
جن دنوں شوکت حسین رضوی صاحب کی پنجابی فلم ’’چن وے‘‘ بن رہی تھی۔ اس وقت ہماری دوستی لاہور کے بعض فلمی صحافیوں سے ہو گئی تھی جن کے ذریعے فلمی خبریں ہم تک پہنچا کرتی تھیں۔ ’’چن وے ‘‘ پر ہدایت کارہ کی حیثیت سے تو نور جہاں کا نام دیا جا رہا تھا لیکن درحقیقت اس کے ہدایت کار خود شوکت صاحب تھے۔ انہوں نے اس سے پہلے کبھی پنجابی فلم نہیں بنائی تھی اس لئے ’’چن وے‘‘ پر بطور ہدایت کار اپنا نام دینا پسند نہیں کیا۔ نور جہاں اور شوکت حسین رضوی اس زمانے میں بہت بڑے نام تھے۔ بمبئی سے جو فلم والے پاکستان آگئے تھے ان میں یہ نام سر فہرست تھے۔ نور جہاں کا اداکارہ اور گلوکارہ کی حیثیت سے طوطی بول رہا تھا۔ سارا ہندوستان اس کا دیوانہ تھا۔ جب پاکستان بنا تو اس خطے میں نور جہاں پہلے ہی ایک سپر اسٹار کی حیثیت سے پہچانی جاتی تھیں۔ شوکت حسین رضوی بھی اپنی کامیاب ترین فلموں کی وجہ سے بہت مشہور تھے۔ا س لئے ’’چن وے‘‘ پاکستانیوں کے لئے ایک خاص اہمیت رکھتی تھی۔
’’چن وے ‘‘ کے ہیرو سنتوش کمار تھے۔ دراصل اس زمانے میں سنتوش کمار پاکستان میں اکلوتے ہیرو تھے۔ اردو پنجابی ہر زبان کی فلموں میں کام کرنے کے لئے ان ہی کی خدمات حاصل کی جاتی تھیں۔ ’’چن وے ‘‘ میں بھی ان کو نور جہاں کے ساتھ ہیرو کاسٹ کیا گیا۔ سنتوش کمار تعلیم یافتہ، ذہین اور حاضر جواب نوجوا ن تھے۔ خود اعتمادی بھی بلا کی تھی مگر وہ فطرتاً کچھ شرمیلے واقع ہوئے تھے۔ آخر وقت تک ’’کچھ شرمیلا‘‘ پن ان میں باقی تھا وہ دوسرے ہیروز کی طرح لڑکیوں کے پیچھے نہیں بھاگتے تھے۔ نہ ہی ہیروئن کے ساتھ عشق لڑانا شروع کر دیتے تھے۔ بے تکلف اور ہنس مکھ آدمی تھے۔ مگر خواتین کے ساتھ تعلقات اور بات چیت میں کچھ شرمیلے تھے۔ پاکستان کے بہت سے دوسرے ہیروز کی طرح وہ کچھ ہیروئنوں کے پیچھے مارے مارے نہیں پھرے۔ ان کا صرف ایک اسکینڈل صبیحہ خانم کے ساتھ بنا تھا۔ یہ بھی اسکینڈل نہیں تھا، رومانس تھا۔ جس کے نتیجے میں ان دونوں کی شادی ہو گئی تھی۔ اپنی تمام بے تکلفی کے باوجود سنتوش صاحب عورتوں کے ساتھ بے باکی کا مظاہرہ کرنے سے قاصر تھے۔ ایک جھجک ان پر غالب آجاتی تھی۔ اداکاری کے آغاز کے دنوں میں تو ہیروئنوں سے باتیں کرتے ہوئے ان کا چہرہ باقاعدہ سرخ ہو جاتا تھا۔ ان کے اس دور کو دیکھ کر ہمیں بھارت کے سدا بہار ہیرو اشوک کمار کے بارے میں سعادت حسن منٹوکا لکھا ہوا خاکہ یاد آجاتا تھا۔ اشوک کمار اس زمانے میں بھی سپر اسٹار تھے مگر عالم یہ تھا کہ تین چار لڑکیوں کا جمگھٹا دیکھ کر وہ بوکھلا جاتے تھے۔ لڑکیوں کے فون سن کر انہیں پسینہ آجاتا تھا۔ کچھ ایسا ہی حال سنتوش کمار کا بھی تھا۔
’’چن وے‘‘ کی شوٹنگ کے سلسلے میں جب پہلی بار نور جہاں اور سنتوش کمار ایک رومانی منظر میں اکٹھے ہوئے تو سنتوش صاحب گھبرا سے گئے۔ ایک اتنی بڑی اور نامور ہیروئن کے ساتھ رومانی سین کرنے کا یہ ان کے لئے پہلا موقع تھا۔ پھر یہ کہ وہ ہیروئن اسٹوڈیو کے مالک اور فلم سازو و ہدایت کی بیوی بھی تھی جو کیمرے کے ساتھ ہی کھڑا ہوا تھا۔ رومانی سین کے مطابق مکالمے بولتے ہوئے سنتوش کو نور جہاں کا ہاتھ تھام کر انہیں اپنی طرف کھینچنا تھا۔ مکالمے تو وہ بول گئے مگر جب ہاتھ پکڑنے کا مرحلہ آیا تو سنتوش کمار جھجک کر رہ گئے۔ دو تین بار ریہرسل کی گئی۔ بڑی مشکل سے انہوں نے ایک بار جھجکے ہوئے بڑی احتیاط سے نورجہاں کا ہاتھ پکڑا تو ایک صاحب نے کہا ’’بھائی ہیروئن کا ہاتھ پکڑ رہے ہو یا اس کی نبض دیکھ رہے ہو؟‘‘
شوکت صاحب آخر تنگ آگئے۔ سنتوش صاحب سے کہنے لگے ’’بھائی یہ تمہاری ہیروئن ہے‘ تم اس سے عشق کرتے ہو۔ اتنا زیادہ احترام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ‘‘
نور جہاں نے بھی ادھر ادھر کی باتیں کر کے کچھ حوصلہ بڑھایا تب کہیں جا کر یہ رومانی سین ہدایت کار کی مرضی کے مطابق فلمایا جا سکا۔ اس کے بعد سنتوش کمار کے معاملے میں بذات خود اس کا نظارہ کیا ہے۔ ’’چن وے ‘‘ میں سنتوش کمار اپنی ہیروئن کا ہاتھ پکڑتے ہوئے ہچکچا رہے تھے مگر جب ہدایت کار لقمان (مرحوم) نے اپنی پہلی پنجابی فلم ’’پتن ‘‘ بنائی تو اس میں مسرت نذیر ہیروئن تھیں۔ بطور ہیروئن یہ مسرت نذیر کی پہلی فلم تھی۔ لقمان صاحب نے پہلے دن ہی ایک رومانی سین فلمانے کا پروگرام بنایا۔ سین یہ تھا کہ ہیرو اور ہیروئن ایک پر فضا مقام پر رومانی گفتگو کر رہے ہیں اور ہیروئن رخصت ہونے سے پہلے ہیرو کے گلے لگ جاتی ہے اور پھر شرما کر بھاگ جاتی ہے۔ بے چاری مسرت نذیر کے لئے تو اسٹوڈیو کی روشنیوں میں اتنے بہت سے لوگوں کے ساتھ کام کرنے کا یہ پہلا اتفاق تھا۔ اس پر ستم یہ کہ انہیں سب کے سامنے ایک رومانی منظر کی ضرورت کے مطابق ہیرو سے پیار بھرے مکالمے بولنے تھے اور پھر اس کے گلے بھی لگنا تھا۔
مسرت نذیر کو جب لقمان صاحب نے یہ سین سنایا اور سمجھایا تو وہ پریشان ہو گئیں۔ پہلے تو انہوں نے یہ منظر فلمانے سے ہی صاف انکار کر دیا۔
’’مگر مسرت یہ سین تو بہت ضروری ہے۔‘‘
’’آپ اس کی جگہ کوئی اور اچھا سا سین رکھ دیں۔ آپ ڈائریکٹر ہیں کیا اتنا بھی نہیں کر سکتے ؟‘‘
انہوں نے کہا ’’بھئی میں ڈائریکٹر ضرور ہوں مگر یہ فلم کی کہانی کا تقاضا ہے۔‘‘
مسرت نذیر نے چاروں طرف دیکھا اور پھر کہا۔ ’’اتنے بہت سے لوگوں کے سامنے میں یہ سین نہیں کروں گی۔ آپ ان سب کو باہر نکال دیں۔‘‘
لقمان صاحب ہنسنے لگے۔ بولے ’’یہ کوئی فالتو لوگ نہیں ہیں۔ یونٹ کے لوگ ہیں۔ ان کے بغیر شوٹنگ نہیں ہو سکتی۔ ‘‘
’’مگر مجھے بہت شرم آرہی ہے۔‘‘
بالآخر سنتوش صاحب نے مسرت کو سمجھانے کی ذمے داری سنبھالی۔ پہلے تو چائے منگائی گئی۔ پھر سنتوش نے مسرت نذیر کے ساتھ کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں کیں اور بتایا کہ ’’شروع شروع میں ایساہی ہوتا ہے۔ تم تو لڑکی ہو۔ میں خود شرماجاتا تھا۔ مگر رفتہ رفتہ جھجک دور ہو جاتی ہے۔ تم یہ سمجھ لو کہ یہ سب مصنوعی ہے۔ جھوٹ موٹ کی باتیں ہیں۔‘‘
ریہرسل شروع ہوئی تو مسرت نذیر نے بہت رسمی انداز میں مکالمے ادا کئے اور ہیرو سے اس طرح گلے ملیں جیسے کوئی سزا بھگت رہی ہیں۔
’’مسرت یہ تم کیا کر رہی ہو۔‘‘ لقمان صاحب نے کہا۔ ’’اس منظر میں حقیقت کا رنگ نظر آنا چاہیے۔ تم تو یوں کر رہی ہو جیسے سب کچھ مصنوعی ہے۔ ‘‘
مسرت نے سادگی سے کہا ’’سنتوش صاحب نے مجھ سے یہی تو کہا ہے کہ جھوٹ موٹ ہے۔ مصنوعی ہے۔‘‘
’’ارے بھئی وہ تو ٹھیک ہے۔ مگر فلم دیکھنے والوں کو تو یہ بالکل اصلی نظر آنا چاہیے۔ ورنہ ان پر کوئی اثر نہیں ہو گا۔ ‘‘
ایک بار پھر سنتوش کمار نے مسرت نذیر کو سمجھایا۔ اداکاری کی مجبوریاں اور باریکیاں سمجھائیں۔ ریہرسل میں ان کی حوصلہ افزائی کی۔ اس طرح یہ سین کافی دیر کے بعد فلمایا گیا ورنہ لقمان صاحب تو نا امید ہو کر سوچتے تھے کہ کیا یہ لڑکی واقعی ہیروئن بن سکے گی؟۔
یہ تذکرہ تو درمیان میں نکل آیا ورنہ ہم آپ کو ’’چن وے ‘‘ کے زمانے کی باتیں سنا رہے تھے۔ ’’چن وے ‘‘ میں شوکت صاحب نے سائیڈ ہیرو کے طور پر ایک نئے نوجوان کو موقع دیا تھا۔ ان کا نام جہانگیر خان تھا۔ یہ صوبہ سرحد سے تعلق رکھتے تھے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اور لاہور کے مشہور انگریزی اخبار ’’سول اینڈ ملٹری گزٹ‘‘ میں رپورٹر تھے۔ خوبرو اور دلکش شخصیت کے مالک تھے۔ اداکاری کا بھی شوق تھا۔ جب شوکت صاحب نے انہیں سائیڈ ہیرو کا کردار کرنے کی پیشکش کی تو تھوڑے سوچ بچار کے بعد وہ رضامند ہو گئے مگر وہ اچھے ادکار ثابت نہ ہوئے۔ ’’چن وے‘‘ میں شوکت صاحب کی کوششوں کے باوجود وہ اچھی اداکاری نہ کر سکے۔ جب یہ فلم نمائش کے لئے پیش کی گئی تو تماشائیوں کو جہانگیر خان کی اداکاری بالکل پسند نہیں آئی۔ اس زمانے میں گوال منڈی کے چوک کے علاقے کے کباب اور تکے اور دہی لسی بہت مشہور تھی۔ سارے شہر سے لوگ وہاں کھانے پینے کے لئے آیا کرتے تھے۔ ’’چن وے ‘‘ کی نمائش کے بعد جہانگیر خان بھی سفید کلف دار شلوار قمیض پہن کر ایک سجے ہوئے تانگے میں سوار ہو کر گوال منڈی کے چوک میں پہنچ گئے۔ دکان دار نے ان کی بہت آؤ بھگت کی۔ انہیں پہلے تو تکے اور کباب کھلائے اور پھر ان کے سامنے کھیر کا کونڈا رکھ دیا اور کہا۔ ’’باؤ جی کھاؤ۔‘‘
باؤ جی خاصے خوش خوراک تھے۔ نوجوان تھے۔ تندرست اور توانا تھے۔ انہوں نے کھیرسے شوق فرمانا شروع کر دیا۔کچھ کھانے کے بعد ہاتھ روکا تو پہلوان جی اور ان کے شاگردوں نے کہا۔ ’’باؤ جی ہو رکھاؤ۔‘‘
باؤ جی نے تھوڑی سی کھیر اور کھا لی اور رومال سے منہ صاف کرنے کے بعد بولے ’’بس پہلوان جی اب گنجائش نہیں رہی۔‘‘
پہلوان جی نے کہا۔ ’’باؤ جی گنجائش کی بات نہیں ہے۔ یہ کھیر تو آپ کو ختم کرنی پڑے گی۔‘‘
’’ارے نہیں جناب۔ بس بڑی مہربانی۔‘‘
پہلوان جی کی آنکھیں لال ہو گئیں۔ بولے۔ ’’باؤ جی آج یہ کھیر ختم کرنی پڑے گی‘‘۔
جہانگیر خان نے جب دیکھا کہ وہ سب کے سب بہت سیریس ہیں تو پریشان ہو گئے۔شکریہ ادا کیا‘ منت سماجت کرنے لگے۔
پہلوان جی کچھ دیر خاموشی سے سنتے رہے پھر بولے۔ ’’ باؤ جی۔ یہ آپ کو ختم کرنی پڑے گی ورنہ ایک وعدہ کرنا پڑے گا۔‘‘
’’ ہاں ہاں بولیں۔‘‘
’’ وعدہ کرو کہ آئندہ کبھی فلموں میں کام نہیں کرو گے !‘‘
جہانگیر خان نے فوراً وعدہ کر لیا۔ سچی بات تو یہ تھی کہ وہ خود بھی اپنی ادا کاری سے مطمئن نہیں تھے۔ دراصل وہ فلمی نقاد تھے۔ اخبار میں انگریزی فلموں پر تنقید و تبصرے لکھتے رہتے تھے۔ انہیں بخوبی احساس تھا کہ وہ اداکاری کے میدان میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔اس کے بعد انہوں نے چن وے کے سوا کسی فلم میں ادا کاری نہیں کی۔نہ ہی کسی نے انہیں فلموں میں کام کرنے کی پیش کش کی۔ کچھ عرصے بعد انہوں نے محکمہ اطلاعات میں ملازمت کر لی اور کافی ترقی کی۔ایک زمانے میں جب خام فلم کے لیے فلم سازوں کو حکومت کی طرف سے پرمٹ حاصل کرنا لازم ہو گیا تھا تو یہ پرمٹ جاری کرنے کا اختیار جہانگیر خان کے پاس تھا۔ وہ کراچی میں اپنے شاندار دفتر میں بیٹھ کرفلم سازوں کو پرمٹ جاری کرتے رہتے تھے۔ مگر ایسے فلم سازوں سے انہیں چڑ تھی جو بھارتی فلموں کے چربے بنانے کے لیے بد نام تھے۔ اس قسم کے ایک دو واقعات ہمارے سامنے بھی رونما ہوئے۔ جب انہوں نے بہت بڑے بڑے فلم سازوں کو پریڈ کرا دی۔ یہ واقعات وقت آنے پر بیان کیے جائیں گے۔ مگر جہانگیر خان کے بارے میں ایک قابل ذکر بات سن لیجئے۔ یہ وہی جہانگیر خان ہیں جن کا نام مینا شوری کے حوالے سے بہت مشہور ہوا تھا۔ مینا شوری جب مس 56ء میں کام کرنے کے لیے بمبئی سے کراچی آئی تھیں تو جہانگیر خان کے ساتھ ان کا افےئر ہو گیا جو بہت زور شور سے کافی عرصے تک جاری رہا۔ مس 56ء کے ہدایت کار شوری صاحب تھے جو مینا کے ساتھ آئے ہوئے تھے مگر جب وہ پاکستان سے رخصت ہوئے تو مینا ان کے ساتھ نہیں تھیں۔ مینا کو شوری صاحب سے علیحدہ کرنے میں جہانگیر خان کا بہت نمایاں ہاتھ تھا۔
(جاری ہے )