
پنجابی سنیما کی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی، فلم اسٹار انجمن کا نام ایک درخشندہ باب کی طرح چمکتا رہے گا۔ ایک ایسا دور تھا جب ان کی مقبولیت کا ڈنکا بجتا تھا اور انہیں انڈسٹری کی سب سے کامیاب ہیروئن مانا جاتا تھا۔ تاہم، 1987 میں ازدواجی زندگی کی شروعات کے بعد گھریلو مصروفیت اور کچھ الجھنوں کے باعث ان کی فلمی سرگرمیاں متاثر ہونے لگیں۔ وہ مسلسل جدوجہد میں تھیں لیکن شادی سے پہلے والی کامیابی اور پذیرائی دوبارہ حاصل کرنا آسان ثابت نہیں ہو رہا تھا۔ مسلسل دو سال کی اس کشمکش نے انہیں سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اپنے عروج کو واپس کیسے لایا جائے۔
بالآخر اس کٹھن دور میں ایک معروف فلم ساز نے بلاول سے فلم بنانے کا فیصلہ کیا فلم ساز نے نامور کہانی نویس ناصر ادیب سے اس کی کہانی لکھوائی۔ اس فلم میں ایک خاص آئٹم گانہ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جسے بارش کی بوندوں میں بھیگ کر فلمایا جانا تھا۔
شروع میں اس گانے کی صورتحال پر کافی بحث مباحثہ ہوا۔ رائٹر کی خواہش تھی کہ فلم کی اصل ہیروئن کے بجائے کسی اور آئٹم گرل سے یہ گانا کروایا جائے۔ اس مقصد کے لیے کئی نام زیرِ غور آئے، مگر بہت سی لڑکیوں نے صاف انکار کر دیا تو کچھ نے انتہائی بھاری معاوضہ طلب کر لیا۔
آخر کار فلم ساز نے یہ فیصلہ کیا کہ یہ گانا فلم کی مرکزی ہیروئن انجمن سے ہی کروایا جائے گا اور اس کے لیے ایک بالکل نئی ترکیب سوچی گئی۔ فلم “بلاول” کے لیے یہ گانا تیار کیا گیا، جو بظاہر ایک عام سا گیت تھا مگر انجمن بیگم کے لیے اس نوعیت کا آئٹم گانہ پہلے کبھی نہیں بنایا گیا تھا۔
سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ انجمن اس بات پر راضی ہو گئیں کہ وہ اس گانے میں بولڈ انداز اپنائیں گی۔ ہر کوئی دنگ تھا کہ آخر انجمن اس بات پر کیسے مان گئیں اس لباس کے لیے فلم ساز نے خصوصی طور پر اصلی سونے کا پانی چہرے ہوئے بٹن بنوا کر منگوائے تھے
اس گانے کو فلمانے میں کچھ دن لگے، اور جب فلم “بلاول” نمائش کے لیے پیش کی گئی تو اس نے باکس آفس پر دھوم مچا دی۔ اس فلم نے ریکارڈ توڑ بزنس کیا اور فلم ساز پر پیسوں کی بارش کر دی
اگرچہ حکام کو یہ شکایت بھی کی گئی کہ فلم “بلاول” میں قابلِ اعتراض مناظر دکھائے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے فلم کی نمائش کچھ عرصے کے لیے روک بھی دی گئی، لیکن تب تک یہ فلم اپنا کام کر چکی تھی۔ اس کے بعد میدان میں دوسری ہیروئنیں بھی آ گئیں جنہوں نے بارش میں بھیگتے ہوئے گانے پکچرائز کروائے۔ سینسر بورڈ کی طرف سے یہ کہا گیا کہ اب فلمیں پرانے روایتی انداز میں نہیں چل سکتیں۔
ڈسکلیمر:
یہ معلومات آن لائن ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں اور صرف اور صرف تفریحی و معلوماتی مقاصد کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔ اس پوسٹ کا مقصد کسی فرد، ادارے، نظریے یا واقعے کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا یا کسی مخصوص نقطۂ نظر کی تائید کرنا نہیں۔ قارئین و سامعین سے گزارش ہے کہ وہ اس مواد کو اپنی صوابدید اور فہم کے مطابق دیکھیں