اپنی کمائی کی آدھی رقم ضرورت میں بانٹنے والے فوڈ ڈیلیوری رائیڈر آکاش۔۔۔

باپ کا آخری وعدہ نبھانے کے لیے کمائی کا نصف حصہ غریبوں پر لٹانے والا دہلی کا باہمت ڈیلیوری رائیڈر!
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی سے تعلق رکھنے والے آکاش سروج نامی ایک ڈیلیوری رائیڈر کی دل کو چھو لینے والی کہانی لوگوں کے دلوں کو گرما رہی ہے۔ آکاش روزانہ تقریباً 12 گھنٹے کڑی محنت کر کے لوگوں کے گھروں تک کھانا پہنچاتا ہے، لیکن وہ اپنی روزانہ کی آمدنی میں سے لگ بھگ 300 روپے ضرورت مندوں کے لیے نکال لیتا ہے۔ کبھی وہ سڑکوں پر سونے والے افراد میں کمبل تقسیم کرتا ہے تو کبھی بھوکے لوگوں کو کھانا اور ضروری اشیاء فراہم کرتا ہے۔ اس کے اس عمل کے پیچھے ایک دردناک ماضی ہے؛ آکاش کو رقص کا شوق تھا اور وہ کوریوگرافر بننے کا خواب دیکھتا تھا، مگر والد کی شدید بیماری کے دوران وہ انہیں بچا نہ سکا، جس کی وجہ سے وہ تین لاکھ روپے کے قرض میں ڈوب گیا اور والد کا انتقال ہو گیا۔

والد کے انتقال کے بعد آکاش کو ان کی وہ آخری نصیحت ہمیشہ یاد رہی جس میں انہوں نے اسے دوسروں کی مدد کرنے کی تلقین کی تھی۔ اس نے اپنے والد کی اسی خواہش کو اپنی زندگی کا اصل مقصد بنا لیا اور مشکل ترین حالات کے باوجود ضرورت مندوں کی مدد کرنا نہیں چھوڑا۔ ایک سال پہلے جب اس نے سوشل میڈیا پر اپنے اس فلاحی کام کو شیئر کیا تو بہت سے لوگ اس سے متاثر ہوئے اور گاہکوں نے اس کی حوصلہ افزائی کی۔ آکاش کی یہ کہانی ہمیں یہ اہم پیغام دیتی ہے کہ دوسروں کی مدد کرنے کے لیے دولت مند ہونا ضروری نہیں، بلکہ دوسروں کے درد کو محسوس کرنے والا دل ہونا ضروری ہے۔

Leave a Comment