
تعمیراتی مزدوری کی سختیاں برداشت کر کے 8 بیٹیوں کو ڈاکٹر بنانے والے مصری باپ کی ناقابلِ یقین کہانی، جو ہر باپ کے لیے فخر ہے!
مصر کے صوبے فیوم میں ایک محنت کش باپ، جنہیں لوگ پیار سے چچا صلاح کہتے ہیں، نے قربانی کی ایسی مثال قائم کی ہے۔
صلاح نے اپنی زندگی کے 35 سال تعمیراتی مزدور کے طور پر گزارے۔ شدید گرمی، اینٹیں اٹھانا، سیمنٹ ملانا، جسمانی تھکن، مالی تنگی، لیکن دل میں ایک ہی خواب، میری بیٹیاں پڑھیں گی۔
وہ روز صبح مزدوری پر جاتے، دن بھر دھوپ میں جلتے، شام کو جو پیسے ملتے اس کا بڑا حصہ بیٹیوں کی کتابوں، فیس اور یونیفارم پر لگا دیتے۔ لوگ کہتے، لڑکیوں کو کیوں پڑھا رہے ہو؟ اتنی بیٹیاں، اتنا خرچہ؟ لیکن چچا صلاح نے کسی کی نہ سنی۔ ان کے لیے ہر اینٹ اٹھانا اپنی بیٹیوں کا مستقبل بنانا تھا۔
آج 35 سال کی محنت رنگ لے آئی۔ آٹھوں بیٹیاں ڈاکٹر بن چکی ہیں۔ جو باپ کبھی تعمیراتی سائٹ پر مزدوری کرتا تھا، آج اس کی بیٹیاں اسپتال میں مریضوں کا علاج کرتی ہیں، سفید کوٹ پہنتی ہیں۔
یہ کہانی بتاتی ہے کہ عظمت دولت سے نہیں، قربانی سے آتی ہے۔ بعض باپ دولت نہیں دے سکتے لیکن اپنی پوری زندگی دے دیتے ہیں۔ چچا صلاح نے خود دھوپ برداشت کی تاکہ بیٹیاں کامیابی کے سائے میں رہیں۔ سلام ہے ایسے باپ کو!