
لیجنڈ بالی وڈ اداکار قادر خان کی زندگی کی کہانی : قادر خان 22اکتوبر1937 کو افغانستان میں پیدا ہوئے۔ قادر خان کے تین بھائی تھے: شمس الرحمن، فضل رحمٰن اور حبیب الرحمن۔ قادر خان کا تعلق کاکڑ قبیلے سے تھا اور وہ نسلی طور پر ایک پشتون تھے۔انکے دیگر خاندان کی جڑیں پاکستان میں تھیں، رشتے دار، عزیز و اقارب وغیرہ،ان کی پرورش ممبئی کے قریب واقع ایک علاقے کماتھی پورا میں ہوئی تھی۔ شروع میں تو ان کا داخلہ ایک مقامی میونسپل اسکول میں کرادیا گیا، اور اس کے بعد انہوں نے اسماعیل یوسف کالج میں داخلہ لے کر وہاں سے تعلیم حاصل کی جس کے بعد انہوں نے انجینئیرنگ میں گریجویشن کیا اور سول انجینئرنگ میں اسپیشلائزیشن بھی کی۔1970 اور 1975 کے درمیان قادر خان نے ممبئی کے ایم ایچ صابو صدیق کالج آف انجینئرنگ میں بہ طور سول انجینئر پروفیسر تعلیم بھی دی۔ اسی دوران قادر خان ایک ڈرامے ”تاش کے پتے” میں پرفارم کررہے تھے تو اس دور کے معروف کامیڈیئن آغا نے ان کی پرفارمنس کو دیکھا تو دلیپ کمار سے کہا کہ آپ بھی اس ڈرامے میں اس نوجوان کا کام دیکھیں۔ دلیپ صاحب نے وہ ڈراما دیکھا تو اس سے بہت متاثر ہوئے، انہیں قادر خان کی اداکاری نے بہت متاثر کیا اور انہوں نے قادر خان کو اپنی آنے والی فلموں ”سگینہ” اور ”بیراگ” کے لیے سائن کرلیا۔۔قادر خان نے بہ طور اداکار 300 سے زیادہ فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ ان کی پہلی فلم ”داغ” تھی جو 1973 میں پردۂ سیمیں کی زینت بنی تھی۔ اس فلم کے ہیرو راجیش کھنہ تھے اور قادر خان نے ان کے وکیل کا کردار نبھایا تھا۔ قادر خان بولی فلم انڈسٹری کے ایک کثیرالتحریر یا کثرت سے لکھنے والے اسکرین پلے رائٹر تھے جس نے 1970 کی دہائی سے لے کر 1999 تک ڈھیروں فلموں کے اسکرین پلے لکھ ڈالے تھے، ساتھ ہی انہوں نے 200 فلموں کے مکالمے (ڈائیلاگ) بھی لکھے تھے اور ان کے تحریر کردہ مکالمے فلم بینوں میں بہت مقبول ہوئے تھے۔قادر خان انہی لمحات کو اپنے فلمی کیریئر کے آغاز کی بنیاد قرار دیتے رہے۔ واضح رہے کہ قادر خان تھیٹر کے لیے ڈرامے لکھا کرتے تھے ، شاید یہی وجہ تھی کہ جب انہیں ”جوانی دیوانی” کا اسکرپٹ لکھنے کی پیشکش کی گئی تو اس سے ان کے لیے بہ طور اسکرپٹ رائٹر کیریئر شروع کرنے کا موقع بھی مل گیا۔ ہندی فلموں میں بہ طور رائٹر قادر خان کا کیریئر اس وقت شروع ہوا جب نریندر بیدی نے ان کا لکھا ہوا تھیٹر ڈرامہ دیکھا تو ان سے کہا کہ آپ میری فلم ”جوانی دیوانی” کا اسکرپٹ، میرے اسکرپٹ رائٹر اندر راج آنند کے ساتھ مل کر لکھیں جس کے لیے اس زمانے میں قادر خان نے 1500 روپے بہ طور معاوضہ لیے تھے۔قادر خان نے 300 سے بھی زیادہ ہندی اور اردو فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے اور 1970 کے عشرے سے لے کر اکیسویں صدی کے آغاز تک انہوں نے 250 سے زائد انڈین فلموں کے ڈائیلاگ یا مکالمے بھی لکھے۔راجیش کھنہ کے بے حد اصرار پر من موہن ڈیسائی نے فلم ”روٹی” کے ڈائیلاگ لکھنے کے لیے قادر خان کو اس زمانے میں ایک لاکھ اکیس ہزار روپے کی خطیر رقم پیش کی تھی جس کے پروڈیوسر خود راجیش کھنہ تھے۔قادر خان نے فلم ”داغ” کے ذریعے فلمی دنیا میں اینٹری دی جس میں انہوں نے راجیش کھنہ کے ساتھ ایک نمایاں رول کیا تھا جس میں انہوں نے ایک وکیل کا کردار کرکے فلم بینوں سے بڑی داد اور پذیرائی حاصل کی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ قادر خان نے دوسری فلموں میں سپورٹنگ آرٹسٹ کے طور پر بھی خوب ڈٹ کر کام کیا تھا جن میں ”دل دیوانہ”، ”مقدر کا سکندر” اور ”مسٹر نٹور لال” شامل ہیں۔1984 کے بعد قادر خان کو بہ طور سپورٹنگ ایکٹر (معاون اداکار) طویل رول بھی ملنے شروع ہوگئے جب انہیں ماسٹر جی، دھرم ادھیکاری، نصیحت، دوستی دشمنی، گھر سنسار، لوہا، انسانیت کے دشمن، انصاف کی پکار، خود غرض، شیرنی، خون بھری مانگ، سونے پہ سہاگا اور وردی جیسی فلمیں ملیں اور انہوں ان کے ساتھ بھرپور انصاف کیا۔1988 سے انہوں نے اپنی ہی لکھی ہوئی فلموں میں کام کرکے مزید داد حاصل کی جن میں ”جیسی کرنی ویسی بھرنی”، ”بیوی ہو تو ایسی”، ”گھر ہو تو ایسا”، ”ہم ہیں کمال کے” اور ”باپ نمبری تو بیٹا دس نمبری” جیسی فلمیں شامل ہیں۔2000 کی دہائی تک میں قادر خان نے متعدد فلموں میں ورسٹائل کردار نبھائے جن میں ‘انکھیوں سے گولی مارے’، ‘چلوعشق لڑائیں’ ، ‘سنو سسر جی’، ‘ یہ ہے جلوہ’ اور ‘مجھ سے شادی کروگی’ شامل تھیں۔ قادر خان نے اپنی کامیڈی ٹی وی سیریز بہ عنوان ”ہنسنا مت” شروع کی تو اسے بڑی پذیرائی ملی، یہ ٹی وی سیریز اسٹار پلس پر 2001 میں آن ایئر ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ انہوں نے انڈین ٹی وی پر اپنی کامیڈی سیریز ”ہائے پڑوسی۔۔۔۔ کون ہے دوشی” کے ذریعے اپنی واپسی کو ممکن بنایا۔اس کے علاوہ وہ دیگر فلمیں جو بہت کام یاب ثابت ہوئیں، ان میں درج ذیل شامل تھیں:ہمت والا، جانی دوست، سرفروش، جسٹس چوہدری، فرض اور قانون، جیو اور جینے دو، تحفہ، قیدی اور حیثیت۔قادر خان ممبئی میں رہتے تھے، مگر بعد میں جب وہ بیمار ہوگئے اور ان کے لیے یہاں رہنا ممکن نہیں رہا تو پھر وہ ٹورنٹو (کینیڈا) چلے گئے۔ ان کے تین بیٹوں میں سے سرفراز خان نے کئی فلموں میں اداکاری بھی کی تھی۔ بعد میں قادر خان نے کینیڈا کی شہریت حاصل کرلی تھی۔قادر خان اپنی عمر کے آخری حصے میں شدید بیمار ہوگئے تو28 دسمبر 2018 کو انہیں کینیڈا کے ایک اسپتال میں داخل کردیا گیا، اس وقت انہیں سانس نہیں آرہا تھا۔ ڈاکٹر ان کا علاج کرتے رہے، مگر وہ جاں بر نہ ہوسکے اور 31دسمبر 2018 کو اس دنیا سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رخصت ہوگئے۔ کینیڈا میں ہی انہیں سپرد خاک کیا گیا۔2013 میں قادر خان کو ہندی فلم انڈسٹری میں ان کی خدمات کے اعتراف میں ساہتیہ شرومنی ایوارڈ دیا گیا۔26 جنوری2019 انڈین گورنمنٹ نے قادر خان کو بعد از مرگ پدم شری ایوارڈ دینے کا اعلان کیا۔