے دلوں میں جگہ بنائی۔ انہی میں ایک نمایاں نام ماضی کی معروف فلمی اداکارہ ملکہ فرح المعروف نادرہ کا بھی ہے، جن کی زندگی کا چراغ انتہائی کم عمری میں گل کر دیا گیا۔
اداکارہ نادرہ 22 نومبر 1968ء کو لاہور میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے 1986ء میں پاکستانی فلم انڈسٹری میں قدم رکھا۔ معروف ہدایت کار یونس ملک نے انہیں اپنی فلم آخری جنگ میں متعارف کروایا، تاہم ان کی فلم نشان پہلے ریلیز ہوئی، جسے ان کی پہلی ریلیز ہونے والی فلم قرار دیا جاتا ہے۔
نادرہ نے اپنی دلکش شخصیت، خوبصورت رقص اور عمدہ اداکاری کے باعث بہت جلد فلمی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کر لیا۔ انہوں نے اپنے دور کے نامور اداکاروں سلطان راہی، غلام محی الدین اور اسماعیل شاہ کے ساتھ کام کیا۔ خصوصاً اسماعیل شاہ کے ساتھ ان کی فلمی جوڑی کو شائقین نے بے حد پسند کیا۔
ان کی مشہور فلموں میں آخری جنگ، نشان، ناچے ناگن، بادل، میری آواز، حکومت، تحفہ، مفرور، زخمی عورت، جادوگرنی، مس اللہ رکھی، کمانڈو ایکشن، مولا بخش، گاڈ فادر اور لیلیٰ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
نادرہ نے تقریباً آٹھ برس کے فلمی سفر میں متعدد اردو اور پنجابی فلموں میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔ فلم ناچے ناگن میں ان کی اداکاری اور رقص کو خصوصی شہرت حاصل ہوئی۔
1993ء میں نادرہ کی شادی کاروباری شخصیت ملک اعجاز حسین سے ہوئی، جس کے بعد انہوں نے فلمی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ ان کے دو بچے تھے۔
6 اگست 1995ء کا دن پاکستانی فلم انڈسٹری کے لیے ایک افسوس ناک خبر لے کر آیا۔ لاہور کے علاقے لبرٹی مارکیٹ کے قریب نادرہ کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔ اس وقت ان کی عمر صرف 26 برس تھی۔ ان کے اچانک اور المناک قتل نے فلمی حلقوں اور مداحوں کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا۔
نادرہ آج اس دنیا میں موجود نہیں، لیکن ان کی فلمیں، ان کا منفرد انداز اور ان کی یادیں آج بھی پاکستانی سینما کی تاریخ کا حصہ ہیں۔ افسوس کہ ایک ایسی فنکارہ، جس کے سامنے زندگی کی بے شمار منزلیں باقی تھیں، انتہائی کم عمری میں ہمیشہ کے لیے ہم سے جدا ہو گئی۔
اللہ تعالیٰ مرحومہ کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔