
ایک بزرگ کے یہ الفاظ انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں کہ کسی کی بھوک مٹاتے ہوئے ہم اس کی عزت کا کتنا خیال رکھتے ہیں۔ بابا جی کہیں کھڑے تھے۔ ایک ویڈیو بنانے والے شخص نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ انہیں کھانا کھلا دے؟ بزرگ نے اپنی ضرورت چھپانے کی کوشش نہیں کی۔ صاف کہہ دیا: ’’جی کھلاؤ، میں تو بھوکا ہوں۔‘‘
لیکن جب چاولوں کی پلیٹ ان کے آگے کی گئی اور ویڈیو بنائی جانے لگی، تو انہوں نے کھانا لینے سے انکار کر دیا۔ ان کی بات بالکل واضح تھی: انہیں بھوک لگی تھی، مگر اس بھوک کے ساتھ اپنی تصویر بنوانا قبول نہیں تھا۔
یہ ایک خوددار انسان کا مؤقف تھا۔ انہوں نے کھانا مانگنے یا قبول کرنے کو عار نہیں سمجھا؛ انہوں نے اپنی ضرورت کی نمائش پر اعتراض کیا۔ اس فرق کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ کسی ضرورت مند کی بھی اپنی مرضی ہوتی ہے، اپنا وقار ہوتا ہے اور اپنی نجی زندگی ہوتی ہے۔ اسے پورا حق حاصل ہے کہ وہ کھانا قبول کرے اور کیمرے کے سامنے آنے سے انکار کر دے۔ اس انکار کا احترام کرنا بھی مدد کرنے والے کی ذمہ داری ہے۔
ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ ہماری بنائی ہوئی ایک ویڈیو کسی شخص کے لیے کتنی تکلیف کا باعث بن سکتی ہے۔ ممکن ہے وہ اپنی تنگ دستی اپنے جاننے والوں سے پوشیدہ رکھنا چاہتا ہو۔ ممکن ہے اسے دوسروں کے سامنے اپنی بے بسی دکھائے جانے سے دکھ پہنچتا ہو۔ کسی کے ہاتھ میں کھانے کی پلیٹ دینے سے پہلے اس کی رضامندی کا خیال رکھنا چاہیے۔
بابا جی کے الفاظ میں خودداری کے ساتھ اپنے رب پر بھروسا بھی تھا: ’’مجھے آج بھی وہی دے گا جو پچھلے ستر سال سے دے رہا ہے۔‘‘ بھوک کی حالت میں بھی ان کا یہ یقین قائم تھا کہ رزق دینے والا اللہ ہے۔ ہر بھوکے انسان کو کھانا ملنا چاہیے، عزت کے ساتھ۔ اور جو شخص اپنی ضرورت کے باعث کیمرے کے سامنے مدد قبول کر لے، اس کی عزت بھی اتنی ہی قابلِ احترام ہے۔ اصل ذمہ داری ہم پر ہے کہ کسی کی مجبوری سے فائدہ اٹھائے بغیر اس کا سہارا بنیں۔
اللہ ہمیں توفیق دے کہ ہم کسی کے کام آئیں تو اس کی رضامندی، پردے اور خودداری کا خیال رکھیں۔ کسی کا پیٹ بھرنے کے ساتھ اس کا دل بھی محفوظ رکھیں۔