سروں کی مالا پرونے والی مالا بیگم کا قصہ۔۔۔

یہ سروں کی مالا پرونے والی مالا بیگم کی لحد ہے
مالا بیگم کے کتبہ پر درج تاریخ کے مطابق 5 مارچ 1990ء کو لاہور میں انتقال کر گئیں۔

ان کی آواز میں ایک خاص مٹھاس اور درد تھا، اور ان کے گائے ہوئے یہ خوبصورت نغمے آج بھی انہیں موسیقی کے شائقین کے دلوں میں زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
پیدائش: 9 نومبر 1939ء
وفات: 6 مارچ 1990ء

مالا بیگم پاکستانی پس پردہ گلوکارہ تھیں جو 1960ء کے عشرے میں اپنی گائیکی کے عروج پر تھیں۔ اُُن کی وجہ شہرت میں سے ایک احمد رشدی کے ساتھ گائے ہوئے دوگانے بھی ہیں۔
ساٹھ کی دہائی میں ایک سانولی سلونی الہڑ دوشیزہ مالا فیصل آباد سے یہ سوچ کر لاہور آئی کہ اپنی آواز کے سحر سے دلوں کو تسخیر کرے گی۔ یہ گلوکارہ مالا تھیں جو آگے چل کر پاکستانی پس پردہ موسیقی کا ایک نامور ستارہ بن کر ابھریں ۔

پاکستان کی مايہ ناز گلوکارہ مالا کا اصل نام نسیم نازلی تھا۔ وہ 9 نومبر 1939 ٕ میں فیصل آباد میں پیدا ہوئیں۔ انہيں کم عمری سے ہی گلوکاری کا شوق تھا۔ انہوں نے گلوکاری کی ابتدائی تربیت اپنی بہن سے حاصل کی۔ اور اپنی بڑی بہن شمیم نازلی کیساتھ ہی موسیقی کے جہاں میں اپنے نام کی شمع روشن کرنے لاہور آئیں، بڑی بہن شمیم نازلی نے ملک کی واحد خاتون موسیقار ہونے کا اعزاز حاصل کیا تو چھوٹی بہن مالا بیگم نے اپنی آواز کے سحر سے زمانے کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔

اپنی فنکارانہ شروعات کے سلسلے میں مالا بہت خوش قسمت ثابت ہوئیں۔ تحقیق سے یہ پتا چلتا ہے کہ مالا کی گلوکاری کی ابتدا 1950 سے شروع ہوئی لیکن اُن کا کوئی قابلِ ذکر فلمی و غیر فلمی گیت نہیں ملا۔ اتنا معلوم ہوا کہ مالا کے ایک قریبی عزیز مرزا سلطان بیگ عر ف نظام دین ریڈیو پاکستان لاہور سے ایک طویل عرصہ شام کا پروگرام ’ جمہور کی آواز‘ کرتے رہے۔ قیاس ہے کہ مالا اور اُن کی بڑی بہن شمیم نازلی جو پاکستان کی پہلی فلمی موسیقار ہیں، دونوں ان کے ساتھ ریڈیو پاکستان گئیں اور وہیں سے موسیقی کے شوق نے تیزی پکڑی ۔مالا کو گانے اور شمیم کو موسیقی کا شوق تھا۔ پھر ریڈیو پاکستان لاہور ہی وہ جگہ
بنتی ہے جہاں اُس وقت کے ایک با رسوخ موسیقارغلام احمد چشتی المعروف بابا جی اے چشتی نے ان دونوں کو سنا اور پنجابی فلم ” آبرو (1961 )کے لئے مالا کو منتخب کر لیا۔ انہوں نے اُن کی آواز میں 2 عدد گیت ریکارڈ کرائے۔ یہ فلم ناکام رہی لیکن مالا کی قسمت کا تارہ چمک اُٹھا۔
اُس وقت کے کامیاب فلمساز و ہدایتکار انور کمال پاشا نے مالا کو مشورہ دیا کہ وہ اُردو فلموں کے لئے کوشش کرے۔ابھی تک مالا ، نسیم کے نام سے پہچانی جاتی تھی لیکن انور کمال پاشا نے 1962 میں نسیم نازلی کا نام بدل کر مالا رکھ دیا کیوں کہ نسیم بیگم پہلے ہی پلے بیک فنکارہ موجود تھیں۔ نام کی یہ تبدیلی اُردو فلم ” سورج مکھی“ (1962 ) کی ریکارڈنگ کے وقت کی گئی۔ مذکورہ فلم کے موسیقار ماسٹر عبداللہ
( موسیقار ماسٹر عنایت حسین کے چھوٹے بھائی )کی موسیقی میں مالا کے گیت : ’ آئے رے جوبنوا پہ رنگ سکھی ….‘ اورگلوکار باتش کے ساتھ دوگانا ” او گورے راجہ نظر شرمائی رے…. ” ریکارڈ ہوئے۔واضح ہو کہ ماسٹر عبداللہ کی بحیثیت موسیقار یہ پہلی فلم ہے۔ پھر 1963 میں ماسٹر عنایت حسین نے ادا کار اور فلمساز الیاس کاشمیری اور ہدایت کار شریف نیّر کی فلم ” عشق پر زور نہیں“ کے لئے مالا سے ایک المیہ گیت ریکارڈ کروایا۔ اس گیت نے حقیقی معنوں میں مالا کو مالا بنا دیا۔ وہ گیت یہ ہے:

دل دیتا ہے رو رو دہائی کسی سے کوئی پیار نہ کرٸے
بڑی مہنگی پڑے گی یہ جدائی کسی سے کوئی پیار نہ کرے

یہ بھی حقیقت ہے کہ اس گیت میں اداسی، ملال اور شدت کا رنج سائیں اختر حسین کی المناک تانوں نے پیدا کیا۔بے شک ماسٹر عنایت حسین کی محنت اس گیت سے عیاں ہے۔

مالا بیگم کے عروج کا دور 1961ء سے 1971ء تک رہا جس میں انھوں نے بہت بڑی تعداد میں اعلیٰ پائے کے گیت گائے۔
مالا بیگم نے پس پردہ گلوکاری میں بہت نام کمایا۔ ان کے گائے ہوئے مقبول طربیہ اور المیہ فلمی گیت ان کی اعلیٰ فنی صلاحیتوں کا ثبوت ہیں ۔
اٹھارہ سالہ کیرئیر میں مالا بیگم کی مترنم آواز کا جادو سر چڑھ کر بولا۔ گیت چاہے چنچل ہوتا یا پْردرد سننے والوں سے شرف قبولیت حاصل کر کے رہتا۔
مالا بیگم نے چھ سو فلموں میں سینکڑوں مدھر گیت گائے۔ انہوں نے وقت کے نامور گلوکاروں کے ساتھ گایا اور نامور موسیقاروں کی دھنوں کو اپنی آواز کے قالب میں ڈھالا۔
انہیں احمد رشدی کے ساتھ فلموں میں 100 سے زائد دوگانے، گانے کا اعزاز بھی حاصل ہے جو پاکستانی فلمی تاریخ میں کسی اور جوڑی کے حصے میں نہیں آ سکا۔ 18 سالہ کیرئیر میں انہوں نے مہدی حسن، سلیم رضا، احمد رشدی، مسعود رانا، بشیر احمد، منیر حسین اور عنایت حسین بھٹی کے ساتھ درجنوں سپر ہٹ گیت گائے۔
مالا کو بہترین گلوکارہ ہونے کے دو مرتبہ نگار ایوارڈ حاصل ہوئے۔پہلا 1963 میں فلم ” عشق پر زور نہیں“ پر اور دوسرا 1965 میں فلم ” نائلہ“ پر۔
پاکستان فلم انڈسٹری کے زرخیز دور میں مالابیگم کو نورجہاں کے بعد دوسری بہترین آواز ہونے کا اعزاز حاصل رہا ہے لیکن اس قابل رشک عروج کے بعد 70 کی دہائی میں پاکستانی فلمی افق پر نئی گلوکارائیں طلوع ہو نے لگیں اور مالا بتدریج پس منظر میں چلی گئیں۔
رونا لیلیٰ کی آمد سے ان کا زوال شروع ہوا، جو ناہید اختر اور مہناز کی آمد سے مکمل ہو گیا ۔

مالا بیگم نے کبھی بھی بہت زیادہ سوشل لائف نہیں گزاری ۔ فلمی دنیا سے کنارہ کشی کے بعد وہ گھر کی ہو کر رہ گئیں۔ آخری عمر میں معاشی مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ بہرحال وہ ایک خوبصورت زندگی گزار کر صرف 50 سال کی عمر میں ہی اس دارِ فانی سے کوچ کر گئیں۔

مالا بیگم کے گانوں کی طویل لسٹ میں سے چند مشہور گیت درج ذیل ہیں۔۔۔

1۔ جا رے بیدردی تو نے کہیں کا ہمیں نہ چھوڑا
2۔ چنّی کیسری تے گوٹے دیاں دھاریاں
3۔ رحم کرو یا شاہِ دو عالم
4۔ غمِ دل کو اِن آنکھوں سے چھلک جانا بھی آتا ہے
5۔ یہ سماں پیارا پیارا یہ ہواٸیں ٹھنڈی ٹھنڈی
6۔ اکیلے نہ جانا ہمیں چھوڑ کر تم 7۔ یہ سماں موج کا کارواں
8۔ مجھے آئی نہ جگ سے لاج میں اتنے زور سے ناچی آج
9۔ کس نے توڑا ہے دل حضور کا
10۔ موسم حسیں ہے لیکن تم سا حسیں نہیں ہے
11۔ دور ویرانے میں اک شمع جلی ہے کب سے
12۔ کسے آواز دوں تیرے سوا
13۔ کیا ہے جو پیار تو پڑے گا نبھانا
14۔ روٹھ گٸی کیوں مجھ سے تیرے آنچل کی مہکار
15۔ ٹھہر بھی جاٶ صنم تم کو میری قسم
16۔ ہم ہیں دیوانے تیرے عاشق پروانے تیرے
17۔ بن کے میرا پروانہ آٸے گا اکبر خاناں۔ کہہ دوں گی دلبر جاناں
18۔ میرے ہمدم میرے ساتھی میں تیری دمساز ہوں
19۔ مجھے آرزو تھی جس کی وہ پیام آ گیا ہے
20۔ پیار کے نغمے کس نے چھیڑے میں تو کھو گٸی
21۔ شمع کا شعلہ بھڑک رہا ہے دل دیوانہ دھڑک رہا ہے
22۔ بہت یاد آٸیں گے یہ دن مجھے تڑپاٸیں گے یہ دن صنم
23۔ میں نے تو پریت نبھاٸی سانوریا رے نکلا تو ہرجاٸی
24۔ بھولی ہوٸی ہوں داستاں گزرا ہوا خیال ہوں
25۔ سن لے اے جان وفا تو ہے دنیا میری اے میری زندگی
26۔ او میرے شوخ صنم ہوا دیوانہ تیرا جب سے تجھے دیکھ لیا
27۔ دلدارا دلدارا او دلدارا تو ہے جان سے پیارا
28۔ اک نٸے موڑ پر لے آٸے ہیں حالات مجھے
29۔ محبت میں سارا جہاں جل گیا ہے
30۔ کوٸی کر کے بہانے سانوں مل ماہی وے راتاں آ گٸیاں چاننیاں
31۔ چلو کہیں دور یہ سماج چھوڑ دیں
32۔ وعدہ پیار کا سوھنے یار کا ہے بہت دلنشین
33۔ جب رات ڈھلی تم یاد آۓ
34۔ نہ آٸے آج بھی تم کیا یہ بے رخی کم ہے
35۔ آ میری زلف کی زنجیر تجھے پیار کروں

Leave a Comment