دنیا کے سب سے غلیظ ترین شخص کا خطاب پانے والا یہ آدمی ہے کون؟

دنیا کا سب سے گندہ انسان،غلیظ ترین انسان کا لقب پانے والا معمر شخص کون ہے؟

اس خبر میں ایک اہم تاریخی تصحیح ضروری ہے: آمو
حاجی اب زندہ نہیں ہیں۔ ان کا انتقال 23 اکتوبر 2022 کو 94 سال کی عمر میں ہو چکا تھا۔ نومبر 2026 میں انہیں 80 سالہ شخص کہنا درست نہیں۔ ان کی زندگی سے متعلق پرانی خبر دوبارہ شائع کی جا رہی ہے۔

1۔ آمو حاجی کون تھے؟

آمو حاجی ایران کے جنوبی صوبے فارس کے ایک چھوٹے سے گاؤں دیجگاہ (Dejgah) میں رہتے تھے۔ انہیں دنیا کے غلیظ ترین انسان کا لقب اس وجہ سے دیا گیا کہ انہوں نے اپنی زندگی کے کئی عشروں تک پانی اور صابن سے غسل نہیں کیا تھا۔

ان کے بارے میں 2014 میں شائع ہونے والی رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ وہ تقریباً 60 سال سے نہیں نہائے تھے۔ 2022 میں ان کی وفات کے وقت بعض بین الاقوامی ذرائع نے یہ مدت 60 سے 67 سال کے درمیان بتائی۔

ان کی پیدائش 1928 میں ہوئی تھی اور وفات کے وقت ان کی عمر 94 سال تھی۔

2۔ انہوں نے غسل کرنا کیوں چھوڑ دیا تھا؟

مقامی لوگوں کے مطابق آمو حاجی کو یہ خوف تھا کہ اگر وہ نہائیں گے یا جسم کو صاف کریں گے تو بیمار پڑ جائیں گے۔

رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا کہ جوانی میں انہیں کچھ جذباتی صدموں کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے بعد انہوں نے تنہائی اختیار کر لی اور غیر معمولی طرزِ زندگی گزارنے لگے۔

وہ پانی اور صابن سے دور رہتے تھے اور گاؤں کے لوگوں کی جانب سے انہیں نہلانے کی کوششوں کو بھی پسند نہیں کرتے تھے۔ ایک مرتبہ مبینہ طور پر انہیں دریا میں نہلانے کے لیے لے جانے کی کوشش کی گئی تو وہ گاڑی سے باہر نکل گئے۔

3۔ وہ کھانے پینے میں کیا استعمال کرتے تھے؟

ان کی خوراک اور روزمرہ عادات بھی غیر معمولی تھیں۔

مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق:

  • وہ مردہ جانوروں کا گوشت کھاتے تھے، خصوصاً ساہی (Porcupine) کا گوشت ان کی پسندیدہ غذا بتایا گیا۔
  • وہ بعض اوقات سڑکوں پر مرے ہوئے جانوروں کا گوشت بھی کھاتے تھے۔
  • صاف پانی کے بجائے گڑھوں اور کھلے مقامات سے پانی جمع کرکے پیتے تھے۔
  • بعض رپورٹس کے مطابق وہ زنگ آلود تیل کے ڈبے میں پانی جمع کرتے تھے۔
  • وہ جانوروں کے خشک فضلے کو پائپ میں ڈال کر تمباکو کی طرح پیتے تھے۔
  • بال بڑھنے پر انہیں آگ کے ذریعے جلا کر چھوٹا کرتے تھے۔
  • سردی سے بچنے کے لیے پرانا فوجی ہیلمٹ بھی استعمال کرتے تھے۔

یہ تفصیلات 2014 میں Tehran Times کے انٹرویو اور بعد میں شائع ہونے والی بین الاقوامی خبروں میں بیان کی گئی تھیں۔ تاہم ان کی خوراک اور پانی کی مقدار کے حوالے سے مختلف رپورٹس میں کچھ اختلاف بھی موجود ہے۔

4۔ کیا واقعی ڈاکٹر ان کی صحت دیکھ کر حیران رہ گئے تھے؟

یہ اس کہانی کا سب سے دلچسپ حصہ ہے، لیکن اس میں احتیاط ضروری ہے۔

2022 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق تہران یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز سے وابستہ ماہرِ طفیلیات ڈاکٹر غلام رضا مولوی نے ان کی صحت کا جائزہ لینے کے لیے ٹیسٹ کیے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان کے جسم میں مختلف بیماریوں اور جراثیم کی جانچ کی گئی۔ ایک بیماری ٹرائیکینوسس (Trichinosis) کی موجودگی کا ذکر بھی کیا گیا، جو متاثرہ یا کچے گوشت سے پھیلنے والے طفیلیے کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس بیماری کی موجودگی کے باوجود ان میں واضح علامات نہیں تھیں۔

لیکن اس واقعے سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں کہ گندگی انسان کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتی ہے یا نہ نہانے سے صحت بہتر رہتی ہے۔

اہم وضاحت: ایک شخص کا طویل عرصے تک زندہ رہنا اس بات کا سائنسی ثبوت نہیں کہ اس کی غیر صحت بخش عادات محفوظ یا فائدہ مند ہیں۔

5۔ کیا پہلی بار نہانے کے بعد ان کی موت ہوگئی تھی؟

2022 میں بین الاقوامی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ گاؤں کے لوگوں نے کئی دہائیوں بعد انہیں پہلی مرتبہ غسل کروایا تھا۔

اس کے کچھ عرصے بعد وہ بیمار ہوئے اور 23 اکتوبر 2022 کو انتقال کر گئے۔

اسی وجہ سے کئی خبروں میں یہ تاثر دیا گیا کہ پہلی بار نہانے کے بعد ان کی موت ہوگئی، لیکن یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے:

  • ان کا غسل کرنا اور بعد میں بیمار ہونا رپورٹس میں بیان ہوا۔
  • ان کی موت کی اطلاع بھی تصدیق شدہ ہے۔
  • لیکن کوئی قابلِ اعتماد طبی ثبوت سامنے نہیں آیا کہ غسل کرنے کی وجہ سے ہی ان کی موت ہوئی تھی۔
  • ان کی وفات کی حتمی طبی وجہ عوامی طور پر واضح نہیں کی گئی۔

لہٰذا یہ کہنا کہ نہانے سے ان کی موت ہوئی، سائنسی طور پر ثابت شدہ بات نہیں۔

6۔ ان سے پہلے بھارت کا کون سا شخص مشہور تھا؟

آمو حاجی سے پہلے بھارت کے شہری کیلاش سنگھ (Kailash Singh)، جنہیں کلاو (Kalau) بھی کہا جاتا تھا، بھی طویل عرصے تک غسل نہ کرنے کی وجہ سے خبروں میں مشہور ہوئے تھے۔

2009 کی ایک رپورٹ کے مطابق انہوں نے 1974 سے نہانا چھوڑ دیا تھا۔

ان کے بارے میں بتایا گیا کہ انہوں نے ایک مذہبی پیشوا کی پیش گوئی کے بعد غسل نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، کیونکہ انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ ایسا کرنے سے انہیں بیٹا پیدا ہوگا۔

رپورٹس کے مطابق ان کے ہاں سات بیٹیاں پیدا ہوئیں، لیکن انہوں نے اپنا فیصلہ تبدیل نہیں کیا۔ وہ روایتی غسل کے بجائے آگ کے سامنے کھڑے ہو کر خود کو صاف کرنے کا دعویٰ کرتے تھے، جسے وہ فائر باتھ کہتے تھے۔

2014 میں آمو حاجی کو تقریباً 60 سال سے غسل نہ کرنے کی وجہ سے کیلاش سنگھ سے زیادہ عرصہ نہ نہانے والا شخص قرار دیا گیا تھا۔ تاہم یہ میڈیا میں مشہور ہونے والا غیر سرکاری موازنہ تھا، کوئی مصدقہ عالمی ریکارڈ نہیں۔

7۔ کیا غسل نہ کرنا صحت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے؟

جی ہاں، طویل عرصے تک جسم کی صفائی نہ کرنے سے جلد اور مجموعی صحت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ذاتی صفائی نہ رکھنے سے درج ذیل مسائل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے:

  • جلد پر فنگس اور بیکٹیریا کے انفیکشن
  • خارش اور جلد کی سوزش
  • جوؤں اور خارش کے کیڑوں کا مسئلہ
  • جسم سے بدبو آنا
  • گندگی اور جراثیم کے ذریعے بیماریوں کا پھیلاؤ

آسٹریلیا کے سرکاری ادارے Healthdirect کے مطابق جسم کو صاف رکھنے اور ہاتھ دھونے کی عادت مختلف انفیکشنز سے بچاؤ میں مدد دیتی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت بھی مناسب ذاتی صفائی کو صحت کے لیے اہم قرار دیتا ہے۔

تاہم یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ روزانہ بہت زیادہ صابن یا سخت کیمیکل سے نہانا ضروری نہیں۔ بار بار سختی سے جلد رگڑنے سے جلد کی قدرتی حفاظتی تہہ متاثر ہو سکتی ہے۔

8۔ اس واقعے سے کیا سبق ملتا ہے؟

آمو حاجی کی زندگی ایک غیر معمولی انسانی کہانی ضرور ہے، لیکن ان کی عادات کو صحت مند طرزِ زندگی کی مثال نہیں سمجھنا چاہیے۔

ان کی لمبی عمر کے باوجود یہ ثابت نہیں ہوتا کہ غسل نہ کرنا، گندا پانی پینا یا مردہ جانوروں کا گوشت کھانا انسانی صحت کے لیے محفوظ ہے۔

صاف پانی، محفوظ خوراک، ہاتھوں کی صفائی اور مناسب جسمانی صفائی بیماریوں سے بچاؤ کے بنیادی اصول ہیں۔

خبر کی حقیقت جانچنے کا خلاصہ

خبر کا دعویٰتحقیق کا نتیجہ
آمو حاجی نے کئی دہائیوں تک غسل نہیں کیا
وہ 67 سال تک نہیں نہائے
2026 میں ان کی عمر 80 سال ہے
ان کا انتقال 2022 میں 94 سال کی عمر میں ہوا
پہلی بار نہانے سے ان کی موت ہوئی
ان کی غیر معمولی عادات صحت کے لیے فائدہ مند تھیں

حتمی بات: آمو حاجی کی کہانی حقیقت پر مبنی ہے، لیکن انہیں دنیا کا غلیظ ترین انسان کہنا میڈیا کا دیا ہوا لقب تھا، کوئی ثابت شدہ طبی اعزاز یا مصدقہ عالمی ریکارڈ نہیں۔

ڈسکلیمر:
یہ معلومات آن لائن ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں اور صرف اور صرف معلوماتی مقاصد کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔ اس پوسٹ کا مقصد کسی فرد، ادارے، نظریے یا واقعے کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا یا کسی مخصوص نقطۂ نظر کی تائید کرنا نہیں۔ قارئین و سامعین سے گزارش ہے کہ وہ اس مواد کو اپنی صوابدید اور فہم کے مطابق دیکھیں

Leave a Comment