
ایک طرف بیٹے کی زندگی ڈائلیسس کے سہارے چل رہی تھی… دوسری طرف باپ لوگوں کی حفاظت کا فرض نبھا رہا تھا۔ ڈی ایس پی سی ٹی ڈی عمران الدین صرف ایک پولیس افسر نہیں تھے، وہ ایک ایسے باپ بھی تھے جس کا کم عمر بیٹا گردوں کی بیماری میں مبتلا ہے۔ ایک باپ جس کے دل میں اپنے بچے کی صحت کی فکر تھی، اور کندھوں پر لوگوں کی حفاظت کی ذمہ داری۔
ذرا ایک لمحے کے لیے اس باپ کی کیفیت محسوس کیجیے… اپنے بچے کو بیمار دیکھنا ہی کتنا بڑا دکھ ہوتا ہے۔ اس کے علاج کی فکر، اس کی تکلیف کا احساس اور اس کی صحت یابی کی دعا انسان کے ساتھ ہر جگہ چلتی ہے۔ وردی پہن لینے سے باپ کا دل بدل نہیں جاتا؛ بچے کی پریشانی ڈیوٹی پر بھی دل میں رہتی ہے۔
عمران الدین یہی دکھ اپنے دل میں لیے اپنا فرض نبھاتے رہے۔ 22 اکتوبر کو ضلع کرک میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے دوران وہ شہید ہو گئے۔ ایک گھر اپنے پیارے سے محروم ہو گیا، اور گردوں کی بیماری سے لڑتا ایک بیٹا اپنے باپ کی شفقت کھو بیٹھا۔
یہ سوچ دل کو چیر دیتی ہے کہ جس باپ کو اپنے بیٹے کی صحت یابی کی فکر تھی، وہ خود اس دنیا سے رخصت ہو گیا… بیٹے کا علاج ابھی جاری ہے، مگر اس کے لیے فکرمند رہنے والا باپ اب اس کے پاس نہیں رہا۔ اب اس بچے کو علاج کے ساتھ مسلسل سہارے کی بھی ضرورت ہے۔ حکومتِ خیبر پختونخوا، محکمۂ پولیس اور متعلقہ اداروں سے اپیل ہے کہ اس کے بہترین علاج کی مکمل ذمہ داری اٹھائیں، اور شہید کے خاندان کی کفالت و بچوں کی تعلیم کا مؤثر بندوبست کریں۔
جس شخص نے ہماری حفاظت کرتے ہوئے اپنی جان قربان کی، اس کے بچوں کی دیکھ بھال ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس بیمار بیٹے کے علاج کا تسلسل برقرار رکھنا اپنے محافظ کی قربانی کو عملی طور پر یاد رکھنے کا ایک راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ شہید عمران الدین کے درجات بلند فرمائے، ان کے بیٹے کو صحتِ کاملہ عطا فرمائے اور اہلِ خانہ کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی ہمت دے۔