
شمیم اختر چار بچوں کی ماں تھیں اور گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے پہلے سلائی کا کام کرتی تھیں، لیکن اس سے ہونے والی آمدن بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں تھی۔ حالات کے سامنے ہار ماننے کے بجائے انہوں نے ایسا کام سیکھنے کا فیصلہ کیا جسے اُس وقت خواتین کے لیے انتہائی غیرمعمولی سمجھا جاتا تھا: بھاری ٹرک چلانا۔
شمیم نے باقاعدہ بڑی گاڑی چلانا سیکھی اور پھر سامان بردار ٹرک لے کر لمبے راستوں پر نکلنے لگیں۔ ان کے کام کی ایک نمایاں مثال وہ سفر ہے جس میں انہوں نے تقریباً سات ہزار اینٹوں سے لدا ٹرک راولپنڈی سے آزاد کشمیر تک خود چلایا۔ تقریباً دو سو کلومیٹر کے اس سفر میں انہیں بھاری بھرکم چھ پہیوں والے ٹرک کو سڑکوں، چڑھائیوں اور طویل راستے پر قابو میں رکھتے ہوئے منزل تک پہنچانا تھا۔
یہ ان کے لیے یہ محض ڈرائیونگ نہیں تھی؛ یہی محنت ان کے بچوں کے کھانے، تعلیم اور گھر کے اخراجات کا ذریعہ بن گئی۔ بعد میں بھی شمیم اختر چھ پہیوں والا ٹرک مختلف شہروں تک چلاتی رہیں اور بھاری سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچا کر اپنے چار بچوں کی کفالت کرتی رہیں۔
جس معاشرے میں بھاری ٹرک چلانا تقریباً مکمل طور پر مردوں کا کام سمجھا جاتا تھا، وہاں شمیم اختر نے اپنے بچوں کی خاطر اس مشکل پیشے کو اختیار کیا اور خود اسٹیئرنگ سنبھال کر خاندان کا سہارا بنیں۔
سورس: دی نیوز، عرب نیوز