چاکلیٹی ہیرو وحید مراد اور انکی بیوی سلمی مراد کی کتھا۔۔۔

سلمیٰ مراد (سلمیٰ میکر) نے 19 سال وحید کی بیوی اور چالیس سال ان کی بیوہ کے طور پر گزارے لیکن کبھی اپنے نام کے ساتھ وحید کے نام کو جدا نہیں کیا۔ جب وحید کا انتقال ہوا تو سلمیٰ مراد کے حوالے سے کچھ حلقوں کی جانب سے طرح طرح کی باتیں کی گئیں۔ لہکن اس باھمت خاتون نے اس طرح کی کسی فضول باتوں کا جواب دینا مناسب نہ سمجھا۔
سلمیٰ میکر کے والد ای ایچ اے میکر (ابراھیم میکر) ایک بہت بڑے انڈسٹریلسٹ تھے، اور ایچ ایم سلک ملز کے مالک تھے۔ سلمیٰ اور اُن کی بعض سہیلیوں کی بچپن سے وحید کے ساتھ دوستی تھی۔ سلمیٰ کے والد نے اُس زمانے کے مشہور کلاسیکی رقاصوں، گھنشیام اور نیلما کو پی ای سی ایچ سوسائٹی میں اکیڈمی قائم کرنے میں مدد دی تھی اور سلمیٰ بھی وہاں کلاسیکی رقص کی تربیت حاصل کر رہی تھیں۔ وہ ایک پرفارمنس کے لیے نیو یارک جانے والی تھیں جب وحید نے انہیں شادی کی پیشکش کی۔
یوں تو وحید مراد کے چاہنے والے بے شمار تھے، مگر وحید مراد سلمیٰ کے عشق میں مبتلا تھے، ایک موقع پر جب سلمٰی ڈانس کی پریکٹس کے لیے موجود تھیں، تو وحید مراد بھی وہاں پہنچ گئے، اشاروں میں سلمٰی کو پاس بلایا اور سیدھا کہہ دیا کہ مجھ سے شادی کرو گی؟ جس پر سلمٰی میکر بھی حیران رہ گئیں۔سلمٰی میکر بتاتی ہیں کہ کچھ روز بعد وحید مراد کے والدین کا بیٹے کی شادی کا پیغام آیا جسے میں نے وحید مراد کی جرات کو دیکھتے ہوئے قبول کر لیا۔
سلمٰی مراد کا کہنا تھا کہ مجھ سے پہلے وحید مراد کی منگنی کہیں اور ہوئی تھی لیکن لڑکی والوں نے ایک اسٹیج پر آکر کہا کہ لڑکا فلمی صنعت سے وابستہ ہے کیا پتا کب ہماری لڑکی کو چھوڑ دے، لہٰذا انہوں نے یہ کہہ کر رشتہ ختم کر دیا۔
منگنی ٹوٹنے کے بعد وحید مراد کو جھٹکا سا لگا، وہ بہت پریشان رہتے تھے میری اور وحید مراد کی فیملی کا آپس میں ملنا جلنا تھا ہم سب نے وحید مراد کو تسلی دی کہ کوئی نہیں آپ کی شادی کسی اچھی جگہ ہوگی۔
سلمٰی نے بتایا کہ میں اور وحید فیملی فرینڈ تھے پتا ہی نہیں تھا کہ ہم ایک دوسرے کی قسمت میں لکھے ہیں۔ منگنی ٹوٹنے کے بعد وحید مراد نے مجھے شادی کی پیش کش کی۔
یہ وہ زمانہ تھا کہ جب ملک کا ہر لڑکا وحید مراد جیسا بننے کا خواہاں تھا اور ہر لڑکی کو وحید مراد کے سراپے میں اپنے خوابوں کا مرد دکھائی دیتا تھا۔ کالج گرلز نے وحید مراد کی تصویریں کتابوں میں رکھ لیں لیکن ان کے دل کے تار کراچی کے صنعت کار ابراہیم میکر کی بیٹی سلمٰی میکر کو دیکھ کر بج اٹھتے تھے۔
یوں ایک روز وحید مراد سلمٰی میکر کو اپنے دل کا مدعا بیان کرنے اس ڈانسنگ کلاس میں جا پہنچے جہاں وہ ڈانس کی ریہرسل کیا کرتی تھیں۔ سلمٰی مراد کہتی ہیں کہ ریہرسل کے دوران ایک سانولا سلونا نوجوان وہاں آیا اور انھیں اشارے سے بلایا، میں اس کے پاس گئی تو اس نے برجستہ سوال کیا کہ ’مجھ سے شادی کرو گی؟‘
میں اس اچانک سوال پر ہکا بکا رہ گئی اور حیرانی سے ان کا منھ دیکھتی رہ گئی لیکن وہ مجھے الجھن میں ڈال کر وہاں سے جا چکا تھا۔ کچھ ہی روز میں وحید مراد کے والدین کی جانب سے باقاعدہ پیغام آیا اور میں نے بھی اس نوجوان کی اس روز کی والہانہ جرات کو دیکھتے ہوئے اقرار کر دیا اور یوں ہم جیون کی ڈور میں بندھ گئے۔‘
17 ؍ستمبر 1964 کو بہت دھوم دھام سے شادی ہوئی۔
18ستمبر 1964 کو مسٹر اور مسز نثار مراد نے اپنے اکلوتے بیٹے کی شادی کا گرینڈ ریسیپشن YMCA گراؤنڈ کراچی میں دیا۔ اس موقع پر شہر کے مشہور و معروف تاجروں، صنعت کاروں اور اعلی حکومتی اہلکاروں نے شرکت کی۔ اس شادی کی روداد ملک کے بیشتر اخبارات نے شائع کی۔ یہ وہ وقت تھا جب وحید مراد فلم انڈسٹری کے ممتاز اداکاروں کی فہرست میں شامل ہوچکے تھے۔ وحید گھر پر اپنی شریک حیات کو ’بی بی‘ کے نام سے پکارا کرتے تھے۔
وحید اور سلمیٰ کی پہلی اولاد عالیہ مراد کراچی میں 23 دسمبر 1969 کو پیدا ہوئیں. عالیہ مراد کی شادی 12 فروری 1987 کو سید سجاد حسین شاہ سے ہوئی.
ان کے بعد ایک بیٹی سعدیہ پیدا ہوئی جو دو ماہ میں ہی فوت ہو گئی۔
عادل مراد 13 نومبر 1976 کو پیدا ہوئے. انکی شادی 27 دسمبر 2005 کو مریم رحیم سے ہوئی. جنکی پیدائش 2 مارچ 1976 ہے. وحید مراد کا پوتا عیان عادل مراد 16 نومبر 2006 کو کراچی میں پیدا ہوا.
شادی کے کافی عرصہ بعد سلمٰی مراد نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وحید مراد کے بارے میں یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ وہ مغرور تھے۔
وہ بہت ہی خوش مزاج انسان تھے، کسی کے ساتھ جلدی گُھلتے مِلتے نہیں تھے لیکن جس سے بے تکلفی ہوجاتی پھر اس کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے رہتے تھے۔‘
انہوں نے کہا کہ میں نے وحید مراد کے ساتھ آئیڈیل زندگی گزاری، وہ بالکل بھی تنگ نظر نہیں تھے۔‘
سلمٰی مراد نے بتایا کہ ایک بار میں نے سلیولیس بلاوز پہن لیا تو خود کو یہ سوچتے ہوئے دوپٹے سے ڈھانپ لیا کہ کہیں وحید مراد کو ناگوار نہ گزرے، لیکن وحید مراد نے جب دیکھا تو انہوں نے کہا کہ آپ گھبرا کر دوپٹے سے خود کو نہ ڈھانپیں، پرسکون رہیں، آپ اچھی لگ رہی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ ہیروئنز کے لیے خوب صورت انداز میں گانے پکچرائز ضرور کروایا کرتے تھے لیکن میرے لیے کبھی کوئی گانا نہیں گایا تھا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مجھے کبھی بھی یہ پریشانی نہیں ہوئی کہ وحید مراد اتنی خوب صورت ہیروئنز کے ساتھ کام کررہے ہیں اور کہیں کسی میں انوالو نہ ہوجائیں، ہمارے تعلق میں شک نام کی کوئی چیز ہی نہیں تھی۔
سلمیٰ نے بتایا کہ وحید مراد انگریزی کھانے پسند کرتے تھے، اس کے علاوہ انہیں اچھی ڈریسنگ کا بہت شوق تھا۔ادب اور میوزک کا شوق رکھتے تھے، یہی وجہ ہے کہ ہر ہفتے ہمارے گھر میں نامور موسیقاروں اور شاعروں کی محافل سجا کرتی تھیں۔
وحید گاڑی بہت تیز چلایا کرتے تھے اور ان کا حادثہ کار درخت میں لگنے کی وجہ سے ہوا۔ حادثے کے بعد وہ خاصے مضطرب رہتے تھے۔ ان کے چہرے پر خاصی چوٹیں آئی تھیں، آئینے میں اپنا چہرہ دیکھتے تو پریشان ہو جاتے تھے۔
وحید مراد، بیٹی عالیہ سے بہت پیار کرتے تھے وہ محض سولہ برس کی تھی جب ان کا انتقال ہوا، اگر زندہ ہوتے تو بیٹی کو دلہن بنتا دیکھ کر ان کی خوشی کی انتہا نہ رہتی۔
سلمٰی مراد کا کہنا تھا کہ ان کے لیے وحید مراد کی بیوی ہونا کسی اعزاز سے کم نہ تھا، جہاں بھی ان کے ساتھ جاتی بہت ہی عزت ملتی، وہ ہوٹلنگ ضرور کرواتے تھے لیکن شاپنگ کے لیے کہیں نہیں لے جاتے تھے کیونکہ لوگ انہیں پہچان کر گھیر لیا کرتے تھے۔
وحید مراد کا حسِ مزاح بہت ہی کمال کا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ اداکارہ زیبا کی محمد علی کے ساتھ منگنی ہوئی تو وحید مراد، محمد علی کو سیٹ پر دیکھ کر زیبا سے ہنسی مذاق اور چھیڑ چھاڑ شروع کر دیتے تھے، لیکن محمد علی کو جلد ہی احساس ہوگیا کہ وحید مراد انہیں تنگ کرتے ہیں، وحید مراد اور محمد علی کی دوستی مرتے دم تک قائم رہی۔
وہ اعلٰی تعلیم یافتہ تھے اور وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ فلم انڈسٹری میں غیر تعلیم یافتہ لوگ پڑھے لکھوں کی نسبت زیادہ کامیاب ہیں۔‘
وحید مراد پریس سے دور رہا کرتے تھے۔ وہ انٹرویوز دینے میں زیادہ دلچپسی نہیں لیتے تھے لیکن اگر میں کسی سے وعدہ کر لیتی تو وحید مراد کو انٹرویو کے لیے مشکل سے ہی سہی لیکن راضی کر لیا کرتی تھی۔
انہوں نے بتایا تھا کہ وحید مراد کے انتقال کے بعد انہیں متعدد بار دوسری شادی کے مواقع ملے لیکن انہوں نے کبھی دوسری بار رشتہ ازدواج میں بندھنے کا نہیں سوچا۔
انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ وحید مراد کے انتقال کے بعد وہ شدید ڈپریشن کا شکار ہوگئی تھیں، جس سے نکلنے کے لیے انہوں نے خود کو متعدد کاموں میں مصروف رکھا۔
واضح رہے کہ سلمی مراد ایک سماجی شخصیت بھی تھیں وہ پاکستان مسلم لیگ کے کراچی ڈویژن کی صدر بھی رہیں ۔
سلمی چیمبر آف کامرس سے منسلک اسٹنڈنگ کمیٹی کی وائس چیئرپرسن بھی تھیں ۔
وحید مراد کے 23 سالہ فلمی کیریئر کے دوران ان کے بھی دُوسرے ہیروز کی طرح فلمی اسکینڈلز منظرعام پر آئے، خاص طور پر جب وہ زیبا کے ساتھ فلموں میں بطور ہیرو آ رہے تھے تو لوگوں میں یہ مشہور ہوا کہ ان کے درمیان محبت کا رشتہ پروان چڑھ رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ افواہیں بھی زور پکڑنے لگیں کہ یہ دونوں شادی کرنے والے ہیں لیکن وحید مراد کی سلمیٰ مراد سے اور بعد میں زیبا کی محمد علی سے شادی کے بعد یہ افواہیں خودبخود دَم توڑ گئیں۔
سلمیٰ مراد نے چند سال قبل ’آج‘ ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا تھا کہ ان کے اور وحید مراد کے درمیان کبھی کوئی اختلافات نہیں ہوئے تھے لیکن اخبارات ان سے متعلق جھوٹے خبریں شائع کرتے رہے۔
انہوں نے بتایا تھا کہ وحید مراد اور وہ دونوں ایک دوسرے کو بچپن سے جانتے تھے، ایک طرح سے دونوں ایک ساتھ پلے بڑھے تھے. چھوٹی موٹی رنجشیں اور اختلافات تو ہر شادی شدہ جوڑے کے درمیان رہتے ہیں لیکن میرے اور وحید کے درمیان ھمیشہ انڈرسٹینگ رہی۔
وحید کی وفات کے بعد یہ سلمیٰ مراد ہی تھیں جنہوں نے اپنی محنت سے اور وحید کے دوستوں کے تعاون سے وحید کی فلم “ھیرو” کو سنیما گھروں کی زینت بنایا۔
سلمیٰ مراد آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی پرانی ممبر تھیں۔
سلمیٰ مراد نے وحید مراد کے انتقال کے بعد چالیس برس وحید مراد کے نام کے ساتھ گزار دئے۔ اس دوران ان کو کئی بار شادی کی آفر بھی ہوئی اور مواقع بھی ملے لیکن انہوں نے اپنی زندگی اپنے بچوں اور وحید کی یادوں کے نام کر دی اور یہ جھوٹ ہے کہ سلمی مراد وحید مراد کو چھوڑ کر امریکہ چلی گئیں تھیں بلکہ وہ اپنے بزنس اور کام کے سلسلے میں امریکی آتی جاتی رہتی تھیں۔
طویل علالت کے بعد 13 اکتوبر 2023 بروز جمعہ سلمیٰ مراد کا انتقال ہوگیا۔ ان کی نماز جنازہ سلطان مسجد ڈی ایچ اے میں ادا کرکے انہیں چانڈیو قبرستان ڈفینس کراچی میں سپردِ خاک کردیا گیا۔
ان کے بیٹے عادل مراد کو کراچی کیلئے فلائیٹ نہ مل سکی جس وجہ سے وہ اپنی ماں کا آخری دیدار بھی نہ کرسکے۔
مرحومہ سلمیٰ مراد کا سوئم ان کی بیٹی عالیہ مراد کی رہائش گاہ پر ہوا۔
دعا ہے کہ اللہ پاک سلمیٰ مراد کی مغفرت فرما کر ان کے درجات بلند کرے ۔ آمین ۔۔۔۔۔۔۔
{مقبول احمد برفت}

Leave a Comment