ایک معذور بچہ استاد کیسے بن گیا؟

اپر کرم کے علاقے لقمان خیل سے تعلق رکھنے والے گلزار حسین ابھی اتنے چھوٹے تھے کہ حادثے کی سنگینی کو پوری طرح سمجھ بھی نہیں سکتے تھے، جب ایک دیسی ساختہ دھماکا خیز آلے کے دھماکے نے ان سے ایک بازو اور دونوں ٹانگیں چھین لیں۔

دونوں ٹانگیں ضائع ہونے کے باعث وہ چل کر اسکول نہیں جاسکتے تھے، مگر انہوں نے تعلیم چھوڑنے کے بجائے گدھے کو اپنی سواری بنا لیا۔ گلزار گدھے کی پشت پر سوار ہوکر اسکول پہنچتے اور اسی طرح اپنی ابتدائی تعلیم جاری رکھتے رہے۔ جسمانی معذوری ان کے لیے ایک مستقل رکاوٹ ضرور تھی، لیکن وہ مرحلہ وار آگے بڑھتے گئے اور بالآخر اسلامیات میں ایم اے کے ساتھ تدریس کی پیشہ ورانہ سند پی ٹی سی بھی حاصل کرلی۔

جولائی 2019 میں شائع ہونے والی ڈان کی رپورٹ کے وقت گلزار حسین کی عمر 28 برس تھی۔ جس شخص نے خود گدھے پر بیٹھ کر اسکول کا سفر طے کیا تھا، وہ اب اپنے آبائی علاقے کے ایک مقامی سرکاری پرائمری اسکول میں کم وسائل رکھنے والے بچوں کو تعلیم دے رہا تھا۔

اس کام کے بدلے انہیں سابق پولیٹیکل ایجنٹ کے دفتر سے صرف 6 ہزار روپے ماہانہ وظیفہ ملتا تھا۔ قبائلی اضلاع کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے بعد یہ معمولی وظیفہ بھی تقریباً ایک سال سے بند تھا، لیکن گلزار نے بچوں کو پڑھانا نہیں چھوڑا۔ ان کی قابلیت اور مستقل مزاجی کے باعث مقامی لوگوں میں انہیں بے حد عزت حاصل ہوئی۔ ان کے ایک طالب علم کے والد محمد رشید نے حکومت سے مطالبہ بھی کیا کہ گلزار کی تعلیمی قابلیت اور خدمت کو دیکھتے ہوئے انہیں مستقل استاد مقرر کیا جائے۔

گلزار حسین کی زندگی صرف معذوری کے باوجود تعلیم حاصل کرنے کی کہانی نہیں، بلکہ اپنے جیسے کم وسائل رکھنے والے بچوں کا مستقبل سنوارنے کے لیے مسلسل جدوجہد کرنے والے ایک حقیقی استاد کی بھی داستان ہے۔

ماخذ: Dawn، 16 جولائی 2019⁠

Leave a Comment