مجھے زیادتی کاخوف تھا مگر انہوں نے میرے جسم کو ڈھانپ دیا، اسرائیلی یرغمال خاتون کا بیان۔۔۔

اسرائیلی خاتون یرغمال جسے حماس نے رہا کیا، اس کے بیان نے سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کر لی ہے۔

اس خاتون نے کہا، “مجھے زیادتی کا خوف تھا، لیکن اس کے برعکس، انہوں نے میرے جسم کو ڈھانپنے کے لیے حجاب دیا۔ ان کے نزدیک عورتیں مقدس ہیں، عورتیں رانیوں کی طرح ہیں۔ انہوں نے پہلے ہمیں بتایا کہ وہ قرآن پر ایمان رکھتے ہیں، اور وہ ہمیں نقصان نہیں پہنچائیں گے۔”

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب قیدیوں کے تبادلے کے دوران کئی یرغمالیوں کو رہا کیا گیا۔ اسرائیلی میڈیا اور بین الاقوامی میڈیا پر مختلف یرغمالیوں کے مختلف تجربات رپورٹ ہوئے ہیں، بعض نے سخت حالات کا ذکر کیا جبکہ بعض نے اس طرح کے بیانات دیے۔

اس خاتون کے مطابق اسے جسمانی طور پر نقصان نہیں پہنچایا گیا اور اسے حجاب دیا گیا تاکہ وہ خود کو ڈھانپ سکے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اغوا کاروں نے قرآن کا حوالہ دے کر کہا تھا کہ وہ عورتوں کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔

سوشل میڈیا پر اس ویڈیو اور بیان کے بعد ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔ بعض لوگوں نے اسے غزہ میں قید کے حالات کے بارے میں ایک مختلف نقطہ نظر قرار دیا، جبکہ بعض نے کہا کہ تمام یرغمالیوں کے تجربات ایک جیسے نہیں رہے۔

نوٹ: یہ رپورٹ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے بیان پر مبنی ہے اور صرف معلوماتی مقصد کے لیے پیش کی گئی ہے۔

Leave a Comment