
جنرل ضیا ء کے دور میں عام پاکستانی کی ڈیلی روٹین ،روزمرہ کی زندگی کیسی تھی؟یہ جنرل ضیاء الحق کا پاکستان تھا، جہاں عام آدمی کی روزمرہ زندگی آج کے پاکستان سے خاصی مختلف تھی۔ نہ موبائل فون تھے، نہ انٹرنیٹ اور نہ نجی ٹیلی وژن چینلز۔ شام ہوتے ہی گھروں میں پاکستان ٹیلی وژن کے سامنے محفل جمتی، ڈرامے دیکھے جاتے اور رات نو بجے سرکاری خبریں سنی جاتیں۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ تفریح کے اِس محدود ماحول میں وی سی آر تیزی سے مقبول ہورہا تھا اور لوگ کرائے پر بھارتی فلموں کی ویڈیو کیسٹیں لا کر گھروں میں دیکھتے تھے۔ دوسری طرف حکومت نے مذہبی اور سماجی زندگی پر کئی نئی پابندیاں نافذ کررکھی تھیں۔ سرکاری دفاتر میں باجماعت نماز کی ہدایات تھیں، رمضان میں سرِعام کھانے پینے پر قانونی پابندی تھی اور ٹیلی وژن پر خواتین کے لباس تک کے متعلق سرکاری احکامات جاری ہوتے تھے۔ سیاسی گفتگو اور اخباری رپورٹنگ بھی سنسرشپ سے متاثر تھی۔ تاہم اِسی دہائی میں پاکستان ہاکی کا عالمی چیمپئن بنا، ٹی وی ڈراموں نے مقبولیت حاصل کی اور شہری متوسط طبقے میں نئی صارفین کی ثقافت ابھری۔ یوں ضیاء دور کی روزمرہ زندگی میں تفریح، مذہبی تبدیلیوں اور سیاسی پابندیوں کے سات
وہ دور جب پاکستان میں تمام بھارتی میڈیا پہ پابندی تھی ۔
ٹی وی پہ ایک چینل ہوتا تھا اور نیوز کاسٹر سرپہ دوپٹہ رکھ کہ آتی تھیں
ٹی وی نشریات شام چار بجے سے رات گیارہ بجے تک ہوتی .
نشریات کا آغاز اور اختتام تلاوت کلام پاک ، حمد اور نعت سے ہوتا ۔
چوری ، زنا کی بہت سخت سزائیں تھیں اور ملک میں
مکمل امن و امان تھا ۔
ایک روپے کا بن کباب ملتا تھا اور پانچ روپے کا تو بس ایسا
بہترین برگر ملتا تھا کہ کھاتے رہ جاؤ ۔
تندور پر روٹی آٹھ آنے کی ملتی تھی اور دس روپے میں
ایک مزدور آرام سے دو وقت کا کھانا کھا لیتا تھا ۔
دوکانوں پر سوئی سے لیکر ہاتھی تک کے نرخ نامے لگے ہوتے اور مجال کہ کوئی ایک دھیلا پیسہ بھی زیادہ لے لے ۔
تمام سیاسی پارٹیوں پہ پابندی تھی اور عوام کو گمراہ کرنے والے سیاستدان جیل میں تھے ۔
سرکاری سکول فیس 10 روپے ماہانہ تھی اور پرائیوٹ
سكول فيس 30 روپے ماہانہ۔
سکول میں پڑھایا جانے والا نصاب سخت جانچ پڑتال سے گزرتا اور اسلام مخالف اور پاکستان مخالف کوئی چیز
بچوں کو نہ پڑھائی جاتی ۔
کالج میں ایک مہینہ فوجی ٹریننگ ہوتی جس میں حصہ لینے والوں کو بیس اضافی نمبر ملتے ۔
پاکستانی برانڈ کمپنیوں کو تحفظ حاصل تھا۔ملک کی اپنی پولکا آئس کریم ، آر سی کولا ، بنایا ٹوتھ پیسٹ ، فوجی کارن فليكس – ناصر صدیق گلاس ، رہبر واٹر کولر ، پرافیشنٹ موٹر کار ، يعصوب ٹرک ، پاکستان
میں عام نظر آتے
دور دراز گاؤں میں مسجد فجر اور ظہر کے درمیان سکول
کے طور پہ استعمال ہوتی ۔
تعلیم بالغاں کیلئے نئی روشنی سکول شام کو کھلتے ۔
انہی کے دور حکومت میں شریعت عدالت بنی جس میں ایک مقدمے میں سود کو حرام اور قابل سزا جرم قرار دیا
! گیا
پھر 1988 میں جنرل ضیاء الحق ایک پراسرار حادثے میں شہید ہوگئے