میاں نواز شریف کے چھوٹے بھائی حافظ عباس شریف کی روداد۔۔۔

میاں عباس شریف، جو میاں نواز شریف سے سات سال اور میاں شہباز شریف سے پانچ سال چھوٹے تھے، شریف خاندان کے سب سے چھوٹے صاحبزادے تھے۔ والد گرامی میاں محمد شریف نے انہیں بچپن میں ایک دینی مدرسے میں داخل کروایا جہاں انہوں نے قرآنِ مجید حفظ کرنے کی عظیم سعادت حاصل کی۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے لاہور سے عصری تعلیم مکمل کی اور پھر والد کے ساتھ کاروبار میں ہاتھ بٹانا شروع کیا۔ ان کے دو بیٹے ہیں: یوسف عباس اور عزیز عباس۔ میاں عباس شریف اپنے بڑے بھائی میاں نواز شریف کے سمدھی بھی تھے کیونکہ ان کی بیٹی سائرہ عباس کی شادی نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز سے ہوئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عباس شریف کی طرح ان کے نواسے زید حسین بھی حافظِ قرآن ہیں، اور زید حسین میاں نواز شریف کے پوتے ہیں۔
حافظ عباس شریف، میاں نواز شریف کے سب سے چھوٹے بھائی تھے۔ وہ سیاست میں طاقت، عہدے یا حکومت حاصل کرنے کے لیے نہیں آئے تھے۔ 1993ء کے انتخابات میں نواز شریف دو نشستوں سے جیت گئے تھے، لیکن جب انہوں نے لاہور کی ایک نشست چھوڑ دی تو وہاں ضمنی انتخاب ہوا۔ نواز شریف نے 2 دسمبر 1993ء کے اس الیکشن میں اپنے بھائی عباس شریف کو شیر کے نشان پر کھڑا ہونے کا کہا۔ عباس شریف اپنے بڑے بھائی کی بات نہ ٹال سکے، چنانچہ انہوں نے پہلی بار الیکشن لڑا اور جیت گئے۔ یہی ان کی زندگی کا پہلا اور آخری الیکشن تھا۔ انہیں سیاست اور پارلیمان کی مصروف زندگی پسند نہیں تھی، اس لیے وہ وہاں کم ہی جاتے تھے۔ ان کا زیادہ وقت رائے ونڈ کے تبلیغی مرکز میں عبادت، ذکر اور دینی کاموں میں گزرتا تھا۔ وہ دنیاوی عہدوں کے بجائے اللہ کی رضا اور دین کی خدمت کو اپنی زندگی کا سب سے اہم مقصد سمجھتے تھے۔

میاں عباس شریف مرحوم کی پاکیزہ زندگی اور شریف خاندان پر گزرنے والے سخت دنوں کی ایک اور کہانی
میاں محمد شریف کے سب سے چھوٹے بیٹے، حافظ قرآن میاں عباس شریف مرحوم۔ ایک درویش صفت انسان جو اپنی پوری زندگی دعوت و تبلیغ کے لیے وقف کیے رکھتے تھے۔
یاد رہے کہ عباس شریف مرحوم کی طرح ان کے نواسے زید حسین نواز (نواز شریف کے پوتے اور حسین نواز کے بیٹے) بھی حافظ قرآن ہیں۔ حسین نواز کی اہلیہ سائرہ عباس، میاں عباس شریف کی بیٹی ہیں۔
عباس شریف مرحوم کے بیٹوں کے نام یوسف عباس اور عزیز عباس (عبدالعزیز عباس) ہیں، جبکہ بیٹیاں سارہ اور سلمہ ہیں۔
12 اکتوبر 1999 کے فوجی انقلاب کے بعد جنرل پرویز مشرف نے شریف خاندان پر بہت سختیاں کیں، عورتوں اور بچوں کو گھروں میں نظر بند کیا، تو وہیں معصوم اور تبلیغی مزاج عباس شریف کو بھی گھر سے اٹھا کر لاہور کی کیمپ جیل میں ڈال دیا گیا۔
چوہدری شجاعت حسین کی کتاب “سچ تو یہ ہے” کے مطابق: جب عباس شریف کی رہائی کے احکامات آئے تو نماز کا وقت قریب تھا۔ انہوں نے فوری جیل چھوڑنے کے بجائے اذان کا انتظار کیا، وضو کیا، قیدیوں کے ساتھ باجماعت نماز ادا کی، سب سے رخصت لی اور پھر باہر تشریف لائے۔
ایسے نیک، پرہیزگار اور صابر انسانوں کی یادیں دل کو سکون دیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور درجات بلند کریں

Leave a Comment