
7 جولائی 2017 کی دوپہر بنگلہ دیش میں ڈھاکا سے متلب جانے والی مسافر بس “متلب ایکسپریس” تیز رفتاری کے باعث اچانک ڈرائیور کے قابو سے نکل گئی اور کومیلا کے داؤدکانڈی علاقے میں گوری پور بس اسٹاپ کے قریب سڑک کنارے پانی سے بھرے گہرے گڑھے میں جا گری۔ بس پانی میں ڈوبنے لگی اور اس کے اندر موجود مسافروں کے لیے دروازوں سے باہر نکلنا مشکل ہوگیا۔
حادثے کے مقام پر جمع لوگ مدد کرنے کے بجائے موبائل فون سے ویڈیوز اور تصاویر بنا رہے تھے۔ اسی دوران داؤدکانڈی ہائی وے پولیس کے کانسٹیبل پرویز میاں وہاں پہنچے۔ انہوں نے کسی امدادی ٹیم یا خصوصی سازوسامان کا انتظار نہیں کیا اور اپنی جان کی پروا کیے بغیر فوراً گندے اور گہرے پانی میں چھلانگ لگا دی۔ پرویز ڈوبتی ہوئی بس تک پہنچے، اس کی کھڑکیوں کے شیشے توڑے اور اندر پھنسے مسافروں کے لیے باہر نکلنے کا راستہ بنایا۔ پھر وہ مسلسل مسافروں کو کھڑکیوں کے راستے نکال کر محفوظ سمت بھیجتے رہے۔
اس کارروائی کے دوران کم از کم 25 مسافر بس سے زندہ نکل آئے، جن میں ایک پانچ سالہ بچہ بھی شامل تھا۔ سب مسافر باہر آنے کے باوجود پرویز مطمئن نہیں ہوئے؛ انہوں نے کئی مرتبہ دوبارہ پانی میں غوطے لگائے اور ڈوبی ہوئی بس کے اندر تلاش کی تاکہ کوئی زخمی یا بے ہوش مسافر پیچھے نہ رہ گیا ہو۔ ان کی بروقت کارروائی کے باعث حادثے میں کسی مسافر کی جان نہیں گئی۔
پرویز میاں کی بہادری پر ان کے افسران نے نقد انعامات کا اعلان کیا اور انہیں اعلیٰ سرکاری اعزاز دینے کی سفارش بھی کی۔ بعد کی رپورٹ کے مطابق انہیں بنگلہ دیش پولیس کا اعلیٰ اعزاز بنگلہ دیش پولیس میڈل دیا گیا۔
سورس: ڈھاکہ ٹریبیون