
جنرل ضیاء الحق کی کتنی بیٹیاں تھیں؟
جنرل ضیاء الحق کے پانچ بچے تھے، دو بیٹے اور تین بیٹیاں۔ اُن کے بیٹے اعجاز الحق اور انوار الحق تھے، جبکہ بیٹیوں کے نام روبینہ سلیم، قرۃ العین ضیاء اور زین ضیاء تھے۔ زین ضیاء اپنے والد کے ساتھ کئی سرکاری تقریبات میں بھی نظر آتی تھیں اور جنرل ضیاء اُن سے خاص محبت کرتے تھے۔ دوسری بیٹیاں زیادہ تر سیاست اور میڈیا سے دور رہیں۔ اُن کے بچوں میں اعجاز الحق نے سب سے زیادہ عملی سیاست میں حصہ لیا اور بعد میں وفاقی وزیر بھی بنے۔
جنرل ضیاء الحق نے جب مارشل لا کے بعد ملک کی بھاگ ڈور سنبھالی تو انکے دور میں کتنی ترقی ہوئی؛ کتنا معاشی استحکام آیا؟
جنرل ضیاء الحق کے دورِ حکومت کو بعض لوگ زرعی اور معاشی ترقی کا اہم دور کہتے ہیں۔ 1977 میں جب انہوں نے اقتدار سنبھالا تو ملک کو معاشی مشکلات، بدعنوانی اور انتظامی کمزوریوں کا سامنا تھا۔ اس دور میں زراعت پر خاص توجہ دی گئی، کیونکہ پاکستان کی معیشت کا بڑا حصہ کھیتی باڑی سے جڑا ہوا تھا۔ کسانوں کو آسان قرضے دیے گئے، کھاد اور بیج کی فراہمی بہتر بنانے کی کوشش کی گئی اور نہری نظام پر بھی کام ہوا۔ اس کے بعد گندم، چاول اور کپاس کی پیداوار میں اضافہ ہوا۔ اسی زمانے میں مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں پاکستانیوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھے، جس سے بڑی تعداد میں لوگ باہر گئے اور اپنی کمائی پاکستان بھیجی۔ اس رقم سے بہت سے خاندانوں کے حالات بہتر ہوئے، دیہاتوں میں گھر بنے اور روزگار کے مواقع بھی بڑھے۔ ضیاء دور میں اسلامی نظامِ معیشت کے نام پر سود سے پاک بینکاری، زکوٰۃ اور عشر کے نظام کو بھی متعارف کرایا گیا۔ صنعتوں کو سہولتیں دینے اور مقامی پیداوار بڑھانے کی کوشش کی گئی۔ اگرچہ اس دور پر سیاسی اور جمہوری حوالے سے سخت اختلافات موجود ہیں، مگر اس کے حامی اسے زراعت، معیشت اور خود کفالت کے لحاظ سے ایک اہم زمانہ سمجھتے ہیں۔