جب جھارا پہلوان کی بیوی نے میڈم نور جہاں کو گھر سے نکال دیا تھا۔۔۔

“میڈم صاحبہ! آپ کو میرے میاں سے کیا غرض؟ جو بات کرنی ہے، مجھ سے کریں!” یہ سنسنی خیز اور دلچسپ قصہ ہے ملکہ ترنم نور جہاں اور اپنے وقت کے نامور رستمِ زماں جھارا پہلوان کی شریکِ حیات سائرہ بانو کا۔جھارا پہلوان کی بیوہ اپنی ازدواجی زندگی کا ایک یادگار لمحہ شیئر کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ ہماری شادی کے ابتدائی سال تھے جب جھارا ایک تاریخی دنگل جیت کر گھر لوٹے۔ ہر طرف جشن کا سماں تھا اور مبارکباد دینے والوں کا تانتا بندھا ہوا تھا کہ اچانک باہر شور اٹھا: “میڈم نور جہاں آئی ہیں!”میں نے تجسس میں آ کر جب کھڑکی سے باہر جھانکا تو دیکھا کہ میڈم نور جہاں صحن میں میرے میاں کے ساتھ کھڑی قہقہے لگا رہی ہیں۔ یہ دیکھ کر میرے اندر کی روایتی بیوی تلملا اٹھی اور مجھے شدید ج۔ل۔ن کا احساس ہوا، کیونکہ میں نے میڈم کی جادوئی شخصیت کے بارے میں پہلے ہی بہت کچھ سن رکھا تھا۔ خود پر ضبط نہ رہا، میں فوراً تیز قدموں سے چلتی ہوئی باہر گئی اور دونوں کے بیچ میں جا کر ڈٹ گئی۔میڈم نور جہاں نے مجھے دیکھا اور پنجابی میں پیار سے بولیں: “اری لڑکی! میں جانتی ہوں تو ہی سائرہ ہے۔” میں نے تیکھے تیوروں کے ساتھ جواب دیا: “اگر آپ جانتی بھی ہیں تو میں کیا کروں؟ وہ میرے ش۔و۔ہ۔ر ہیں، آپ کو جو کہنا ہے مجھ سے کہیں۔”میری اس تیز طراری کے باوجود میڈم نے ذرا بھی ب۔ر۔ا نہ منایا، بلکہ اطمینان سے چائے پی اور مسکراتے ہوئے وہاں سے الوداع کہا۔ سائرہ بانو کہتی ہیں کہ آج بھی جب مجھے ماضی کا یہ ورق یاد آتا ہے تو میرے چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی ہے کہ میں اپنے سرتاج سے کس قدر ٹوٹ کر محبت کرتی تھی۔
Disclaimer: This post is based on media reports and is for informational purposes only. Details may change as more information becomes available.

Leave a Comment