
مشہور بالی ووڈ اداکار رنبیر کپور کی عمر اس وقت 44 سال ہے اور وہ اب جا کر اپنے کیرئیر کے عروج پر ہیں لیکن پاکستان میں ایک ایسا ہیرو بھی تھا جو باقی ہیروز سے زیادہ عروج پانے کے بعد اس سے بھی زیادہ ڈاون فال دیکھ کر 44 سال کی عمر میں وفات پا گیا۔ یہ بات ہورہی ہے وحید مراد۔ آج ہم ان کے ڈاون فال پر بات کریں گے کہ جب انسان کی شہرت پر ڈاون فال آتا ہے تو وہی لوگ ساتھ چھوڑ جاتے جو ایک وقت میں آپ کے پیچھے پیچھے ہوتے تھے۔
2 اکتوبر 1938ء کو کراچی میں ایک خوشحال کاروباری خاندان میں وحید مراد پیدا ہوئے۔ ان کے والد نثار مراد فلمی صنعت سے وابستہ تھے اور فلم سازی میں دلچسپی رکھتے تھے۔ یہی ماحول بعد میں وحید مراد کو بھی فلمی دنیا کی طرف لے گیا۔
1947ء میں تقسیم ہند کے بعد کراچی ایک نئے ملک کا دارالحکومت بنا اور اسی شہر میں پروان چڑھنے والا یہ نوجوان آنے والے برسوں میں پاکستانی سینما کی پہچان بن گیا۔انہوں نے تقریباً 125 سے زائد اردو اور پنجابی فلموں میں کام کیا۔
اکستان کے اس چاکلیٹی ہیرو کی محبت بھری فلمیں اور احمد رشدی اور مہدی حسن کی آواز میں گائے گانے جو اس خوبصورت چہرے پہ پکچرائز ہوتے تھے۔
انہوں نے پوری قوم کو دیوانہ بنائے رکھا تھا۔ ایک مشہور پروڈیوسر اور فلمساز کمپنی کے مالک کے بیٹے وحید مراد اپنے باپ کی طرح فلموں کو پروڈیوس ہی کرنا چاہتے تھے اور انکے ساتھ مل کر یہ ہی کام کر رہے تھے۔
مگر ہیروز کی دیر سے آنے کی عادت کی وجہ سے ایک فلم میں یہ خود آ گئے اور یہاں سے انکا ہیرو والا سفر شروع ہوا۔ عوام نے خوب پسند کیا۔ ہیروئن زیبا کے ساتھ ایک کامیاب جوڑی بن کر وحید مراد چھا گئے۔ 1970 تک وحید مراد سپر سٹار رہے مگر اسکے بعد ایسا زوال شروع ہوا کہ شائد وہی ان کی موت کا باعث بھی بنا۔ انہوں نے خود بھی کئی فلمیں پروڈیوس کیں لیکن کچھ بات نہ بنی
مشہور فلم سٹار شاہد نے دنیا نیوز کے اینکر کامران شاہد کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک واقعہ بتایا تھا کہ جس سے معاملے کی سنگینی عیاں ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں جب نیا نیا آیا تھا تب وحید صاحب کا یہ عالم تھا کہ میں نے سلام کیا اور انہوں نے جواب تک نہ دیا۔ پھرایک وقت ایسا آیا کہ میرا عروج کا دور تھا، ا فلمیں ہٹ ہورہی تھیں کہ ایک روز ایونیو سٹوڈیو پہنچا تو دیکھا وحید صاحب کھڑے ہیں۔ میں پاس گیا۔ انہوں نے کچھ دیر بعد چہرہ اوپر کیا تو آنکھوں میں آنسو تھے۔ تو انہیں نے وحید مراد کو حوصلہ دیا۔
کہا جاتا ہے کہ زیبا نے محمد علی سے شادی کی تو محمد علی نے انکو وحید مراد کے ساتھ فلموں میں کام کرنے سے منع کر دیا۔ شبنم کی شادی روبن گھوش سے ہوئی تو انہوں نے بھی اپنی بیوی کو وحید مراد کے ساتھ کام کرنے سے روک دیا۔ نشو بیگم نے بھی وحید مراد کے ساتھ کام کرنے سے منع کیا۔ یہ محض افواہیں ہے یا حقیقت ان کی آزادنہ تصدیق ممکن نہیں ہو پائی۔
یہ وہی دور تھا جب شاہد اور ندیم متبادل ہیروز کے صورت میں فلم انڈسٹری میں دھاک بیٹھا رہے تھے۔ سپر سٹار بن چکے تھے۔ اسی وجہ سے وحید مراد کا کیرئیر مزید سائیڈ لائن ہوگیا۔ نوبت یہاں تک بھی آگئی کہ انہیں رولز بھی ملے تو وہ بھی سائیڈ کریکٹر یا سپورٹنگ رولز ملے۔ پتہ نہیں رولز آفر کرنے والے اپنی کسی خاڑ کا بدلہ لے رہے تھے یا کوئی پرانی خلش تھی۔ ایک مشہور فلم ساز جن کی فلمیں دھرا دھر ہٹ ہوتی تھیں وہ وحید مراد کے سکول کے دوست تھے اور دونوں نے اکٹھے انڈسٹری میں انٹری کی تھی لیکن ان کے ساتھ بھی اختلافات کی صورت میں راہیں جدا ہوگئیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس فلم ساز کا اختلاف یہ تھا کہ وحید مراد جب عروج آیا تھا تب سیٹ پر لیٹ آتے تھے، ڈائیریکٹرز میوزیشنز کو کچھ نہیں سمجھتے تھے کیوں کہ قسمت تب ان پر مہربان تھی۔
خیر کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ معروف پشتو فلم سٹار بدر منیر وحید مراد کے ڈرائیور تھے۔ وہ ان کی دیکھا دیکھی اتنے بڑے سپر سٹار بن گئے اور وحید مراد نے اسکے کہنے پہ ایک پشتو فلم بھی کر ڈالی۔ تاہم اس واقعے کی بھی تصدیق ممکن نہیں ہوئی۔
اس فنکار نے ڈاؤن فال برداشت کر لیا مگر خودداری پہ سمجھوتا نہیں کیا۔ وہ صرف 44 کی عمر میں اس دنیا فانی سے کوچ کرگئے
۔۔۔۔
ڈسکلیمر: یہ پوسٹ صرف اور صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہیں۔ کسی بھی قاری یا ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اس کا ہرگز مقصد کسی فرد، نظریے، ادارے کے خلاف رائے قائم کرنا نہیں ہے۔ اس پوسٹ میں بیان ہونے والی معلومات آن لائن ذرائع سے لی گئی ہیں جن کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہوسکی۔ اس پوسٹ کو اپنی فہم اور صوابدید کے مطابق دیکھیں