ایک سعادت مند، نیک اور فرمانبردار بیٹے کی کہانی۔۔۔

ایک اسٹینڈ پر ہینڈ فری اور موبائل کی دوسری چھوٹی چھوٹی ایکسیسریز بیچنے والا یہ شخص اپنے انٹرویو میں بتاتا ہے کہ اس نے اپنا گھر بنانے کے لیے تین لاکھ روپے جمع کیے تھے۔ اس رقم کے ساتھ اس کی ایک بڑی امید جڑی تھی کہ وہ بھی اپنا گھر بنا سکے گا۔ پھر اس کی والدہ بیمار ہوگئیں اور ان کے آپریشن کی ضرورت پڑ گئی۔ اب گھر کے لیے جمع کی ہوئی رقم ماں کے علاج پر خرچ کرنے کا فیصلہ کرنا تھا۔

اس شخص کے بقول، اس کی بہنوں نے اسے روکا۔ انہیں خدشہ تھا کہ والدہ شاید زندہ نہ بچ سکیں اور یہ رقم خرچ کرنے سے اس کے اپنے گھر کا خواب بھی ٹوٹ جائے گا۔ لیکن اس بیٹے نے اپنی جمع پونجی والدہ کے آپریشن پر لگا دی۔ اس کے لیے اپنی ماں کو بچانے کی کوشش کرنا سب سے زیادہ ضروری تھا۔

ذرا اس لمحے کا سوچیں جب ایک انسان اپنے ہاتھوں سے جمع کیے ہوئے پیسے نکالتا ہے۔ اسے اپنا خواب بھی یاد ہوتا ہے، اپنی محنت بھی، اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اتنی رقم دوبارہ جمع کرنا آسان نہیں ہوگا۔ پھر بھی وہ اپنے کسی پیارے کے علاج کے لیے وہ رقم دے دیتا ہے، کیونکہ وہ اس کی زندگی بچانے کی کوشش میں کوئی کمی نہیں چھوڑنا چاہتا۔

اس بیٹے نے بھی اپنے گھر کی خواہش کو پیچھے رکھ کر ماں کے علاج کو ترجیح دی۔ علاج کا نتیجہ اس کے اختیار میں نہیں تھا، لیکن اپنی استطاعت کے مطابق کوشش کرنا اس کے اختیار میں تھا، اور اس نے وہ کوشش کی۔

ایک چھوٹے سے اسٹینڈ پر سامان بیچنے والے اس شخص کا یہ فیصلہ دل کو چھو جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کی محبت ان کے عمل میں دکھائی دیتی ہے؛ جب ضرورت پڑے تو اپنی عزیز ترین خواہش کے لیے رکھی ہوئی جمع پونجی بھی اپنے پیاروں پر خرچ کر دیتے ہیں۔

اللہ پاک اس بیٹے کی محنت میں برکت دے، اس کے لیے آسانیاں پیدا کرے اور اسے اپنا گھر بنانے کی خوشی بھی نصیب فرمائے۔

Leave a Comment