جب ایک فلم اسکرپٹ کے بغیر بنی اور سپر ہٹ ہوگئی۔۔۔

بِندی پج گئی پسینے نال
تے کھل گئے کنڈلاں والے وال

کچھ ایسے ہی بول تھے ایک سپر ہٹ گانے کے جب ایک محبوبہ ہیروئن ممتاز تھانے میں ہیرو سے ملنے جاتی ہے وہ وہیں یہ گانا شروع ہوجاتا ہے۔ یہ عجیب و غریب سچوئشن، موقع مناسبت سے بلکل پرے، ذرا ہٹ کے گانا پکچرائز کرنے والے ہدایت کار کا نام بشیر رانا۔ اور یہ فلم تھی چڑھدا سورج۔ لیکن جتنی عجیب سچوئشن اس گانے کی کہانی ہے اس سے بھی زیادہ عجیب و دلچسپ اس فلم کی پروڈکشن کی کہانی ہے جس کو خود رائٹر ناصر ادیب سناتے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ یہ وہ دور تھا جب میرے پاس کام اتنا زیادہ تھا کہ کوئی نیا کام دینے کے لیے آنے والوں کو میں 6 مہینے بعد کا ٹائم دیتا تھا۔ میرے پاس اس وقت 54 سے زائد فلمیں تھیں جن کی کہانی میں لکھ رہا تھا۔ ایک روز میں لکشمی چوک کے پاس رائل پارک سے نکلا، وہاں ایک تندور اور ڈھابہ ٹائپ ہوتا تھا جہاں اکثر باہر سے آنے والے کچھ فنکار، رائٹر اور پردیسی حضرات بھی کھانا کھایا کرتے تھے۔ وہاں ایک شخص کھانا کھا رہا تھا جیسے ہی اس نے مجھے دیکھا اور فوراً بھاگا اور ایسے بھاگا کہ ہاتھ میں سالن اور روٹی تھامے ہوئے تھا۔ وہ میرے پاس آئے، روٹی سالن ساتھ کھڑی گاڑی کے بونٹ پر رکھی۔ اور ہاتھ جوڑ لیے۔ کہتا ناصر صاحب میرے جڑے ہاتھوں کی لاج رکھنا۔ میں نے پوچھا ہوا کیا ہے۔ ایسا کیوں کر رہے۔ کہتا میں اک ہدایتکار ڈائریکٹر ہوں۔ کتنے عرصے سے پروڈیوسرز کے پیچھے پڑا ہوں لیکن وہ انکار کر رہے ہیں۔ لیکن پھر ایک پروڈیوسر نے مجھ سے پیچھا چھڑانے کی خاطر مجھے کہا کہ تو ناصر ادیب کولوں کہانی لکھوا لیا میں تینوں فلم دے داں گا۔ اس لیے ناصر صاحب میرے جڑے ہاتھ دیکھیں۔ میں نے اس پروڈیوسر کو کہا کہ ناصر ادیب نے مجھے 6 مہینے پہلے ہی کہانی دے دی تھی۔ اور پروڈیوسر نے ہاں کردی۔ اب تین دن بعد شوٹنگ ہے۔ کچھ کریں۔

ناصر ادیب بتاتے ہیں کہ میں سن کر ہل گیا۔ یہ بندہ کون ہے۔ اور اس نے کیا کردیا ہے۔ اسی اثناء میں اس نے جیب سے 60 ہزار روپے نکال کر میرے ہاتھ میں دے دئیے۔ تب میں ایک فلم کا 60 ہزار روپے معاوضہ لیا کرتا تھا۔ وہ کہتا ناصر صاحب میری 7 بیٹیاں ہیں، جن کی شادیوں کے لیے میرے پاس کوئی پیسہ نہیں۔ مہربانی کرو۔ اب یہ سن کر میں سوچ میں پڑگیا۔ وہ کہتا فلم میں سلطان راہی مصطفیٰ قریشی کاسٹ ہیں دونوں نے لڑنا بھی ہے، لوگ دیکھیں آئیں گے۔ آپ نے بس یہ بتا دینا ہے کہ وہ لڑیں گے کس بات پر! خیر اس کی بیٹیوں کا سوچ کر میں نے کہا تو جا 3 دن بعد شوٹنگ ضرور ہوئے گی۔

ناصر ادیب کہتے ہیں کہ میں اسے شوٹنگ سے پہلے سچوئشن دیتا جاتا تھا اور وہ شوٹ کرتا جاتا تھا۔ اس طرح بغیر اسکرپٹ کے وہ فلم تیار ہوئی۔ اور فلم ریلیز ہونے کے بعد سپر ہٹ ہونے کی پٹری پر چل نکلی، اور وجہ یہ تھی کہ یہ وہ دور تھا جب فلمیں گانوں کی وجہ سے بھی ہٹ ہوتی تھیں۔ اور اس فلم کا وہ ہٹ گانا تھا جس کا شروع میں ذکر ہوا۔ وہ بتاتے ہیں کہ پوری فلم کا یہ وہ واحد سین تھا جس کی سچوئشن مجھے بھی سمجھ نہیں آرہی تھی، ڈائریکٹر نے کہا کہ سر میں خود اس کی کوئی سچوئشن بنا لوں، تو میں نے کہا ہاں بنا لو۔ تو اس نے خودی بنا لی تو جب میں خود شو دیکھنے گیا تو میں خود حیران رہ گیا کہ کیا لنک کے ساتھ یہ پوری کہانی بنائی ہے اور کہا ہٹ کے سچوئشن بھی ترتیب دی ہے

ڈسکلیمر:
یہ معلومات آن لائن ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں اور صرف اور صرف معلوماتی مقاصد کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔ اس پوسٹ کا مقصد کسی فرد، ادارے، نظریے یا واقعے کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا یا کسی مخصوص نقطۂ نظر کی تائید کرنا نہیں۔ قارئین و سامعین سے گزارش ہے کہ وہ اس مواد کو اپنی صوابدید اور فہم کے مطابق دیکھیں

Leave a Comment