نابینا آٹزم کے مریض 6 سالہ عمر نے قرآن پاک حفظ کرلیا۔۔۔

محمد عمر نومبر 2008 میں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ ثوبیہ عمر کے مطابق، پیدائش کے چند ماہ بعد ہی ان کی نیند، خوراک اور صحت کے مسائل شروع ہو گئے۔ پانچ ماہ کی عمر میں شدید اسہال کے باعث انہیں ہسپتال میں داخل کرنا پڑا اور اگلے تقریباً دو سال علاج اور ہسپتال کے چکر ان کی زندگی کا بڑا حصہ بن گئے۔ والدہ نے ملازمت چھوڑ کر ان کی دیکھ بھال کی۔ تین سال کی عمر تک عمر کی بینائی ختم ہو چکی تھی؛ انہیں آٹزم، شدید دمہ، متعدد غذائی الرجیوں اور سماعت کو متاثر کرنے والے کان کے انفیکشن جیسے مسائل بھی تھے۔ وہ ابتدا میں واضح الفاظ بھی نہیں بول پاتے تھے۔ 

ہسپتال میں ننھے عمر کے پاس کھیلنے کے مواقع محدود تھے۔ والدہ کے پرانے موبائل میں سورۃ الرحمٰن اور آخری پارے کی چند سورتوں کی آڈیو موجود تھی۔ وہ انہیں بار بار سنتے، خاص طور پر سورۃ الرحمٰن کو؛ والدہ کے مطابق تکلیف اور علاج کے دوران بھی تلاوت سن کر انہیں سکون ملتا تھا۔ گھر آنے کے بعد بھی قرآن سننے کا شوق برقرار رہا۔ پھر باقاعدہ اسپیچ تھراپی کے بعد جب عمر نے بولنا شروع کیا تو گھر والے حیران رہ گئے: وہ قرآن کی وہ آیات سنا رہے تھے جو ہسپتال میں سنا کرتے تھے۔ والدین خود حافظِ قرآن نہیں تھے، مگر اس لمحے انہیں اندازہ ہوا کہ عمر صرف تلاوت پسند نہیں کرتے، اسے یاد بھی کر رہے ہیں۔

والدہ نے پہلے آخری پارے کے بعد انتیسویں پارے کی سورتیں سنائیں۔ جب عمر نے وہ بھی دہرانا شروع کیں تو انہوں نے حفظ کے باقاعدہ سبق بنائے۔ لمبی سورتوں کی آڈیو کاٹ کر دو سے تین منٹ کے مختصر حصے تیار کیے جاتے۔ عمر اپنے مزاج کے مطابق کبھی والدہ کے ساتھ، کبھی خود انہیں سنتے۔ مختلف قاریوں کا انداز نقل کرنے کے بجائے ایک ہی آواز سے سیکھنا آسان رکھنے کے لیے پورے حفظ میں امامِ حرم شیخ عبدالرحمٰن السدیس کی تلاوت استعمال کی گئی۔ 

سبق کو عمر پر بوجھ نہیں بنایا گیا۔ ہر دن صرف ایک یا دو آیات ہوتیں، مگر کوشش ہوتی کہ وہ روز سنیں، یاد کی ہوئی آیات دہرائیں اور بلند آواز سے سنائیں۔ والدہ اسے کھیل کی صورت بھی دیتیں: پہلے موبائل پر قاری صاحب ایک آیت پڑھتے، پھر آڈیو رکتی اور عمر کی باری آتی، اس کے بعد والدہ یا والد پڑھتے۔ حوصلہ افزائی اور عمر کی پسند کے مطابق چھوٹے انعامات بھی اس سفر کا حصہ تھے۔ والدہ کی پہلی تحریر کے مطابق، اسی دوران عمر کے چھوٹے بھائی محمد حسنین کا صرف 80 دن کی عمر میں انتقال ہوا۔ اس گہرے صدمے کے بعد بھی انہوں نے عمر کے حفظ پر منظم انداز میں کام جاری رکھا۔ محمد عمر نے چھ سال کی عمر میں قرآن پاک مکمل حفظ کر لیا۔ 

والدہ کے بقول، حفظ مکمل ہونا سفر کا آخری مرحلہ نہیں تھا؛ یاد کیے ہوئے قرآن کی دہرائی اس سے بھی زیادہ مشکل ثابت ہوئی۔ بعد میں عمر نے اردو ترجمہ اور عربی قواعد سیکھنے پر بھی محنت کی۔ ان کی کہانی میں سب سے نمایاں بات وہ روزانہ کا کام ہے جسے والدین نے عمر کی دلچسپی اور سہولت کے مطابق ڈھالا، اور جسے عمر نے اپنی آواز میں بار بار دہرا کر آگے بڑھایا۔

 ماخذ: حافظ محمد عمر کی والدہ ثوبیہ عمر کی تحریر — Our Small Wonders

Leave a Comment