تیز رفتار ٹرین کے نیچے آنے سے بچے کو بچاتے ہوئے اپنی جان گنوانے والے پولیس کانسٹیبل سہیل محمود کی کہانی۔۔۔

7 اگست 2012 کی صبح تقریباً 9 بج کر 35 منٹ پر کراچی کے لانڈھی ریلوے اسٹیشن پر سپر ایکسپریس پلیٹ فارم نمبر 1 کی طرف آرہی تھی۔ اسی دوران چھ سالہ ایک بچہ، جو چند دن گزارنے اپنے دادا کے پاس کراچی آیا ہوا تھا، دوسرے بچوں کے ساتھ پلیٹ فارم کے قریب کھیلتے ہوئے ریلوے ٹریک پر آگیا۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ ٹرین اس کے انتہائی قریب پہنچ چکی ہے۔

38 سالہ پاکستان ریلوے پولیس کانسٹیبل سہیل محمود نے بچے کو پٹری پر اور ٹرین کو اپنی طرف آتے دیکھا۔ موقع پر موجود ایک عینی شاہد کے مطابق سہیل نے خطرہ دیکھنے کے باوجود اپنی جان کی پروا نہیں کی اور فوراً پٹری کی طرف دوڑ پڑے۔ چند لمحوں میں وہ بچے تک پہنچے اور اسے پوری قوت سے ٹرین کے راستے سے باہر دھکیل دیا۔ بچے کے سر اور کمر پر چوٹیں آئیں، وہ خون میں لت پت اور خوف سے کانپ رہا تھا، لیکن اس کی جان بچ چکی تھی۔

بچے کو دھکیلنے کے بعد سہیل محمود کے پاس خود بچ نکلنے کے لیے وقت نہ رہا۔ آتی ہوئی ٹرین کے انجن کا بفر انہیں اپنی لپیٹ میں لے گیا اور وہ انجن کے نیچے پھنس کر اس وقت تک گھسیٹتے چلے گئے جب تک ٹرین مکمل طور پر رک نہیں گئی۔ انہیں شدید زخمی حالت میں انجن کے نیچے سے نکالا گیا۔ موقع پر انہیں پانی پیش کیا گیا، مگر سہیل اس وقت روزے سے تھے اور انہوں نے پانی پینے سے انکار کردیا۔ کچھ ہی دیر بعد ان کی جان نہ بچ سکی۔

سہیل محمود چار بچوں کے باپ تھے اور ان کا سب سے چھوٹا بچہ اس وقت صرف چھ ماہ کا تھا۔ انہوں نے 2001 میں ریلوے پولیس میں ملازمت شروع کی تھی۔ ان کے بڑے بھائی کے مطابق یہ پہلا موقع بھی نہیں تھا جب سہیل نے کسی اجنبی کی جان بچانے کے لیے خود کو خطرے میں ڈالا ہو؛ اس سے پہلے وہ کراچی کینٹ اسٹیشن پر ایک خاتون کو آتی ہوئی ٹرین سے بچا چکے تھے اور ایک دوسرے موقع پر ایک شخص کی جان بھی بچائی تھی۔

سہیل محمود کو ظفر ٹاؤن قبرستان میں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا گیا۔ اگلے سال، 2013 میں، حکومتِ پاکستان نے ان کی اس قربانی کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں بعد از شہادت قائداعظم پولیس میڈل سے نوازا۔ ایک چھ سالہ بچے کے پاس اپنی جان بچانے کے لیے شاید چند ہی لمحے باقی تھے؛ سہیل محمود نے انہی چند لمحوں میں فیصلہ کیا کہ بچے کی زندگی ان کی اپنی جان سے زیادہ قیمتی ہے۔

Leave a Comment