
معروف اسٹیج اور فلمی اداکار جانو بابا کا نام فنی دنیا میں کسی تعارف کا محتاج نہیں، لیکن شوگر کے موذی مرض کے باعث ٹانگ کٹنے کے بعد وہ زندگی کے ایک کٹھن مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ اس نامساعد حالات میں بھی ان کی گفتگو غیرت، خودداری اور بے پناہ شکر گزاری سے لبریز ہے، جہاں وہ بیماری کے کرب کے باوجود کہتے ہیں کہ وہ معذور اور بیمار ضرور ہیں مگر بے ضمیر نہیں۔
جب ٹانگ کٹ جانے کے بعد جانو بابا ناچار ہو کر گھر بیٹھ گئے، تو شوبز انڈسٹری کے دلجو ساتھیوں نے انہیں تنہا نہیں چھوڑا۔ وہ یاد کرتے ہیں کہ اس مشکل وقت میں سب سے زیادہ مدد اسٹیج اداکارہ نرگس نے کی، جنہوں نے نہ صرف مالی اور اخلاقی سہارا دیا بلکہ یہ دلاسا بھی دیا کہ “جانو بابا! جب بھی کوئی تکلیف ہو، ایک کال کر دینا، میں حاضر ہوں۔” اس کے علاوہ، مرحومات کی روایات کو قائم رکھتے ہوئے امان اللہ مرحوم کی بیٹی، نور امان اللہ، جانو بابا کے آپریشن سے پہلے خود ہسپتال پہنچیں اور ان کا ہاتھ تھاما۔
فنکارانہ برادری کی اس ہمدردی کا سلسلہ یہیں نہیں رکا؛ معروف مزاحیہ اداکار افتخار ٹھاکر کو جیسے ہی جانو بابا کی معذوری کی خبر ملی، انہوں نے فوراً مالی امداد کا چیک بھجوایا، جبکہ نامور فلم ڈائریکٹر سید نور نے بھی دل کھول کر ان کی معاونت کی المعرض، شوبز کی دنیا سے وابستہ متعدد دیگر شخصیات نے بھی اپنے اس سینئر فنکار کی حتی المقدور مدد کی، جس پر جانو بابا کا کہنا ہے کہ وہ رب کی ذات کے بعد انہی مخلص ساتھیوں کے طفیل زندگی کی سانسیں لے رہے ہیں۔
حالات چاہے جیسے بھی ہوں، جانو بابا کا دل ہر لمحہ پروردگار کے شکر سے لبریز رہتا ہے کہ اس نے جس حال میں رکھا وہ خوش ہیں۔ اب زندگی کے اس موڑ پر ان کے دل میں صرف ایک ہی حسرت اور آرزو باقی ہے؛ وہ بوجھل آنکھوں اور آس بھری مسکراہٹ کے ساتھ کہتے ہیں کہ وہ بس اسی دن کے منتظر ہیں جب انہیں نرگس یا کسی بھی اللہ کے بندے کی کال آئے اور وہ کہے: “جانو بابا! پاسپورٹ بنوا لیں، اب اللہ کے گھر اور روضہ رسول ﷺ پر حاضری کا بلاوا آ گیا ہے۔”
ڈسکلیمر:
یہ معلومات آن لائن ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں اور صرف اور صرف معلوماتی مقاصد کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔ اس پوسٹ کا مقصد کسی فرد، ادارے، نظریے یا واقعے کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا یا کسی مخصوص نقطۂ نظر کی تائید کرنا نہیں۔ قارئین و سامعین سے گزارش ہے کہ وہ اس مواد کو اپنی صوابدید اور فہم کے مطابق دیکھیں