سینے پر گولی لگنے کے باوجود نمازیوں کو بچانے والے امین حسین

9 اگست 2013 کو عید کے روز اسلام آباد کے علاقے بھارہ کہو میں واقع مسجد علی ابنِ ابی طالب کے احاطے میں ایک مسلح خودکش حملہ آور داخل ہوا اور اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔ اُس وقت 35 سالہ سکیورٹی گارڈ امین حسین اپنی ڈیوٹی مکمل کرنے کے بعد نماز کے لیے وضو کررہے تھے۔

حملہ آور کی چلائی ہوئی ایک گولی امین حسین کے سینے میں لگی، لیکن شدید زخمی ہونے کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ حملہ آور مسجد کے صحن میں آگے بڑھا تو ایک نمازی نے اسے روک کر پکڑ لیا۔ اس دوران حملہ آور نے اپنی خودکش جیکٹ دھماکے سے اڑانے کی کوشش کی، مگر جیکٹ نہ پھٹ سکی۔

اسی مختصر موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زخمی امین حسین نے اپنی بندوق سنبھالی اور حملہ آور کو پیچھے سے سر میں گولی مار کر وہیں ہلاک کردیا۔ یوں مسجد میں موجود لوگوں کی جانیں بچ گئیں، مگر سینے میں لگی گولی سے امین حسین کا بہت زیادہ خون بہہ چکا تھا۔ انہیں پولی کلینک ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں پہنچنے پر ڈاکٹروں نے ان کی وفات کی تصدیق کردی۔

امین حسین کا تعلق کوہاٹ کے گاؤں میٹھا سے تھا۔ وہ فرنٹیئر کور سے ریٹائر ہونے کے بعد اپنے بچوں کو بہتر زندگی دینے کے لیے سکیورٹی گارڈ کی ملازمت کررہے تھے۔ اپنے پیچھے وہ اہلیہ اور چار بیٹے چھوڑ گئے؛ سب سے بڑا بیٹا 13 سال جبکہ سب سے چھوٹا صرف ڈیڑھ سال کا تھا۔ ایک باپ نے اپنی جان دے دی تاکہ مسجد میں موجود دوسرے باپ زندہ اپنے بچوں کے پاس واپس جاسکیں۔

ماخذ: Express Tribune، Dawn⁠

Leave a Comment