آمنہ تو ادھر جیل میں بھی مزے میں ہے، رہا ہونیوالی خاتون کا الزام۔۔۔

اس بات کے بارے میں یہ کہنا مشکل ہے کہ واقعی یہ انٹرویو سچائی پر مبنی ہے یا پھر ایک پبلسٹی اسٹنٹ ہے۔ قارئین خود فیصلہ کریں۔ ا
حال ہی میں جیل سے رہائی پانے والی خاتون خالدہ نے ایک معروف خاتون یوٹیوبر کے ساتھ ایک تفصیلی انٹرویو میں ڈیلیوری بوائے کے ق۔تل میں عمر قید کی سزا پانے والی آمنہ کے حوالے سے کئی تہلکہ خیز انکشافات کیے ہیں۔ خالدہ کا کہنا ہے کہ وہ خود بھی ایک بے بنیاد مقدمے کے سلسلے میں پانچ ماہ اسی قی۔د خانے میں رہیں جہاں آمنہ کو رکھا گیا تھا۔ دورانِ اسی۔ری آمنہ کے ساتھ گزرے وقت کا ذکر کرتے ہوئے خالدہ نے بتایا کہ وہ انتہائی بے باکی سے رئیس اور اپنے دیگر معاش۔قوں کے قصے سنایا کرتی تھی۔ آمنہ کا دعویٰ تھا کہ رئیس کے ساتھ اس کے انتہائی گہرے مراسم تھے مگر بدقسمتی سے عین وقت پر دھرے جانے کی وجہ سے ان کا سارا منصوبہ دھرے کا دھرا رہ گیا۔ جیل کے اندر بھی آمنہ کا شاہانہ انداز اور رنگین مزاجی برقرار رہی، وہ باقاعدگی سے اپنے بال رنگواتی تھی اور جیل کے مختلف عملے کے ساتھ اس کے مبی۔نہ تع۔لقات بھی رہے، جن کے پردہ فاش ہونے پر کچھ اہلکاروں کے خلاف معطلی کی کارروائیاں بھی عمل میں آئیں.

خالدہ کے مطابق ایک بار جب آمنہ کی والدہ کا انتقال ہوا تو جیل کا ایک اہلکار اسے پیشی پر لے جانے کے بہانے براہِ راست اس کے گھر گیا جہاں اس نے آخری بار اپنی والدہ کا دیدار کیا اور پھر شام کے وقت اسے واپس جیل پہنچایا گیا، تاہم اس انوکھے ریلیف پر بھی متعلقہ اہلکار کو بعد ازاں معطل ہونا پڑا۔ جیل کی دیگر خواتین جب آمنہ کو طعنہ دیتیں کہ اس نے اتنے معصوم اور خوبصورت نوجوان کی زندگی ختم کر دی ہے، تو آمنہ انتہائی ڈھٹائی سے جواب دیتی کہ تم لوگ خوبصورتی اور جوانی کے مفہوم سے ناواقف ہو، اور جتنی اس بارے میں میری سمجھ ہے اتنی کسی کی نہیں ہو سکتی۔ خالدہ نے یہ انکشاف بھی کیا کہ آمنہ اکثر غصے سے کہتی ہے کہ اگر اسے عدالت سے اتنی سخت سزا کا سامنا کرنا پڑا ہے تو اس کے پیچھے صرف اور صرف اسی خاتون یوٹیوبر کا ہاتھ ہے، کیونکہ اسی نے انٹرویو کے دوران اس سے ایسے راز اگلوا لیے جو وہ دنیا میں کسی کو نہیں بتانا چاہتی تھی، اور وہ اکثر کہتی ہے کہ اگر تم کبھی جیل سے باہر جاؤ تو اس یوٹیوبر تک یہ پیغام ضرور پہنچانا کہ میری موجودہ بدحالی کی ذمہ دار وہی ہے۔ گفتگو کے آخر میں خالدہ نے بتایا کہ جیل کی آب و ہوا آمنہ کو ایسی راس آئی ہے کہ وہ پہلے سے کہیں زیادہ توصیف اور صحت مند دکھائی دیتی ہے، جہاں وہ س۔گ۔ریٹ نوش۔ی کے ساتھ ساتھ آ۔ئ۔س کا نشہ بھی دھڑلے سے کرتی ہے اور زندگی کو بھرپور انداز میں انجوائے کرتے ہوئے اپنی قی۔د کاٹ رہی ہے، جس کے بعد یہ بالکل محسوس نہیں ہوتا کہ عمر قی۔د کی یہ طویل سزا اس کے لیے کسی بھی قسم کی ذہنی یا جسمانی اذیت کا باعث بن سکتی ہے۔

ڈسکلیمر:
یہ معلومات آن لائن ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں اور صرف اور صرف معلوماتی مقاصد کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔ اس پوسٹ کا مقصد کسی فرد، ادارے، نظریے یا واقعے کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا یا کسی مخصوص نقطۂ نظر کی تائید کرنا نہیں۔ قارئین و سامعین سے گزارش ہے کہ وہ اس مواد کو اپنی صوابدید اور فہم کے مطابق دیکھیں

Leave a Comment