
دکن کے نواب اور دولت و ثروت کے جھولے میں پلنے والے ٹنڈل رام پرشاد کی زندگی کا یہ ایک ایسا ایمان افروز اور دل کو گرما دینے والا واقعہ ہے جو انسانیت، رواداری اور ایثار کی ایسی داستان رقم کرتا ہے جو صدیوں یاد رکھی جائے گی۔ ٹنڈل رام پرشاد دکن کی ریاست کے ایک انتہائی امیر کبیر گھرانے کے چشم و چراغ تھے، جنہیں قدرت نے سونے کے چمچ کے ساتھ اس دنیا میں بھیجا تھا۔ دکن میں وسیع و عریض محلات اور جائیدادوں کے مالک ہونے کے باوجود ان کی طبیعت میں غرور کے بجائے انکساری، درویش صفت عادات اور دل کی گہرائیوں میں اتر جانے والی نرمی موجود تھی، اور ان کی پونے دو مربع زرعی زمین پنجاب کے تاریخی شہر جہلم کے دامن میں بھی پھیلی ہوئی تھی۔
اکثر و بیشتر نواب صاحب اپنی اسی اراضی اور جاگیر کا جائزہ لینے کے لیے دکن سے طویل سفر طے کر کے جہلم تشریف لایا کرتے تھے۔ اتفاق سے ایک بار جب وہ ڈھوک عبداللہ کے قریب اپنی اراضی کے معاملات میں مصروف تھے، تو انہوں نے دیکھا کہ چند لوگ ایک جنازہ اٹھائے تیزی سے گزر رہے ہیں۔ ابتدائی طور پر نواب صاحب سمجھے کہ شاید یہ کوئی بیمار شخص ہے جسے علاج کے لیے کسی طبیب کے پاس لے جایا جا رہا ہے۔ کچھ دیر گزری ہی تھی کہ باغ محلے کے وہی لوگ اسی جنازے کو واپس لاتے ہوئے دکھائی دیے۔ نواب ٹنڈل رام پرشاد اس وقت راستے میں اپنی سواری کے منتظر کھڑے تھے، تو فطری ہمدردی کے تحت انہوں نے ان سوگوار افراد میں سے ایک سے دریافت کیا کہ اب اس مریض کی حالت کیسی ہے؟
یہ سوال سننا تھا کہ مرحومہ کے ایک کمسن یا بے بس بیٹے کی ہچکیاں بندھ گئیں اور اس نے رو رو کر جو روداد سنائی اس نے پتھر دل بھی موم کر دیے؛ اس نے بتایا کہ ان کے غریب حالات کو دیکھ کر آس پاس کے چند جاننے والوں اور زمینداروں نے ان کی ماں کی تدفین کے لیے اپنی زمین میں قبر کھودنے سے صاف انکار کر دیا ہے، اور اب ان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا کہ وہ مجبوراً اپنی اس مرحومہ ماں کو اپنے گھر کے اندر ہی دفنا دیں۔ یہ دل دہلا دینے والی داستان سن کر نواب صاحب کا دل شدید رنج و غم سے بھر گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ربِ کائنات کسی بندے سے کوئی خیر کا کام لینا چاہے تو وہ اس کے دل میں رحم اور ایثار کے ایسے دیے جلا دیتا ہے جو اندھیروں کو مٹا دیتے ہیں۔
نواب ٹنڈل رام پرشاد نے فوراً ان بچوں کو اپنے قریب بلایا اور ایک ایسی انسان دوست اور حیرت انگیز پیشکش کی جس نے سب کو دنگ کر دیا۔ انہوں نے محبت بھرے لہجے میں کہا کہ اگر تمہارے اپنے ہم مذہب بھائیوں نے ایک میت کو زمین دینے سے انکار کر دیا ہے تو اس پر دل چھوٹا مت کرو؛ یہ عارضی جائیدادیں اور زمینیں تو یہیں دھر کی دھر رہ جانی ہیں، اور ہم سب نے بھی ایک نہ ایک دن اس دنیا سے کوچ کر جانا ہے۔ تم بلا جھجھک میری اس زمین میں جہاں چاہو اپنی والدہ کو عزت کے ساتھ دفنا دو، اور میں آج سے اپنی یہ پونے دو مربع زمین ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کے قبرستان کے نام پر وقف کرتا ہوں۔
یہ کلمات سنتے ہی وہاں موجود تمام مسلمانوں کی آنکھوں میں بے پناہ تشکر، عقیدت اور خوشی کے آنسو چھلک آئے۔ مرحومہ کو پورے احترام کے ساتھ سپردِ خاک کیا گیا، اس کے بعد فاتحہ خوانی کی گئی اور اس رحم دل نواب کے حق میں دل کی گہرائیوں سے لاتعداد دعائیں مانگی گئیں۔ اور پھر قدرت کا یہ اصول ہے کہ کسی کا مخلصانہ عمل کبھی رائیگاں نہیں جاتا؛ وہ دعائیں بارگاہِ الٰہی میں ایسی شرفِ قبولیت سے نوازیں گئیں کہ چند ہی روز بعد ٹنڈل رام پرشاد کے دل کی دنیا ہی بدل گئی۔ شہر کے ایک جلیل القدر ولی کامل سید بخاری شاہ صاحب کے دستِ مبارک پر انہوں نے اس شرط کے ساتھ اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا کہ وہ اپنا آبائی نام تبدیل نہیں کریں گے۔ یوں اللہ تعالی نے ان کے لیے ہدایت کے تمام در وا کر دیے۔
اسلام قبول کرنے کے کچھ عرصہ بعد نواب صاحب واپس دکن تشریف لے گئے، لیکن ان کا دل وہیں جہلم کی مٹی میں اٹکا ہوا تھا، چنانچہ انہوں نے اپنے ذاتی وکیل کو وصیت کی کہ ان کے وصال کے بعد ان کے جسدِ خاکی کو دکن سے لا کر جہلم کے اسی قبرستان میں دفنایا جائے۔ بالآخر قیام پاکستان سے محض پانچ سال قبل، یعنی 1942 میں جہلم کے اس عظیم محسن نے اس فانی دنیا کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ دیا۔ ان کی میت کو دکن سے ان کی ذاتی خصوصی گاڑی میں جہلم منتقل کیا گیا، جہاں ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں نے ان کے جنازے میں شرکت کی اور انہیں اسی قبرستان میں سپرِد خاک کیا گیا جو کبھی انہوں نے وقف کیا تھا۔ آج بھی جہلم کے تقریباً ہر گھر کا کوئی نہ کوئی پیارا اسی قبرستان میں آسودۂ خاک ہے، اور شہرِ جہلم کے باسی آج بھی اپنے اس محسن ٹنڈل رام پرشاد کی لازوال محبتوں، احسانات اور سخاوت کے دل سے قرضدار ہیں۔
ڈاکٹر تجمل اعوان۔۔۔