ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی محبتیں اور شادیاں۔۔۔۔

ہم علامہ محمد اقبالؒ کو عموماً ایک عظیم شاعر، فلسفی اور مفکر کے طور پر جانتے ہیں، لیکن اس غیر معمولی شخصیت کی نجی زندگی میں بھی ایسے موڑ آئے جنہیں پڑھ کر انسان کچھ دیر کے لیے رک جاتا ہے۔ اقبالؒ کی زندگی صرف کتابوں، شاعری اور فلسفے کی کہانی نہیں تھی بلکہ اس میں رشتے، جدائیاں، محبت، ذمہ داریاں اور ایسے جذبات بھی شامل تھے جن کی مکمل تصویر آج بھی ہمارے سامنے نہیں۔ اقبالؒ کی ازدواجی زندگی کا آغاز کم عمری میں خاندانی بندوبست کے تحت کریم بی بی سے شادی سے ہوا، جو ایک کشمیری خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ بعد میں دونوں کے درمیان فاصلے پیدا ہوئے، لیکن اقبالؒ نے اپنی اولاد اور سابقہ اہلیہ کی مالی ذمہ داریوں سے خود کو الگ نہیں کیا۔ ان کے ہاں میر اج بیگم اور ڈاکٹر جاوید اقبال سمیت اولاد ہوئی، جبکہ ایک بیٹے کے کم عمری میں انتقال کا بھی ذکر ملتا ہے۔ لیکن اقبالؒ کی زندگی کا ایک اور پہلو اس وقت سامنے آتا ہے جب وہ یورپ پہنچے۔ 1907ء میں جرمنی کے شہر ہائیڈل برگ میں ان کی ملاقات ایما ویگناسٹ نامی جرمن خاتون سے ہوئی، جو انہیں جرمن زبان سکھاتی تھیں۔ ایما کسی یونیورسٹی کی پروفیسر نہیں بلکہ زبان کی استاد اور اقبالؒ کی جرمن زبان کی رہنما تھیں، اور یہی ملاقات بعد میں خط و کتابت کے ایک ایسے سلسلے میں بدل گئی جس نے اقبالؒ کی زندگی کا ایک خاموش باب بنا دیا۔ آج اقبالؒ اور ایما کے درمیان لکھے گئے متعدد خطوط اور پوسٹ کارڈز محفوظ ہیں، جن سے کم از کم اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ دونوں کے درمیان ایک گہری ذہنی اور جذباتی مانوسیت پیدا ہوئی تھی، اگرچہ دستیاب خطوط مکمل نہیں ہیں، اس لیے اسے قطعی طور پر ایک روایتی عشقیہ داستان قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ اقبالؒ نے جرمنی سے واپسی کے بعد بھی ایما سے رابطہ رکھا اور برسوں تک خط و کتابت جاری رہی، یہاں تک کہ ان خطوط کا سلسلہ 1930ء کی دہائی تک پہنچتا ہے۔ اسی یورپی دور میں اقبالؒ کی ملاقات ایک اور باصلاحیت خاتون عطیہ فیضی سے بھی ہوئی، جن سے ان کی پہلی ملاقات لندن میں یکم اپریل 1907ء کو ہوئی تھی۔ عطیہ فیضی تعلیم یافتہ اور ذہین خاتون تھیں اور اقبالؒ کے ساتھ ان کی گفتگو اور خط و کتابت زیادہ تر علمی، فکری اور ادبی نوعیت کی تھی۔ یوں اقبالؒ کی یورپی زندگی میں دو مختلف خواتین کے ساتھ دو الگ نوعیت کے تعلقات نظر آتے ہیں؛ ایما کے ساتھ جرمن زبان، ذاتی قربت اور خط و کتابت کا پہلو نمایاں تھا جبکہ عطیہ فیضی کے ساتھ علمی اور فکری دوستی زیادہ نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ لیکن اقبالؒ کی زندگی کا اصل گھریلو باب ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔ بعد کے برسوں میں ان کی زندگی میں سردار بیگم آئیں، جن سے ان کا نکاح ہوا اور جن کے ساتھ ازدواجی زندگی نے کئی نشیب و فراز دیکھے۔ اقبالؒ اور سردار بیگم کے تعلق کی تاریخ میں مختلف سوانحی ذرائع میں تاریخوں کے حوالے سے معمولی اختلافات ملتے ہیں، اسی لیے ہر واقعے کو ایک ہی تاریخ کے ساتھ قطعی انداز میں بیان کرنا درست نہیں۔ ان کے ہاں 1924ء میں جاوید اقبال پیدا ہوئے، جو آگے چل کر پاکستان کے معروف قانون دان، فلسفی اور سابق چیف جسٹس بنے، جبکہ 1930ء میں ان کی بیٹی منیرہ بیگم پیدا ہوئیں۔ اقبالؒ کی زندگی میں ایک اور شادی مختار بیگم سے بھی ہوئی، جن کے بارے میں عام سوانحی ذرائع شادی کا زمانہ 1914ء کے آخر میں بتاتے ہیں۔ مختار بیگم زیادہ عرصہ زندہ نہ رہ سکیں اور اکتوبر 1924ء میں بچے کی ولادت کے دوران انتقال کر گئیں، جبکہ ان کا نومولود بیٹا بھی زیادہ عرصہ زندہ نہ رہ سکا۔ یہ واقعہ اقبالؒ کی ذاتی زندگی کے ان المناک واقعات میں سے تھا جن کے بارے میں عام طور پر بہت کم گفتگو کی جاتی ہے۔ پھر 1935ء میں سردار بیگم بھی دنیا سے رخصت ہوگئیں، اور یوں اقبالؒ کی زندگی کا گھریلو سفر بھی ایک خاموش اداسی کے ساتھ اپنے اختتام کی طرف بڑھنے لگا۔ ان تمام واقعات کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اقبالؒ کی شخصیت صرف ان کی شاعری کے اشعار میں قید نہیں تھی؛ وہ بھی ایک انسان تھے، جنہوں نے رشتوں کی خوشی، فاصلے کی تکلیف، جدائی کا دکھ، اولاد کی ذمہ داری اور زندگی کے پیچیدہ جذبات کو قریب سے محسوس کیا۔ ایما ویگناسٹ کے خطوط ہوں یا عطیہ فیضی کے ساتھ فکری گفتگو، کریم بی بی کے ساتھ ابتدائی ازدواجی زندگی ہو یا سردار بیگم اور مختار بیگم کے ساتھ بعد کے رشتے، ہر باب اقبالؒ کی زندگی کا ایک مختلف رنگ دکھاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جب ہم اقبالؒ کو صرف ’’شاعرِ مشرق‘‘ کے طور پر پڑھتے ہیں تو ان کی شخصیت کا ایک بڑا انسانی پہلو ہماری نظروں سے اوجھل رہ جاتا ہے۔ ان کی شاعری میں عشق، جدائی، خودی اور انسان کے باطن کی جو گہرائیاں نظر آتی ہیں، ان کے پیچھے ایک ایسا انسان بھی موجود تھا جو اپنی ذاتی زندگی کے دکھوں اور خوشیوں سے گزرتا ہوا اپنے عہد کا عظیم مفکر بن رہا تھا۔ اقبالؒ کی نجی زندگی کے بارے میں سب سے خوبصورت بات شاید یہی ہے کہ اس کے ہر واقعے کو سنسنی یا افسانہ بنانے کے بجائے اسے انسانی زندگی کے ایک پیچیدہ تجربے کے طور پر دیکھا جائے، کیونکہ محفوظ خطوط اور سوانحی شواہد ہمیں مکمل کہانی نہیں بلکہ اس زندگی کی کچھ جھلکیاں دکھاتے ہیں، اور انہی جھلکیوں میں ہمیں شاعرِ مشرق کے پیچھے چھپا ہوا ایک حساس، ذمہ دار اور جذبات رکھنے والا انسان نظر آتا ہے۔
ڈسکلیمر:
یہ معلومات آن لائن ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں اور صرف اور صرف معلوماتی مقاصد کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔ اس پوسٹ کا مقصد کسی فرد، ادارے، نظریے یا واقعے کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا یا کسی مخصوص نقطۂ نظر کی تائید کرنا نہیں۔ قارئین و سامعین سے گزارش ہے کہ وہ اس مواد کو اپنی صوابدید اور فہم کے مطابق دیکھیں

Leave a Comment