جگا ڈاکو تھاکون؟

جگا ڈاکو پیدا 1901 میں ضلع قصور کی تحصیل چونیاں کے ایک گاؤں برج رن سنگھ والا میں ایک زمیندار گھرانے میں ہوا اور پیدائشی نام جگت سنگھ تھا جو بعد میں پہلے جگا جٹ اور پھر جگا ڈاکو پڑا۔۔۔
جگے کی پیدائش سے پہلے اسکے 6 بہن بھائی دوران زچگی یا پیدائش کے چند دنوں بعد ہی فوت ہو جاتے تھے تو جگا کی زندگی روایت کے مطابق مقامی درویش ” سنت اندر سنگھ” کی دعا سے بچی تو خوب خوشیاں منائی گئی جو مشہورِ گانے
” جگا جمیا تے ملن ودھایا” کی شروعات بھی ہیں۔
اور یہی جگہ اگے چل کر دیسی رابن ہڈ بنا۔

جگت سنگھ کا والد سردار مکھن سنگھ اسکے بچپن میں فوت ہوگئے تو اسکی پرورش ماں بھاگن اور چچا روپ سنگھ نے کی۔
جگا ڈاکو کسی غریب گھرانے سے ہرگز نہ تھا بلکہ وہ 10 مربع ” 250 ایکڑ” زرخیز زمین کا مالک اور بچپن سے ہی وہ اکھاڑے اور کشتی کا شوقین تھا اور وہی اسکی دوستی سوہن تیلی ( تیلی ذات اجکل پنجاب خود کو ملک بھی کلہواتی ہے) سے ہوئی جو آخری دم تک قائم رہی
اکلوتا بیٹا ہونے کے باعث جگت سنگھ کی شادی جوانی چڑھتے ہی قریبی گاؤں تلونڈی میں اندر کور سے ہوئی تو بیٹی گلاب کور پیدا ہوئی۔

جگہ فطرتا انتہائی خوددار، نڈر، بہادر اور انگریز سرکار کی رعب کو نہ ماننے والا جوان تھا اور ایک دن وہ اپنی زمینوں کا ریکارڈ/ فرد لینے پٹواری کے پاس گیا تو رائج زمانے کے مطابق نہ پٹواری کی خوشامد کی اور نہ ہی رشوت۔ جس پر پٹواری نے فرد دینے سے انکار کر دیا تو جگے نے غصے میں نہ صرف اسکی دھلائی کی بلکہ سرکاری ریکارڈ بھی بکھیر دیا تو وہ ایک طرف مقامی کسانوں کا ہیرو بننے لگا تو دوسری طرف انگریز سرکار نے اسے باغی قرار دیا۔
جگے کی مقبولیت تیزی سے بڑھنے لگی تو قریبی گاؤں کے ذیلدار نے حسد میں اسے پولیس کو پکڑوا کر 4 سال کے لیے جیل میں بند کروا دیا۔
جب وہ سزا کاٹ کر جیل سے باہر آیا تو چونیاں کے قریب بھائی پھیرو میں ایک چوری کی واردات میں ذیلدار اور پولیس انسپیکٹر اصغر علی نے جگے کو اس جھوٹے کیس میں نامزد کر دیا اور طلبی کے نام پر جب بے جا تنگ کیا جانے لگا تو جگہ مفرور ہو گیا اور کنگن پور کے قریب جب پولیس سپاہی سے سامنا ہوا تو پولیس کی رائفل چھین کر ایک سپاہی کام تمام کردیا اور یہی سے وہ سرکاری باغی/ outlaw قرار پایا۔

عام ڈاکو یا لٹیروں کے برعکس جگے ڈاکو کا تعلق ایک کھاتے پیتے گھرانے سے تھا۔ اس نے اپنا ایک گینگ بنایا جس میں اپنے بچپن کے مسلمان دوست سوہن تیلی، بنتا سنگھ، جھنڈا سنگھ، ٹھاکر سنگھ اور ایک باورچی لالو نائی کو شامل کیا۔
اس زمانے میں سنیارے اور ساہو کار لوگوں کو بھاری سود پر قرضے دیتے اور عدم واپسی پر ان کی زمینوں اور مال پر قبضہ کر لیتے اور یوں جگے نے اپنا پہلا بڑا ڈاکا لاہور اور قصور کی سرحد پر واقع گاؤں گھمیاری کہ ایک امیر سنار کے گھر مارتے ہوئے سونا لوٹا اور قرض کے تمام رجسٹروں کو اگ لگا دی جس سے لا تعداد غریب کسانوں کی سود در سود قرضوں سے جان چھوٹی۔
جگا ڈاکو چوری کی وارداتوں میں لوٹا ہوا خزانہ بیواؤں، غیر کسانوں اور بے سہارا یتیم بچیوں کی شادیوں میں بانٹ دیتا تھا جو اسے ایک دیسی ساختہ روبن ہڈ بناتی تھی اور وہ مقامی عوامی سطح خصوصاً کسانوں میں بہت مقبول ہونے لگا۔
اس نے لائل پور ( موجودہ نام فیصل آباد ) قصور چنیوٹ اور لاہور کی اضلاع میں انگریز سرکار کی رٹ کو چیلنج کیے رکھا اور اس کا طریقہ واردات کافی انوکھا تھا۔
جگا جب بھی ڈاکہ ڈالتا تو وہاں ٹیلی گراف کی تاریں اکھاڑ کر رابطے ختم کردیا اور یہی سے گانے کے بول ۔۔۔

“جگے ماریا لائل پور ڈاکہ، تاراں کھڑک گئیاں”
کا جنم ہوا۔
جب قصور کے مشہور مسلمان باغی ” ملنگی ڈاکو” 1931 میں مارا گیا تو اسکی غمزدہ نابینا ماں سے تعزیت کے لیے جگا ڈاکو اسکے گاؤں سدھو پور آیا تو دوپہر کا کھانا اپنے با اعتماد باورچی لالو نائی سے بنانے کو کہا تو موقعہ کی تاک میں پہلے سے ہی بیٹھے لالو نائی کو یہ وقت مناسب لگا اور اس نے جگے پر لگا انگریز سرکار کا بھاری انعام اور جاگیر کے لالچ میں اپنے بھائیوں کو بلایا اور کھانے میں جگے اور اسکے دوست بنتا سنگھ کو کچھ ایسا ملا کر کھلایا کہ وہ کھاتے ہی بے سدھ ہوگئے۔

روایت کے مطابق یہ دونوں بوہڑ / برگد کے درخت نیچے سورہے تھے تو لالو نائی اور اسکے بھائیوں نے کلہاڑیوں/ گولیوں سے بے درپے وار کرکے ان دونوں کا کام تمام کیا تو یہ آوازیں سن کر جگے کا جگری یار سوہن تیلی آیا تو نائیوں نے اسے بھی گولی سے نشانہ بنا ڈالا۔
اس انجام پر پنجابی لوگ گیت کے بول ہیں۔۔۔۔

“جگا وڈھیا بوہڑ دی چھاویں، نو من ریت بھج گئی، نائیاں نے وڈھ چھڈیا جگا سورما”
ترجمہ: جگے کو برگد درخت کے سائے نیچے کاٹ دیا گیا تو اسکے خون سے نو من ریت بھیگ گئی۔ نائیوں نے بہادر جگے کو دھوکے سے مار ڈالا۔

لیکن قدرت نے لالو نائی سے عجیب انتقام لیا۔ جب وہ یہ تینوں ڈاکوؤں کی میتیں بیل گاڑی پر لاد کر چونیاں تھانے پہنچا تو سرکار اپنے وعدے سے مکر گئی اور قانونی داؤ پیج لگا دیا۔
انگریز سرکار کا کہنا تھا یہ انعام زندہ جگے کی صورت میں ملنا تھا اگر تم ہمیں اطلاع دیتے ہو اور ہم خود اسے پکڑتے ہیں لیکن تم نے قانون ہاتھ میں لے کر تین افراد کی جان لی ہے۔
ڈاکٹر سید اختر جعفری کی تحقیق کے مطابق لالو نائی کو انعام اور جاگیر کے وعدے کے نام پر چند ایکڑ بنجر زمین پکڑا دی گئی اور ساتھ چند سو روپے بھی ملے اور ایک انگریز سرکار کی طرف سے سرٹیفیکیٹ بھی تھما دیا گیا۔
لیکن لالو نائی کی اس بغاوت پر جب مقامی کسانوں اور لوگوں میں افرہ تفری کا امکان پیدا تو انگریز سرکار نے لالو نائی کو تین افراد کی جان لینے کے مقدمے میں گرفتار کر لیا تو دوسری طرف لالو نائی کے پورے خاندان کو اپنا گاؤں سدھو پور چھوڑ کر جانا پڑا کیونکہ مقامی لوگوں نے ان کا سماجی بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر دیا تھا اور نقص امن کا امکان پیدا ہوگیا تھا۔

لالو نائی گرفتار ہوا اور طویل عرصہ جیل کی چکی پیستے ہوئے گزاری اور تقسیم ہند 1947 کے اس پاس جب جیل سے لگ بھگ 16 سال بعد رہا ہوا تو اس کی کوئی عزت نہیں تھی اور وہ انتہائی کسمپرسی پرسی اور خوف و گمنامی کی حالت میں دنیا سے گیا.
یہی وجہ ہے کہ آج 100 سال گزرنے کے باوجود بھی جگے جٹ کو تو لوگ لوک گیتوں میں ایک سخی، بہادر سورما کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جبکہ لالو نائی کو تاریخ میں ایک ایسے کردار کے طور پر لکھا گیا جس نے انگریزوں کے انعام کے لالچ میں اپنے ہی محسن سے غداری کی اور بدلے میں انعام کے بجائے قید اور رسوائی سمیٹی۔

باقی جگے ڈاکو کی بیٹی گلاب کور تقسیم ہند کے وقت مشرقی پنجاب چلی گئی اور 2019 میں 90 سال سے زائد عمر میں فوت ہوئے اور پوری زندگی مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز کو اپنے بہادر باپ کی پگڑی، تصاویر اور خاندانی یادیں دکھاتی رہیں۔

جگے جٹ کی داستان کو موسیقی میں گورداس مان، سدھو موسے والا، ابرار الحق، شوکت علی عالم لوہار اور میرے خیال میں سب سے خوبصورتی سے عارف لوہار نے گایا اور پاکستان اور انڈیا دونوں میں لا تعداد فلمز اور ڈرامے اس کردار پر بن چکے ہیں۔

اب اپ مجھے بتائیں کیا اس سے پہلے اپ کو جگے ڈاکو کی کہانی کا پتہ تھا یا یہ قاسم سلیم کی تحریر سے پتہ چلا ہے ؟

نوٹ: اس تحریر کو لکھنے میں درجہ ذیل کتابوں کی مدد لی گئی ہے۔
1:جگا ڈاکو ، مصنف ڈاکٹر سید اختر جعفری
2: انسائکلوپیڈیا اف انڈین لٹریچر جلد اول، مصنف اماریش دیتا
3: دا نکسل موومنٹ ان پنجاب، مصنف پرمجیت ایس جج
اور ہرنیک سنگھ گھڑواں کے تحقیقاتی مضمون ” جگے جٹ دے جیون دا سنکھیپ لیکھ سے مدد لی گئی ہے
Disclaimer: This post is based on media reports and is for informational purposes only. Details may change as more information becomes available.

Leave a Comment