کیا واقعی اداکارہ سلونی نے ایک فلم ڈاریکٹر کے عشق میں خ۔ و۔ د کشی کر لی تھی۔۔۔

پاکستانی سنیما کی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی، نامور اداکارہ سلونی کا نام ہمیشہ سنہرے حروف میں یاد رکھا جائے گا، جن کا اصل نام زہرہ نازنین تھا مگر فلمی دنیا میں انہوں نے “سلونی” کے نام سے بے پناہ شہرت اور مقبولیت حاصل کی۔ ان کے فنی سفر کا آغاز فلم ساز فضل احمد کریم فضلی کی فلم “مسٹر بدھو” سے ہوا جو بعد میں “ایسا بھی ہوتا ہے” کے نام سے نمائش پذیر ہوئی۔ سلونی نے اپنے کیریئر میں مجموعی طور پر 67 فلموں میں شاندار اداکاری کے جوہر دکھائے، جن میں “کھوٹا پیسا”، “عادل”، “باغی سردار”، “حاتم طائی”، “درندہ”، “چن مکھناں”، “دل دا جانی”، “لٹ دا مال”، “بالم”، “چھین لے آزادی”، “ظالم”، “شهنشاہ جہانگیر”، “سجن پیارا” اور “پھنے خان” جیسی مقبول ترین فلمیں شامل ہیں، جبکہ ان کی آخری فلم پنجابی زبان میں بننے والی “امیر تے غریب” تھی جو 21 اپریل 1978ء کو سینما گھروں کی زینت بنی۔

ان کی ذاتی زندگی کے حوالے سے سن 1970ء کا وہ دور بھی خاصا بحث میں رہا جب فلم ساز اور ہدایت کار باری ملک کے ساتھ عشق میں ناکامی کے صدمے سے دلبرداشتہ ہو کر انہوں نے خ۔و۔د۔ک۔شی کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم وقت پر طبی امداد مل جانے کی وجہ سے ڈاکٹروں نے ان کی جان بچا لی تھی۔ اس جذباتی واقعے کے بعد باری ملک نے سلونی سے باقاعدہ شادی کر لی تھی اور دونوں نے اپنی زندگی کے تقریباً 25 برس متحدہ عرب امارات میں گزارے جہاں باری ملک اپنے کاروباری سلسلے میں مقیم تھے۔ سلونی اور باری ملک کے ہاں ایک صاحبزادی بھی پیدا ہوئیں جن کی شادی معروف شخصیت الیاس کاشمیری مرحوم کے صاحبزادے کے ساتھ ہوئی تھی۔ فلم انڈسٹری کی یہ چمکتی ہوئی ہیروئن بالآخر 15 اکتوبر 2010ء کو 67 برس کی عمر میں کراچی میں اس دارِ فانی سے کوچ کر گئیں، مگر پاکستانی فلمی صنعت پر ان کے نقوش ہمیشہ نقش رہیں گے۔

ڈسکلیمر:
یہ معلومات آن لائن ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں اور صرف اور صرف تفریحی و معلوماتی مقاصد کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔ اس پوسٹ کا مقصد کسی فرد، ادارے، نظریے یا واقعے کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا یا کسی مخصوص نقطۂ نظر کی تائید کرنا نہیں۔ قارئین و سامعین سے گزارش ہے کہ وہ اس مواد کو اپنی صوابدید اور فہم کے مطابق دیکھیں

Leave a Comment