
پٹھانے خان برصغیر کا وہ فقیر آواز جس کی مثال صدیوں تک نہیں ملے گی۔
اصل نام اور ابتدائی زندگی:
پٹھانے خان کا اصل نام غلام محمد تھا۔ وہ 1926ء میں کوٹ ادو کی ایک پسماندہ بستی بستی تمبو والی میں پیدا ہوئے جو تھل کے صحرا کے دامن میں واقع ہے۔ آپ نے بالکل سچ لکھا ہے، ان کے والد خمیسہ خان نے دوسری شادی کر لی تو ان کی والدہ اپنے میکے آ گئیں۔ ماں سارا دن گاؤں کے تندور پر روٹیاں لگاتی اور ننھا پٹھانے جنگل سے سارا دن لکڑیاں چن کر لاتا۔ یہی ان کی گزر بسر کا واحد ذریعہ تھا۔ غربت، یتیمی اور تنہائی نے اس دکھے ہوئے دل کو بابا غلام فریدؒ کی کافیاں پڑھنے پر مجبور کر دیا۔
پٹھانے خان کے پہلے استاد بابا میر خان تھے، پھر انہوں نے استاد عاشق علی خان کے خاندان سے تعلق رکھنے والے مقامی موسیقار امیر خان سے باقاعدہ موسیقی سیکھی۔ انہوں نے کبھی باقاعدہ سکول کی تعلیم حاصل نہیں کی، لیکن صوفی شاعروں کا کلام ان کے سینے میں محفوظ تھا۔
آواز کا سوز اور شہرت:
پٹھانے خان کی آواز میں اللہ نے ایسا سوز رکھا تھا کہ جب وہ گاتے تو پتھر بھی پگھل جاتے۔ انہوں نے کافی کو ایک نئی بلندی دی۔ ان کی گائی ہوئی مشہور کافیاں آج بھی زندہ ہیں:
میڈا عشق وی توں، میڈا یار وی توں (میڈا دین وی توں میڈی جان وی توں)
گھوم چرخڑا گھوم
جندڑی لٹی تے یار سجن کدی موڑ مہار تے ول آ وطن
میں نی جانا جوگی دے نال
چاک مہی دا
سانول موڑ مہار
صدر ہاؤس والا تاریخی واقعہ:
یہ واقعہ بالکل حقیقت ہے۔ 1976ء میں اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں اسلام آباد میں ایک نجی محفل میں مدعو کیا، اور عوام میں یہی واقعہ صدر ہاؤس سے منسوب ہو کر مشہور ہو گیا کیونکہ بعد میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں انہیں سرکاری طور پر بہت عزت دی گئی۔ روایت ہے کہ جب پٹھانے خان نے اپنی سوز بھری آواز میں “جندڑی لٹی تے یار سجن کدی موڑ مہار تے ول آ وطن” پڑھی تو بھٹو صاحب سمیت پوری محفل رو پڑی۔ حاکم وقت نے تین دفعہ فرمائش کر کے یہ کافی سنی اور تینوں دفعہ آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ آخر میں اٹھ کر اس فقیر کو گلے لگا لیا اور کہا “پٹھانے حکم کرو، آج جو مانگو گے ملے گا”۔ تو اس درویش نے وہی جواب دیا جو آپ نے لکھا، تینوں دفعہ کہا “مجھے کچھ نہیں چاہیے، بس میرے وسیب کےغریب عوام کی پارت ہو،یعنی میرے وطن کےغریبوں کا خیال رکھیں”۔ یہی اس فقیر کی کل متاع تھی۔
صدارتی ایوارڈ – جنرل ضیاء الحق:
پٹھانے خان کی خدمات کو دیکھتے ہوئے حکومت پاکستان نے 1979ء میں انہیں ملک کے سب سے بڑے سول اعزاز صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی (Pride of Performance) سے نوازا۔ یہ ایوارڈ اس وقت کے صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے دیا تھا۔ یہ ایوارڈ ایک ایسے شخص کے لیے تھا جس نے ساری زندگی جھونپڑی میں گزاری۔
آخری ایام اور وفات:
پٹھانے خان نے آدھی زندگی ماں کی خدمت میں اور باقی آدھی زندگی ماں کی یاد میں رو رو کر گزار دی۔ وہ شہرت کے باوجود کبھی اپنے گاؤں سے نہ نکلے۔ اسی کچی جھونپڑی میں رہے جہاں پیدا ہوئے تھے۔ 9 مارچ 2000ء کو طویل علالت کے بعد کوٹ ادو میں اپنے آبائی گھر میں وفات پا گئے۔ آج بھی ان کی برسی ہر سال عقیدت سے منائی جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ اس فقیر کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔