
انسانیت شرمسار۔۔۔۔۔ پنجاب میں بھیک مانگنے والے ‘اوڈھ گینگ’ کا ہولناک طریقۂ واردات بے نقاب
مخالفین کو پھنسانے کے لیے بے سہارا اور ذہنی معذوری کا شکار افراد کو اغوا کے بعد قتل کرنے والا گروہ پکڑا گیا مدعیہ ہی قاتل نکلی
ماسٹر مائنڈ حق نواز سمیت 2 ملزمان اٹک میں پولیس مقابلے کے دوران ہلاک مقتول 11 سالہ صائم رضا کے اصل ورثاء کا سراغ لگا لیا گیا
فتح جنگ/اٹک (سٹاف رپورٹر)
پنجاب میں دشمنی اور ذاتی تنازعات میں مخالفین کو عبرت کا نشانہ بنانے اور جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کے لیے معصوم، بے سہارا اور ذہنی معذوری کا شکار افراد کو اغوا کے بعد بے دردی سے قتل کرنے والے ایک انتہائی سفاک اور بھیانک ‘اوڈھ گینگ’ کا پردہ چاک کر دیا گیا ہے۔ پولیس حراست سے فرار ہونے والا اس ہولناک کھیل کا ماسٹر مائنڈ حق نواز اپنے ساتھی سمیت سی سی ڈی اٹک کے ساتھ ہونے والے ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا ہے۔ تفتیش کے دوران معلوم ہوا ہے کہ قتل اور خواتین کے اغوا کا مقدمہ درج کروانے والی مدعیہ بذاتِ خود اس سفاک قاتل گینگ کی سرگرم رکن تھی۔
تفصیلات کے مطابق، 24 ستمبر کی رات فتح جنگ کے ایک کھلے میدان میں واقع دو جھگیوں کے باہر چارپائیوں پر دو افراد کی لاشیں ملیں، جنہیں کلہاڑیوں کے وار کر کے انتہائی بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔ مقتولین میں ایک 11 سالہ معصوم بچہ اور دوسرا 35 سالہ شخص شامل تھا۔ موقع پر موجود مدعیہ اور دیگر افراد نے پولیس کو ابتدائی بیان دیا کہ رشتہ داری کے تنازع پر 11 مسلح افراد نے حملہ کر کے ان کے بیٹے ‘کجوم’ اور رشتہ دار ‘بشکو’ کو قتل کیا اور دو لڑکیوں کو اغوا کر کے لے گئے۔
پولیس نے اعلیٰ حکام ڈی پی او اور ڈی ایس پی کی نگرانی میں جب تفتیش کا دائرہ وسیع کیا اور ڈیرہ اسماعیل خان سے نامزد ملزمان کو گرفتار کیا، تو کہانی میں شدید تضادات سامنے آئے۔ پوسٹ مارٹم کے دوران مدعی فریق کے ایک شخص کے مشکوک رویے نے پولیس کا شک یقین میں بدل دیا۔ گہرائی میں جانے پر معلوم ہوا کہ نہ تو مقتولین ان کے رشتہ دار تھے اور نہ ہی خواتین کا اغوا ہوا تھا، بلکہ یہ سب ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت رچایا گیا ڈرامہ تھا۔
دورانِ تفتیش انکشاف ہوا کہ یہ گروہ پنجاب کے مختلف اضلاع سے ایسے انتہائی غریب، مفلس اور ذہنی معذوری کا شکار افراد کو نشانہ بناتا تھا جن کے لاپتا ہونے پر گھر والے پولیس رپورٹ تک درج نہیں کرواتے تھے۔ یہ گروہ انہیں اغوا کر کے لاتا، بے دردی سے قتل کرتا اور پھر لاشوں کو اپنا رشتہ دار ظاہر کر کے اپنے مخالفین کے خلاف قتل کا سنگین مقدمہ درج کروا دیتا تھا۔ یہ گینگ اس سے قبل لیہ، گوجرانوالہ اور بنوں سمیت کئی اضلاع میں اسی نوعیت کی ہولناک وارداتیں کر کے بے گناہ لوگوں کو جیل بھجوا چکا تھا۔
پولیس ٹیم کی دن رات کی محنت کے بعد مقتول 11 سالہ بچے کی اصل شناخت بورے والا کے رہائشی صائم رضا کے نام سے ہوئی، جو ذہنی معذوری کا شکار تھا اور اسے جنوبی پنجاب سے اغوا کیا گیا تھا۔ جب پولیس صائم کے اصل گھر پہنچی تو معلوم ہوا کہ وہ ایک انتہائی غریب خاندان کا چشم و چراغ تھا۔ ایک کمرے کے مکان میں صائم کی ماں کی آہیں اور بین کلیجہ چیر دینے والے تھے، جسے اب تک یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ اس کا معصوم جگر گوشہ کس بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ دوسرا 35 سالہ مقتول بھی ذہنی معذور تھا جسے سفاکی سے استعمال کیا گیا۔
پولیس نے مختلف چھاپوں کے دوران گینگ کے ماسٹر مائنڈ حق نواز سمیت 4 کارندوں کو گرفتار کیا تھا۔ تاہم، گزشتہ دنوں مبینہ ماسٹر مائنڈ حق نواز اور بچے کے قتل میں ملوث دوسرا ملزم پولیس حراست سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ آج سی سی ڈی اٹک کی پیشہ ورانہ ٹیم کے ساتھ ایک مسلح مقابلے کے دوران یہ دونوں مروجہ ملزمان ہلاک ہو گئے۔ پولیس کے مطابق گینگ کے دیگر ارکان کی گرفتاری اور سابقہ جھوٹے مقدمات کی منسوخی کے لیے کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ عوامی حلقوں نے پولیس کی اس تاریخی اور غیر معمولی تفتیش کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔