
اپنی گرج دار آواز، منفرد اندازِ گفتگو اور جاندار اداکاری سے پہچانے جانے والے بھارتی اداکار نانا پاٹیکر 75 سال کی عمر میں گووا میں انتقال کر گئے۔ ان کے بیٹے ملہار نے بی بی سی مراٹھی کو والد کے انتقال کی تصدیق کی۔ ہندی اور مراٹھی سنیما کے اس معروف اداکار نے اپنے طویل فنی سفر میں تین نیشنل فلم ایوارڈز حاصل کیے۔
جمعرات کی علی الصبح نانا پاٹیکر اپنے گووا کے گھر میں بے ہوش پائے گئے، جس کے بعد انہیں فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا۔ منی پال ہسپتال کے ڈاکٹر شیکھر سالکر نے خبر رساں ادارے اے این آئی کو بتایا کہ ڈاکٹروں نے مسلسل 45 منٹ تک سی پی آر کے ذریعے انہیں بچانے کی کوشش کی، لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔
1951 میں مہاراشٹر میں پیدا ہونے والے نانا پاٹیکر نے اپنے فنی سفر کا آغاز تھیٹر سے کیا۔ اسٹیج پر برسوں کام کرنے کے دوران ان کی اداکاری اور مکالمے بولنے کا وہ مخصوص انداز نکھرا، جو بعد میں ان کی پہچان بن گیا۔ 1978 میں فلم «گمن» سے انہوں نے فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ ابتدا میں چھوٹے کردار ملے، لیکن ان کی اداکاری میں ایسی شدت تھی جو دیکھنے والوں کی توجہ کھینچ لیتی تھی۔
1989 کی فلم «پرندہ» ان کے کیریئر کا اہم موڑ ثابت ہوئی۔ اس میں انہوں نے انا نامی ایک سخت مزاج اور خطرناک گینگسٹر کا کردار ادا کیا، جس نے انہیں پورے بھارت میں شہرت دلائی۔ اسی کردار پر انہیں اپنا پہلا نیشنل فلم ایوارڈ اور فلم فیئر ایوارڈ ملا۔ اس کے بعد 1990 کی دہائی میں انہوں نے کئی ایسے کردار ادا کیے جو ان کی فنی صلاحیتوں کی مختلف جہتیں سامنے لائے۔
فلم «پرہار» میں میجر چوہان کا کردار ادا کرنے کے ساتھ انہوں نے اس کی ہدایت کاری بھی کی۔ «انگار» میں مجید خان، «ترنگا» میں وطن سے محبت کرنے والا کردار اور «کرانتی ویر» میں پرتاپ نارائن تلک کا کردار ان کی یادگار اداکاری میں شامل ہیں۔ «کرانتی ویر» کے لیے انہیں بہترین اداکار کا نیشنل فلم ایوارڈ ملا، جبکہ «اگنی ساکشی» نے انہیں تیسرا نیشنل ایوارڈ دلایا۔
نانا پاٹیکر کی اداکاری صرف بلند آواز اور سخت مزاج کرداروں تک محدود نہیں تھی۔ فلم «خاموشی» میں انہوں نے ایک ایسے شخص کا کردار ادا کیا جو سن اور بول نہیں سکتا تھا۔ اس کردار میں انہوں نے چہرے کے تاثرات اور جسمانی حرکات سے جذبات پہنچائے۔ پھر 2010 کی فلم «راج نیتی» میں ایک زیرک سیاست دان کا کردار ادا کرکے اپنی صلاحیت کا ایک اور پہلو دکھایا۔ اپنے کیریئر میں وہ کبھی سپاہی، کبھی پولیس افسر، کبھی گینگسٹر اور کبھی مزاحیہ یا المیہ کردار میں نظر آئے۔
فلموں میں کامیابی کے باوجود تھیٹر سے ان کا تعلق برقرار رہا۔ «پرش» اور «حمیدہ بائی چی کوٹھی» ان کے معروف ڈراموں میں شامل تھے۔ وہ ہندی اور مراٹھی دونوں زبانوں کے تھیٹر اور سنیما میں ایک نمایاں مقام رکھتے تھے، جبکہ ہدایت کاری اور لکھنے کے شعبوں میں بھی کام کرتے رہے۔
پردۂ سکرین سے باہر نانا پاٹیکر اپنی صاف گوئی اور سماجی سرگرمیوں کے لیے بھی جانے جاتے تھے۔ کسانوں کے مسائل ان کے دل کے قریب تھے۔ 2015 میں انہوں نے اداکار مکرند اناسپورے کے ساتھ مل کر «نام فاؤنڈیشن» قائم کی، جس نے مہاراشٹر میں کسانوں کی فلاح اور پانی کے تحفظ کے لیے کام کیا۔ وہ حکومتی پالیسیوں اور وزیروں پر کھل کر تنقید بھی کرتے تھے۔
ان کے کیریئر میں تنازعات بھی آئے۔ 2018 میں اداکارہ تنوشری دتہ نے تقریباً دس سال پہلے فلم کے سیٹ پر پیش آنے والے ایک مبینہ واقعے کے حوالے سے ان پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا۔ نانا پاٹیکر نے ان الزامات کی تردید کی۔ 2019 میں پولیس نے بتایا کہ ان کے خلاف کافی شواہد نہیں ملے۔
ان کے انتقال پر بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے ان کی متنوع اداکاری اور صاف گو شخصیت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ نانا پاٹیکر کے کردار نسلوں تک یاد رکھے جائیں گے۔ فلم «ویلکم» میں ان کے ساتھ کام کرنے والے اکشے کمار نے بھی انہیں یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی آواز، اداکاری کی شدت اور ہر کردار میں جھلکتی سچائی ناظرین کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتی تھی۔