پھانسی لگنے سے چند گھنٹے پہلے بچ جانیوالے محمد انور کی کہانی۔۔۔

ایک صبح پانچ بجے انہیں پھانسی دی جانی تھی۔ زندگی کی آخری رات شروع ہو چکی تھی، لیکن جیل کی دیواروں کے باہر ان کے بھائی اب بھی انہیں بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ ضلع وہاڑی کے علاقے منڈی بورے والا سے تعلق رکھنے والے چوہدری محمد انور کی کہانی ہے، جن کی زندگی کا ایک واقعہ انہیں اس مقام تک لے آیا جہاں ہر گزرتا گھنٹہ موت کے قریب لے جا رہا تھا۔ اپنے انٹرویو میں وہ بتاتے ہیں کہ اس طویل قید نے ان سے صرف آزادی نہیں چھینی، بلکہ جوانی، والدین کا ساتھ اور خاندان کا مالی سہارا بھی چھین لیا۔

محمد انور کے بیان کے مطابق، یہ واقعہ 1993 میں پیش آیا۔ ان کے بڑے بھائی کی کچھ لوگوں سے دشمنی تھی اور ایک روز مخالفین ان کے گھر بھائی کو مارنے پہنچ گئے۔ انور اُس وقت کم عمر تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اپنے بھائی کو بچانے کے لیے گھبراہٹ میں گھر کے اندر سے پستول اٹھایا اور گولی چلا دی، جس کے نتیجے میں ایک شخص کی جان چلی گئی۔ اس کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ ایک جھگڑے کے دوران اٹھایا گیا یہ قدم ان کی زندگی کا رخ بدل گیا اور آنے والے برس عدالتوں، اپیلوں اور جیل کی سلاخوں کے درمیان گزرنے لگے۔

انور کے مطابق، 6 مارچ 1994 کو ان کا ٹرائل شروع ہوا اور 27 جون 1998 کو سیشن عدالت نے انہیں سزائے موت سنا دی۔ اس فیصلے کے بعد انہیں سینٹرل جیل ملتان کی کال کوٹھری میں منتقل کر دیا گیا۔ 2001 میں ہائی کورٹ سے ان کی اپیل خارج ہوئی۔ اسی دوران، ان کے بیان کے مطابق، مشرف دور میں جرم کے وقت اٹھارہ سال سے کم عمر ہونے والے قیدیوں کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی رعایت سامنے آئی، جس کے تحت ان کی عمر جانچنے کے لیے میڈیکل بورڈ بنایا گیا۔ تاہم ان کی رہائی کا راستہ فوری طور پر نہ کھل سکا؛ 2007 میں سپریم کورٹ سے بھی اپیل خارج ہو گئی اور 2015 میں رحم کی اپیل بھی مسترد کر دی گئی۔

پھر وہ وقت آیا جس کا خوف انہیں برسوں سے تھا۔ انور بتاتے ہیں کہ 19 دسمبر 2015 کو ان کے بلیک وارنٹ جاری ہوئے اور اگلی صبح پانچ بجے پھانسی مقرر تھی۔ ان کے بھائیوں نے آخری کوشش کے طور پر جرم کے وقت ان کی کم عمری کی بنیاد پر رات گئے عدالت سے رجوع کیا۔ ان کے مطابق، رات دس بجے ہائی کورٹ نے پھانسی روکنے کا حکم جاری کر دیا، یعنی مقررہ وقت سے صرف سات گھنٹے پہلے۔ پھانسی تو رک گئی، مگر آزادی کا انتظار ابھی باقی تھا۔ انہیں مزید وقت جیل میں گزارنا پڑا اور ان کی زندگی ایک بار پھر عدالتی فیصلے کی منتظر ہو گئی۔

جیل کے ان برسوں کا ذکر کرتے ہوئے محمد انور بتاتے ہیں کہ انہوں نے اپنے سامنے تقریباً پچاس ساتھی قیدیوں کو پھانسی کے لیے جاتے دیکھا۔ ان کے مطابق، جب کسی ساتھی کو پھانسی دی جاتی تو باقی قیدی غم اور خوف کے باعث دو دو دن تک کھانا نہیں کھاتے تھے۔ اس ماحول میں اپنے جذبات بیان کرنے کے لیے انہوں نے شاعری کا سہارا لیا۔ ایک مرتبہ جب سپرنٹنڈنٹ جیل نے قیدیوں سے کاغذ اور قلم واپس لینے کا حکم دیا تو انور نے ایک پنجابی قطعہ لکھ کر انہیں پیش کیا اور درخواست کی کہ اظہار کا یہ ذریعہ ان سے نہ چھینا جائے۔ ان کے لیے کاغذ اور قلم قید کے دوران اپنے دکھ کو لفظوں میں ڈھالنے کا سہارا بن گئے تھے۔

اس طویل قید کی قیمت ان کے خاندان نے بھی ادا کی۔ انور کے مطابق، ان کی جان بچانے اور مقدمے کی پیروی کے لیے گھر والوں نے زمینیں اور جائیداد تک بیچ دیں۔ اسی عرصے میں ان کے والد کو دل کا دورہ پڑا اور وہ انتقال کر گئے، جبکہ بعد میں والدہ بھی صدمے کے دوران دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ جس گھر میں واپس جانے کی امید انہیں زندہ رکھے ہوئے تھی، وہاں والدین اب ان کے منتظر نہیں تھے۔ عدالتوں میں جاری کوششوں کے ساتھ خاندان اپنے پیاروں اور مالی وسائل سے بھی محروم ہوتا چلا گیا۔

بالآخر، انور کے بیان کے مطابق، 2001 کے میڈیکل بورڈ کی وہ رپورٹ ان کے حق میں فیصلہ کن ثابت ہوئی جس میں جرم کے وقت ان کی عمر اٹھارہ سال سے کم قرار دی گئی تھی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اٹھائیس سال کی قید ختم ہوئی اور انہیں رہائی مل گئی۔ اب وہ ایک پرسکون زندگی گزارنا چاہتے ہیں، شادی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور حکومت و مخیر حضرات سے مدد کی اپیل کرتے ہیں تاکہ کوئی چھوٹی دکان یا کاروبار شروع کر کے اپنی باقی زندگی عزت سے گزار سکیں۔ آزادی مل چکی ہے، لیکن زندگی دوبارہ سنبھالنے کے لیے انہیں روزگار اور سہارے کی ضرورت ہے۔

نوجوانوں کے لیے محمد انور کا پیغام ان کی اپنی زندگی کے تجربے سے نکلا ہے: لڑائی، غصے اور ہتھیار اٹھانے سے دور رہیں، برداشت اور درگزر اختیار کریں۔ ان کی کہانی میں ایک جان کا نقصان، ایک نوجوان کی اٹھائیس سالہ قید، والدین کی جدائی اور پورے خاندان کی قربانیاں شامل ہیں۔ کسی جھگڑے میں اٹھایا گیا ایک قدم ایسے نتائج پیدا کر سکتا ہے جن کا بوجھ انسان اور اس کے گھر والے دہائیوں تک اٹھاتے رہیں۔ غصے کے وقت خود کو روک لینا صرف اُس لمحے کو سنبھالنا نہیں، اپنی اور دوسروں کی آنے والی زندگی کو محفوظ رکھنا بھی ہے۔

Leave a Comment