ماضی کی معروف اداکارہ چکوری بیگم کی کہانی۔۔۔

**چکوری چکوری؛ اصل نام: خاور سلطانہ؛ 1947ء – 2 نومبر 2010ء) پاکستانی سینما کی ممتاز ترین اداکاراؤں میں شمار ہوتی ہیں اور سندھی فلم انڈسٹری کی اولین سپر اسٹارز میں سے ایک تھیں۔ اپنی جاندار اداکاری، دلکش رقص اور غیر معمولی اسکرین موجودگی کی بدولت انہوں نے تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ایک شاندار فلمی کیریئر قائم کیا۔ انہوں نے سندھی، پنجابی اور اردو زبانوں کی 80 سے زائد فلموں میں اداکاری کی اور 1970ء اور 1980ء کی دہائی کی مقبول ترین فلمی ستاروں میں شامل رہیں۔
چکوری بچپن ہی سے انہیں فنونِ لطیفہ سے گہری دلچسپی تھی۔ پاکستانی فلمی صنعت کے سنہری دور میں انہوں نے فلمی دنیا میں قدم رکھا اور اپنی فطری اداکاری، دلکش شخصیت اور ہمہ جہت صلاحیتوں کے باعث بہت جلد فلمی حلقوں اور ناظرین میں مقبول ہو گئیں۔

انہوں نے اپنے فلمی سفر کا آغاز سندھی فلم “چانڈوکی” سے کیا، جو ان کی پہلی فلم تھی۔ اس کے بعد انہوں نے متعدد کامیاب سندھی فلموں میں یادگار کردار ادا کیے، جن میں محبوب مٹھا، مٺڑا شال ملن، جیجل ماءُ، سوڍا پٹ سندھ جا، رت این اجرک، پیار تن صدقے، سندھڑی تن صدقے، اچ تہ بھاکر پائیوں اور رت جی راند شامل ہیں۔ ان فلموں نے انہیں سندھی سینما کی صفِ اول کی اداکاراؤں میں شامل کر دیا۔

بعد ازاں چکوری نے پنجابی اور اردو فلموں میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ خاص طور پر بلاک بسٹر پنجابی فلم “مولا جٹ” (1979ء) میں ان کی شاندار اداکاری نے انہیں ملک گیر شہرت عطا کی۔ اپنے فلمی کیریئر کے دوران انہوں نے پاکستان کے ممتاز اداکاروں، ہدایت کاروں اور فلم سازوں کے ساتھ کام کیا اور رومانوی، سماجی، موسیقی پر مبنی اور ایکشن فلموں میں یکساں کامیابی حاصل کی۔

اپنی جاندار اداکاری، خوبصورت رقص اور منفرد اسکرین موجودگی کی وجہ سے چکوری پاکستان بھر میں بے حد مقبول ہوئیں اور آج بھی انہیں پاکستانی سینما کی عظیم ترین اداکاراؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔

چکوری کی شادی معروف سندھی اداکار مشتاق چنگیزی سے ہوئی تھی۔ سندھی سینما کے سنہری دور میں یہ جوڑی فلمی دنیا کی مقبول ترین آن اسکرین اور حقیقی زندگی کی جوڑی سمجھی جاتی تھی۔ بعد ازاں علیحدگی کے بعد انہوں نے معروف اداکار اور ہدایت کار کیفی سے شادی کر لی۔

طویل اور کامیاب فلمی سفر کے بعد چکوری 2 نومبر 2010ء کو لاہور، پاکستان میں انتقال کر گئیں۔ ان کی خدمات سندھی اور پاکستانی سینما کے لیے ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور ان کا فن آج بھی اداکاروں، فلم سازوں اور فلم بینوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

آج چکوری کو پاکستانی سینما کی عظیم ترین اداکاراؤں، سندھی فلم انڈسٹری کی ایک درخشاں علامت، اور ایک لازوال ثقافتی شخصیت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، جن کی خدمات پاکستان کے فلمی ورثے کا ایک اہم اور ناقابلِ فراموش حصہ ہیں۔

یکم نومبر آج چکوری کی 14ویں برسی ہے۔
۔ ان کی پہلی اردو فلم 1972 میں جانور تھی اور 1977 میں ان کی پہلی پنجابی فلم کون شریف کون بدمعاش تھی۔
فلم ڈائریکٹر جاوید فاضل نے ستر کی دہائی میں اپنی پہلی پروڈکشن گونج میں چکوری کو سائن کیا ۔ یہ ایک ملٹی اسٹارڈ فلم تھی اور اس میں شاہد، غلام محی الدین اور عثمان پیرزادہ تھے ۔ ان فلموں نے چکوری کو پذیرائی بخشی جنہوں نے بعد میں لاہور میں رہنے اور مزید فلمیں کرنے کا فیصلہ کیا۔ مشتاق چنگیزی اس فیصلے سے ناخوش تھے اور دونوں میں علیحدگی ہوگئی۔ بعد ازاں انہوں نے پنجابی فلموں جیسے مولا جٹ، چالان، ہرسات میں مرکزی کردار ادا کیا۔ مولا جٹ کے کردار نے چکوری کو مقبولیت کی بلندیوں تک پہنچایا۔ وہ انجمن کے بعد دوسری بہترین پنجابی ہیروئن کا درجہ حاصل کر چکی تھیں۔ چکوری کی اردو فلموں میں شیشے کا گھر، ہیرا پھیری اور ٹکراؤ شامل تھیں۔ انہوں نے کیفی کے ساتھ کئی فلموں میں کام کیا جیسے دنگل، ملے گا ظلم دا بدلہ، جیدار، طاقت، راجو راکٹ، بحرام ڈاکو وغیرہ اور دونوں کی شادی ہوگئی۔
سلور اسکرین پر اس جوڑی کا جادو ختم ہونے کے بعد کیفی نے اسے طلاق دے دی۔ اس کے بعد انہوں نے ایک تاجر سے شادی کر لی۔
اپنے کیریئر کے اخری دور میں انہوں نے پشتو فلموں میں بڑی کامیابی کے ساتھ شمولیت اختیار کی۔
ان کی آخری فلم 1994 میں ریلیز ہونے والی پشتو فلم دا وینا سوداگر تھی۔ مجموعی طور پر انہوں نے 86 فلموں میں کام کیا جن میں سے 11 اردو، 55 پنجابی، 8 پشتو اور 12 سندھی فلمیں تھیں۔
وہ دمہ، ذیابیطس، دل اور جگر کی بیماری میں مبتلا تھیں اور یکم نومبر 2010 کو لاہور میں انتقال کر گئیں۔
ان کی فلموں کی فہرست یہ ہیں: چندوکی، گھونگھٹ لائے کنور، محبوب مٹھا، جانور، بادل، جیجل ماں، سوڈا پٹ سندھ جا، پیار کیو سنگھار، پیار تاں صدقے، مونجھو پیار پکارے، سندھڑی تاں صدقے، آج تاں بھکر پایوں، جاسوس، کون شریف کون بدمعاش ، گونج ، ارادہ، لاٹھی چارج، چیتا چالباز، شیشے کا گھر، چل وال، گارنٹی، کل دے منڈے، الارم، ٹکراؤ، راجو راکٹ، ہیرا پھیری، شریف ضدی ، مولا جٹ، چالان، تخت یا تختہ ، بدلہ، بابل راٹھ، پرمٹ، عورت راج، دنگل، غنڈہ ایکٹ، وحشی گجر، کشمکش، وقت دا بادشاہ، دحشت، ہرسات ، بدمعاشی بند، جبرو بدنام، وڈا تھانیدار، یار دشمن، بحرام ڈاکو، شیخ چلی، شیراں ، جیو شیرا، ملے گا ظلم دا بدلہ، جٹ دا ویر، خر دماغ ، قانون شکن، جیدار، چھانگا تے مانگا، جٹ ان لندن، بھریا میلہ، پاسبان، وچھڑیا پتر، میدان، ایک زندہ ویر، ہیرا فقیرہ، آخری دشمن، دیس پردیس، ہیرا موتی، وحشی ٹولہ، بالا گڈی، طاقت ، شاہ بحرام، دو قیدی، دشمنی جٹ دی، قصائی پتر ،حق سچ، کون زبردست، جرنیل سنگھ، ناچے ناگن ، کمانڈو ایکشن، گرم لہو، طاقتور ، عشق روگ، گرینگو، دا ظلم انجام، لالو، میری ہتھ جوڑی ، ملنگ ڈاکو، بالا، زمان، ضد ، حملہ، دا وینو سوداگر، منڈا شرارتی، اور بندش ۔

Leave a Comment