
شفقت چیمہ کا شوبز میں آنے کا فیصلہ، والد کی مخالفت اور جذباتی داستان
شفقت چیمہ کا شمار پاکستان کے اُن فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے فلم انڈسٹری میں اپنی منفرد پہچان بنائی۔ لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ شوبز کی دنیا میں قدم رکھنے کا ان کا فیصلہ اتنا آسان نہیں تھا۔ انہیں اپنے خاندان، خاص طور پر اپنے والد کی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔
بتایا جاتا ہے کہ شفقت چیمہ کے والد ایک مذہبی شخصیت اور مسجد کے امام تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا بھی ایک سادہ اور باعزت زندگی گزارے اور شوبز کی دنیا سے دور رہے۔ دوسری طرف شفقت چیمہ کے دل میں اداکاری کا شوق پیدا ہو چکا تھا اور وہ فلموں میں اپنا مستقبل بنانا چاہتے تھے۔
کہا جاتا ہے کہ ایک موقع پر والد نے بیٹے کو شوبز میں جانے سے روکنے کی بہت کوشش کی۔ وہ جذباتی ہو گئے اور شفقت چیمہ سے کہا کہ وہ فلمی دنیا میں جانے کا ارادہ ترک کر دیں۔ والد کی آنکھوں میں آنسو تھے اور وہ اپنے بیٹے کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے تھے۔
یہ لمحہ شفقت چیمہ کے لیے بھی انتہائی مشکل تھا۔ ایک طرف والد کی محبت اور ان کی خواہش تھی، جبکہ دوسری طرف اداکاری کا خواب تھا جسے وہ کسی صورت چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تھے۔
آخرکار شفقت چیمہ نے اپنے دل کی آواز سننے کا فیصلہ کیا اور گھر سے نکل گئے۔ ان کے لیے شوبز کا سفر بھی آسان نہیں تھا۔ انہوں نے ابتدائی دنوں میں مشکلات برداشت کیں، کئی طرح کی پریشانیوں کا سامنا کیا اور اپنی جگہ بنانے کے لیے طویل جدوجہد کی۔
وقت گزرتا گیا اور یہی نوجوان آگے چل کر پاکستانی فلم انڈسٹری کے معروف ولن بن گئے۔ اپنی مضبوط اداکاری، منفرد انداز اور طاقتور کرداروں کی وجہ سے شفقت چیمہ نے فلم بینوں میں خاص مقام حاصل کیا۔ ان کے کریڈٹ پر سینکڑوں فلمیں ہیں اور وہ پاکستانی سینما کے یادگار ولن میں شمار ہوتے ہیں۔
لیکن کامیابی اور شہرت کے باوجود والد سے جڑی یہ یاد ان کی زندگی کا ایک انتہائی جذباتی باب بن گئی۔ والد کے انتقال کے بعد ماضی کے وہ لمحات اور ان کی ناراضی کا خیال شفقت چیمہ کے لیے مزید تکلیف دہ بن گیا۔
وہ وقت واپس نہیں آ سکتا تھا، لیکن ماضی کی یادیں ضرور باقی رہ گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ شفقت چیمہ جب اپنے والد اور اپنی زندگی کے اس دور کا ذکر کرتے ہیں تو ان کی گفتگو میں جذبات نمایاں ہو جاتے ہیں۔
یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد بھی والدین کی محبت اور ان کے ساتھ گزارا ہوا وقت سب سے قیمتی چیزوں میں شامل ہوتا ہے۔