
کیا آپکو معلوم ہے کہ 1989 کو اپنا پہلا ون ڈے کھیلنے والے لیجنڈ سعید انور اپنے پہلے ٹیسٹ میچ کی دونوں اننگز میں 0 صفر پر آؤٹ ہوگئے تھے: جب ون ڈیز میں شاندار کارکردگی کی بناء پر انہیں ویسٹ انڈیز کے کیخلاف اقبال اسٹیڈیم میں پہلے ٹیسٹ میچ کے لیے میدان میں اتارا گیا تو دونوں اننگز میں وہ کوئی رن نہ بنا پائے تھے مگر اس وقت کے سلیکٹرز اور کپتان نے ان پر اپنا اعتماد قائم رکھا پھر تیسرے ٹیسٹ میں 169 کی اننگز کھیل گئے انہوں نے محض 55 ٹیسٹ ہی کھیلے ،کرکٹ مبصرین کہتے ہیں کہ وہ ان فٹ رہتے تھے جبکہ انضمام الحق کے مطابق وہ اپنے مزاج کے آدمی تھے ، پریکٹس سیشن نہیں لیتے تھے ایک مرتبہ ایک معروف کوچ نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ جھولتی سوئنگ ہوتی گیندوں کو نہ چھیڑا کرو تو سعید بھائی نے انہیں ہاتھ کے اشارے سے منع کردیا کہ انہیں سب معلوم ہے ، ہوسکتا ہے کوچ یہ بات دل پر لے گیا ہو ،بہرحال 55 ٹیسٹ میچز میں 11 سنچریاں اور 250 ون ڈے میچوں میں سعید انور نے 20 سنچریاں اسکور کیں ،یہ سنچریاں اس زمانے کی ہیں جب پوری دنیا کے خونخوار باولرز ہوا کرتے تھے جنکی جھولتی سوئنگ ہوتی گیندوں پر وکٹ پر ٹکنا اتنا آسان نہ تھا، اور ہاں تب فرینڈلی پچز بھی نہیں بنائی جاتی تھیں۔
سعید انور کرکٹ کی دُنیا کا پُر اسرار کھلاڑی سعید انور کا موازنہ اگر اسکے ہم عصر اوپنر بلے بازوں سے کریں ،جیسے ٹنڈولکر اور برائن لارا تو سعید انور ان دونوں سے زیادہ بہتر ٹائمر تھا ،تب ٹنڈولکر اور سعید انور کے درمیان زیادہ سینچریز بنانے کا مقابلہ بھی چل رہا تھا اور سعید انور نے ٹنڈولکر کو باوجود کم میچز کے اپنے پیچھے لگایا ہوا تھا، سعید انور کم میچز کھیلا کرتے تھے ، معلوم نہیں اسکی کیا خاص وجہ تھی ؟جبکہ ٹنڈولکر اپنے پورے کیریئر میں کبھی بھی ڈراپ نہیں ہوئے تھے ، چاہے آوٹ آف فارم ہی کیوں نہ ہوں ، سعید انور نہ پریکٹس کرتا تھا ، نہ نیٹ کرتا تھا نہ فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلتا نہ کوئی لیگ وغیرہ اسکے باوجود جب وہ کرکٹ گراونڈ پر اترتا وکٹ کے چاروں اطراف ایسے دلکش اسٹروکس کھیلتا کہ بڑے بڑے بلے باز حیران رہ جاتے ، سعید انور نے ایک مرتبہ خود کہا تھا کہ مجھے فوراً پتہ چل جاتا تھا کہ باولر اب کیا کرنیوالا ہے کونسی گنید کروائے گا،یہ ایک فطری صلاحیت تھی جو ہر کسی کے پاس نہیں ہوتی ، سعید انور نے جلد ہی کرکٹ چھوڑ دی تو ٹنڈولکر ان سے آگے بڑھ گئے ، آج بھی سعید انور کی پرانی اننگز دیکھ کر بہت لطف آتا ہے ، پاکستان کرکٹ کو پھر اسکے بعد کوئی سعید انور نہیں مل سکا اب سعید انور دعوت تبلیغ میں اپنا زیادہ وقت صرف کرتے ہیں اللہ انہیں صحت و تندرستی سے نوازیں ۔۔۔
میدان پر دنیا کو رقص کرانے والا بلے باز، اپنی ننھی بیٹی کی موت کے بعد اندر سے ٹوٹ گیا!”
2001 کا سال… پاکستان کے لیجنڈری اوپنر سعید انور اپنی شاندار فارم میں تھے اور دنیا کے بہترین بائولرز کے لیے خوف کی علامت بنے ہوئے تھے۔ لیکن اس دوران ان کی زندگی میں ایک ایسا طوفان آیا جس نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔
ان کی ڈھائی سال کی پیاری بیٹی بسمہ شدید بیمار ہو گئی اور علاج کے باوجود زندگی کی جنگ ہار گئی۔ ایک باپ کے لیے اپنی ننھی جگر کے ٹکڑے کو اس طرح کھو دینا ناقابلِ برداشت صدمہ تھا۔
بیٹی کی موت کے غم نے سعید انور کو اندر سے بالکل توڑ دیا۔ وہ کرکٹ کے میدان سے دور ہو گئے اور طویل عرصے تک ڈپریشن اور گہرے صدمے میں رہے۔ اس واقعے کے بعد ان کی زندگی کا رخ ہمیشہ کے لیے تبدیل ہو گیا، اور انہوں نے اپنی پوری توجہ دین اور بقیہ زندگی فلاحی کاموں کے لیے وقف کر دی۔
جب وہ دوبارہ کرکٹ میں لوٹے، تو ان کا انداز اور ترجیحات بالکل بدل چکی تھیں — وہ اب صرف ایک کرکٹر نہیں بلکہ ایک ٹوٹے ہوئے دل والے انسان تھے جس نے دنیا کی سب سے بڑی دولت کھو دی تھی۔
اولاد کا دکھ دنیا کا سب سے بڑا دکھ ہے… اللہ کسی بھی باپ کو یہ دن نہ دکھائے!