گیارہ سالہ عمر نے سب کو حیران کردیا۔۔۔

5 سالہ معصوم بچہ زین اللہ اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے 70 میٹر (230 فٹ) گہرے اور خشک بورویل میں جا گرا۔
کنواں صرف 30 سینٹی میٹر (12 انچ) چوڑا ہونے کی وجہ سے کوئی بھی بالغ شخص نیچے نہیں جا سکتا تھا، جبکہ ننھا زین اللہ خوف اور کم سنی کی وجہ سے نیچے سے بھیجی گئی رسی باندھنے میں ناکام رہا۔ تین دیگر بچوں نے بھی نیچے جانے کی کوشش کی لیکن آکسیجن کی کمی کے باعث انہیں واپس بلانا پڑا۔
ایسے نازک حالات میں 11 سالہ حضرت عمر نامی بچے نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر 230 فٹ گہرے تاریک اور تنگ کنویں میں اترنے پر آمادگی ظاہر کی۔ پہلی ناکام اور دردناک کوشش کے باوجود اس ننھے ہیرو نے ہمت نہ ہاری اور دوسری کوشش میں
بالآخر گہرائی تک پہنچ کر زین اللہ کو بحفاظت تھام لیا۔ زمین پر موجود سینکڑوں افراد کی حبس دم سانسوں کے درمیان رسیوں کی مدد سے دونوں بچوں کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا، اور اس معجزاتی بچاؤ نے انسانیت کی ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔

Leave a Comment