
لیاقت علی خان نے دو شادیاں کی پہلی شادی اپنی چچا زاد جہانگیرہ بیگم سے اور دوسری شادی ایک ڈرامائی انداز میں ہوئی۔1931 میں لیاقت علی خان بطور قانون ساز اسمبلی کے ممبر دہلی کے اندرا پرساتھ کالج برائے خواتین میں قانون کی اہمیت پر خطاب کرنے گئے تو نئی نئی وہاں بطور ماہر معاشیات لیکچرار “شیلا آئرن پینٹ” بھی تعینات تھی اور اسی تقریب میں دونوں کا سامنا ہوا، نوابزادہ لیاقت علی خان اس نوجوان لڑکی کی ذہانت اور قابلیت سے غیر معمولی متاثر ہوئے اور یوں ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا جو 1932 میں شادی پر پہنچ گیا۔
لیکن مزید تفصیل سے پہلے ذرا دونوں کا پس منظر جان لیتے ہیں۔
لیاقت علی خان 1895 میں کرنال کے ایک جاگیردار گھرانے میں پیدا ہوئے جس کا شمار بر صغیر کے چند طاقتور ترین مسلمان خاندانوں میں تھا۔ ہائی سکول کی تعلیم علی گڑھ یونیورسٹی سے اور پھر انگلینڈ کی اکسفورڈ یونیورسٹی سے لیاقت علی خان نے قانون کی تعلیم مکمل کرتے ہوئے واپسی پر کچھ عرصے کے لیے ہزاروں ایکڑ پر مشتمل اپنی جاگیر کو دیکھا اور ساتھ سیاست میں اگئے۔ اسی دوران لیاقت علی خان کی 1918 میں اپنی چچا زاد جہانگیرہ بیگم سے شادی ہوئی اور اگلے سال 1919 میں ان کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی اور نام نوابزادہ نثار علی خان رکھا گیا لیکن بدقسمتی سے اسکے اگلے ہی سال 1920 میں لیاقت علی خان کی بیوی کا انتقال ہو گیا
۔
لیاقت علی خان کی دوسری بیوی رعنا لیاقت علی 1905 میں اودھم پور کے ایک معزز اور تعلیم یافتہ برہمن خاندان میں پیدا ہوئیں اور لکھنو یونیورسٹی سے اکنامکس اور انگریزی لٹریچر میں ڈبل ماسٹر کرتے ہوئے دہلی کے کالج میں لڑکیوں کو پڑھانے لگی اور وہی ان کی لیاقت علی خان سے ملاقات ہوئی۔
1931 میں ہوئی اس ملاقات کے بعد دونوں متواتر ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا اور خطوط کا تبادلہ ہونے لگا اور یوں 1932 میں دونوں نے پسند کی شادی کرنے کا فیصلہ کیا، شیلا آئرن پینٹ نے اسلام قبول کیا اور اسلامی نام رعنا گل رکھا جو آگے چل کر رعنا لیاقت علی خان بن گیا۔
لیکن شیلا کے یوں مسلمان ہونے پر ان کے خاندان نے سخت رد عمل دیا اور ان سے میل جول ختم کرلیا اور لیاقت علی خان کے خاندان نے بھی پہلے کچھ ناراضگی دکھائی لیکن پھر اس شادی کو قبول کرلیا۔
ایک طرف لیاقت علی خان کا پہلا بیٹا ننھیال کے پاس پرورش پاتا رہا تو دوسری طرف رعنا لیاقت علی خان سے پہلا بیٹا اشرف خان 1937 اور دوسرا اکبر علی خان 1941 میں پیدا ہوئے۔
رعنا لیاقت علی خان نے پاکستان کی ازادی میں شوہر کے شانہ بشانہ کام کیا اور جب 1947 میں پاکستان بنا تو لیاقت علی خان اور ان کی بیوی اور دونوں بچے اپنا سب کچھ انڈیا میں چھوڑ کے پاکستان اگئے جس میں لیاقت علی خان کی ایک لمبی چوڑی جاگیر بھی شامل تھی۔ البتہ لیاقت علی خان کے پہلی بیوی سے بیٹے نے انڈیا میں ہی اپنے بقیہ خاندان کے پاس رہنے کو ترجیح دی اور پاکستان نہیں آئے۔
رعنا لیاقت علی خان کی پاکستان کی پہلی خاتون اول بنی۔ جب 16 اکتوبر 1951 کو لیاقت علی خان راولپنڈی میں ٹارگٹ ہوئے تو انکے پاس کرائے کا گھر اور مستقل امدنی کا کوئی ذریعہ نہ تھا اور بچے ابھی زیر تعلیم تھے۔
یوں رعنا کو حکومت نے پاکستان کی پہلی خاتون سفیر کے طور پر نیدرلینڈ میں تعینات کیا اور آگے چل کر وہ اٹلی، تیونس میں بھی بطور پاکستانی سفیر ذمہ داریاں ادا کرتی رہی اور بطور پہلی خاتون گورنر صوبہ سندھ میں بھی تعینات رہی۔
ان کا انتقال 1990 میں کراچی میں ہوا، لیکن میں سوچتا ہوں کہ ایک ایسا ملک جس کے بانی نے ایک پارسی خاتون سے پسند کی شادی کی، اس کی بیٹی نے پسند کی شادی ایک پارسی خاندان کے لڑکے سے کی اور اس ملک کے پہلے وزیراعظم نے پسند کی شادی ایک ہندو لڑکی سے کی، حالانکہ رتن بائی اور رعنا لیاقت علی نے اسلام کرتے ہوئے شادی کی لیکن یہ سوال پھر بھی غور طلب ہے کہ جہاں قومی لیڈران اور بابائے قوم نے پسند کی شادی کو ترجیح دی وہاں آج بھی پسند کی شادی کو دو ٹکے کی غیرت کا نام دے کر معصوم زندگیوں اور خصوصاً لڑکیوں کی جانوں سے کیوں کھیلا جاتا ہے؟
نوٹ: اس تحریر کو لیاقت علی خان کے ٹارگٹ کیے جانے پر لکھنے کا ارادہ تھا لیکن پھر انکے ایک دوسرے پہلو پر لکھنے کا سوچا ، لیاقت علی خان کا بڑا بیٹا 1982 میں انڈیا جبکہ دوسرا بیٹا 2014 اور تیسرا 2022 میں کراچی میں وفات پاچکے ہیں…
Disclaimer: This post is based on media reports and is for informational purposes only. Details may change as more information becomes available.