
یہ وادی “حلیمہ سعدیہ ” ہے
اماں حلیمہ کی وادی میں ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا بچپن مبارک گزرا ہے اس وادی سے اقا علیہ السلام کی خوشبو آتی ہے اس مبارک وادی کا سفر مکہ سے دو گھنٹے کی دوری پر ہے یہاں ہر روز زائرین آتے ہیں اور اپنی آنکھوں کا ٹھنڈا کرتے ہوئے دلی راحت محسوس کرتے ہیں یہاں کا ہر ہر زرہ خوش نصیب ہے جہاں پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قدم مبارک لگے ہیں اور ہر پہاڑ خوش نصیب ہے جسے نبیوں کے سردار نے اپنی آنکھوں مبارک سے دیکھا ہے۔آپ بھی اس مبارک وادی کی زیارت کریں۔بچھی ہوئی جائے نماش پر یہاں زائرین نوافل ادا کرتے ہیں۔
- وہ پرانا کنواں جہاں نبی کریم ﷺ اپنی بکریوں کو پانی پلایا کرتے تھے
- پتھروں سے بنا قدیم کنواں | سیرتِ نبوی ﷺ کی ایک یاد
- نبی کریم ﷺ کی چرواہی کی سنت | ایک تاریخی کنویں کا منظر
پہاڑی علاقے میں پتھروں سے بنے ایک قدیم کنویں کا منظر
خشک پتھروں سے چُنی ہوئی سادہ دیواریں، اردگرد جھاڑیاں اور پس منظر میں پہاڑ۔ اس سادگی میں عجیب سا سکون اور عاجزی ہے۔ سبحان اللہ!
اس کنویں کے بارے میں مشہور ہے کہ نبی کریم حضرت محمد ﷺ یہاں اپنی بکریوں کو پانی پلایا کرتے تھے۔
یہ بات سیرتِ نبوی ﷺ کا ایک مستند پہلو ہے کہ آپ ﷺ نے بچپن اور جوانی میں بکریاں چرائیں۔ صحیح بخاری کی حدیث کا مفہوم ہے کہ اللہ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔ صحابہ نے پوچھا: کیا آپ نے بھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، میں بھی چند قیراط کے بدلے اہلِ مکہ کی بکریاں چرایا کرتا تھا۔
(مفہوم حدیث، صحیح بخاری)
یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ محنت اور حلال روزی میں کوئی عار نہیں۔
نبی کریم ﷺ پر درود بھیجیں:
“اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ”