
جنہیں 6 ا
سکولوں نے داخلے سے انکار کیا، انہوں نے ہزاروں معذوروں کے لیے آسانیاں پیدا کر دیں: زاہدہ حمید قریشی کی شاندار کہانی!
ملتان کی زاہدہ حمید قریشی کو بچپن میں پولیو کی وجہ سے چلنے پھرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اور ان کی تعلیم کا آغاز ہی اس تلخ تجربے سے ہوا جب چھ اسکولوں نے انہیں داخلہ دینے سے انکار کر دیا۔ مگر ان کے بھائی نے بارہ سال تک انہیں روزانہ سائیکل پر اسکول پہنچا کر عزم کی ایک نئی مثال قائم کی۔ تمام تر نامساعد حالات، اسکول اور کالج کی عمارتوں میں سہولتوں کے فقدان کے باوجود زاہدہ نے ہمت نہیں ہاری اور مسلسل محنت کے بعد 2000 میں بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی سے معاشیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔
اپنی ذات کی حد تک کامیاب ہونے کے بعد زاہدہ نے دوسرے معذور افراد کی زندگی بدلنے کا تہیہ کیا اور 2007 میں ‘سوسائٹی فار اسپیشل پرسنز’ کی بنیاد رکھی۔ اس ادارے کے ذریعے اب تک ہزاروں ضرورت مندوں کو مفت وہیل چیئرز فراہم کی جا چکی ہیں اور نوجوانوں کو ویلڈنگ و تکنیکی ہنر سکھا کر خود کفیل بنایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ 2011 میں شروع کی گئی ‘قابلِ رسائی پاکستان’ مہم کا مقصد عوامی مقامات پر معذور افراد کے لیے آسان رسائی ممکن بنانا ہے۔ زاہدہ حمید قریشی کی یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ معاشرے کی سب سے بڑی خدمت کسی کو ترس کھانا نہیں بلکہ اس کے راستے کی رکاوٹیں ہٹانا ہے۔