
یہ قبر جو آپ اپنی اسکرین پر دیکھ رہے ہیں، یہ اردو زبان و ادب کی نامور شاعرہ پروین شاکر کی آخری آرام گاہ ہے۔
پروین شاکر کا شمار اردو ادب کی ان عظیم شاعرات میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی منفرد شاعری، احساسات اور خوبصورت اندازِ بیان سے ادب کی دنیا میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔
پروین شاکر 24 نومبر 1952 کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد کا نام سید شاکر حسین اور والدہ کا نام افضل النساء تھا۔
ان کی مشہور تصانیف میں خوشبو، صدائے برگ، انکار، ماہِ تمام اور کفِ آئینہ شامل ہیں۔ پروین شاکر کی شاعری میں محبت، جذبات، عورت کے احساسات اور زندگی کے مختلف رنگ نمایاں نظر آتے ہیں۔
پروین شاکر 26 دسمبر 1994 کو ٹریفک حادثے کے میں انتقال کر گئیں۔
اردو ادب کی یہ عظیم شاعرہ آج بھی اپنی لازوال شاعری کے ذریعے اپنے قارئین کے دلوں میں زندہ ہیں۔ ان کی قبر ایچ ایٹ قبرستان، اسلام آباد میں واقع ہے۔
مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے
لفظ میرے میرے ہونے کی گواہی دیں گے
(1) ✓ پروین شاکر کی شخصیت اور اس کا عہد
(2) ✓ پروین شاکر کی نثری نظمیں
(3) ✓ پروین شاکر کی شاعری میں فکری و فنی عناصر
(4) ✓ پروین شاکر کا فنی و فکری جائزہ
🖋️🖋️ پروین شاکر کو اردو کی منفرد لہجے کی شاعرہ ہونے کی وجہ سے بہت ہی کم عرصے میں وہ شہرت حاصل ہوئی جو بہت کم لوگوں کو حاصل ہوپاتی ہے۔
ابتدائی زندگی
آپ کے والد کا نام سید شاکر حسن تھا۔ ان کا خانوادہ صاحبان علم کا خانوادہ تھا۔ ان کے خاندان میں کئی نامور شعرا اور ادبا پیدا ہوئے۔ جن میں بہار حسین آبادی کی شخصیت بہت بلند و بالا ہے۔ آپ کے نانا حسن عسکری اچھا ادبی ذوق رکھتے تھے۔ انہوں نے بچپن میں پروین کو کئی شعرا کے کلام سے روشناس کروایا۔ پروین ایک ہونہار طالبہ تھیں۔ دورانِ تعلیم وہ اردو مباحثوں میں حصہ لیتی رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ریڈیو پاکستان کے مختلف علمی ادبی پروگراموں میں شرکت کرتی رہیں۔ انگریزی ادب اور زبان دانی میں گریجویشن کیا اور بعد میں انہی مضامین میں جامعہ کراچی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ پروین شاکر استاد کی حیثیت سے درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہیں اور پھر بعد میں آپ نے سرکاری ملازمت اختیار کر لی
حالات زندگی ,🖋️🖊️
سرکاری ملازمت شروع کرنے سے پہلے نو سال شعبہ تدریس سے منسلک رہیں اور 1986ء میں کسٹم ڈیپارٹمنٹ، سی۔ بی۔ آر اسلام آباد میں سیکرٹری دوم کے طور پر اپنی خدمات انجام دینے لگیں۔1990ء میں ٹرینٹی کالج جو امریکا سے تعلق رکھتا تھا سے تعلیم حاصل کی اور 1991ء میں ہاورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ پروین کی شادی ڈاکٹر نصیر علی سے ہوئی جس سے بعد میں طلاق لے لی۔
ادبی خدمات 🖋️✍️
شاعری میں آپ کو احمد ندیم قاسمی صاحب کی سرپرستی حاصل رہی۔ آپ کا بیشتر کلام اُن کے رسالے فنون میں شائع ہوتا رہا۔
تخلیقات ✍️🌹
ان کی شاعری کا موضوع محبت اور عورت ہے۔
(1) ✓ خوشبو (1976ء)،
(2) ✓ صد برگ (1980ء)،
(3) ✓ خود کلامی (1990ء)،
(4) ✓ انکار (1990ء)
(5) ✓ ماہ تمام (1994ء)
وفات 😭🖋️🖊️
26 دسمبر 1994ء کو ٹریفک کے ایک حادثے میں اسلام آباد میں، بیالیس سال کی عمر میں مالک حقیقی سے جا ملیں۔ لواحقین میں ان کے بیٹے کا نام مراد علی ہے۔ تفصیلات کے مطابق پروین شاکر صبح اپنے گھر سے اپنے دفتر جارہی تھیں کہ ان کی کار ایک ٹریفک سگنل پر موڑ کاٹتے ہوئے سامنے سے آتی ہوئی ایک تیز رفتار بس سے ٹکرا گئی۔ اس حادثے کے نتیجے میں پروین شاکر شدید زخمی ہوئیں، انہیں فوری طور پر اسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جاملیں۔ پروین شاکر 26 دسمبر 1994ء کو اسلام آباد میں وفات پاگئیں اور اسلام آباد ہی کے مرکزی قبرستان میں آسودہ خاک ہوئیں ۔ ان کی لوح مزار پر انہی کے یہ اشعار کندہ ہیں:
یا رب مرے سکوت کو نغمہ سرائی دے
زخم ہنر کو حوصلہ لب کشائی دے
شہر سخن سے روح کو وہ آشنائی دے
آنکھیں بھی بند رکھوں تو رستا سجھائی دے