چولستان کی بیٹی تہذیب النساء کی روداد۔۔۔

چولستان کے پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والی تہذیب النساء جب اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور آئیں، تو انہوں نے زندگی کے دو بالکل مختلف رخ دیکھے۔ ایک طرف لاہور کی جدید تعلیمی سہولیات، لائبریریاں اور انٹرنیٹ تھا، تو دوسری طرف ان کا اپنا چولستان تھا جہاں بچیاں بنیادی سہولیات سے بھی محروم تھیں۔ لاہور میں ایم فل کی تعلیم کے دوران بھی ان کے دل میں اپنے علاقے کی بچیوں کا درد موجود رہا، اور انہوں نے اپنے محدود جیب خرچ سے بچیوں کے لیے اسٹیشنری اور تعلیمی سامان خریدنے کا جو سلسلہ شروع کیا، وہ آہستہ آہستہ “ڈاٹر آف چولستان” جیسی فلاحی تحریک میں بدل گیا۔

تہذیب النساء صرف تعلیمی سامان فراہم کرنے پر اکتفا نہیں کرتی بلکہ دور دراز دیہات میں جا کر والدین کو بیٹیوں کی تعلیم کی اہمیت بھی سمجھاتی ہیں۔ اس کے علاوہ چولستان کے شدید گرم اور بجلی سے محروم اسکولوں میں بچیوں کو راحت دلانے کے لیے انہوں نے “ہزار درختوں کے چیلنج” کا آغاز بھی کیا ہے تاکہ پودے لگنے سے آنے والے وقت میں بچیوں کو دھوپ سے بچایا جا سکے۔ ان کی یہ کاوشیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ خلوص نیت اور عزم سے محرومیوں کے اندھیروں کو بھی اجالوں میں بدلا جا سکتا ہے۔

Leave a Comment