جب جنرل ضیاء الحق نے ایک ڈی، آئی جی پولیس کو ڈانٹا۔۔۔۔

میں نے تمہیں کتنی بار کہا ہے میرے لیے عام ٹریفک کو نہ روکا کرو : جنرل ضیاٰء کا ایک ان سنا واقعہ ریٹائرڈ پولیس افسر کی زبانی : ریٹائرڈ ڈی آئی جی رضا احمد خان اسلام آباد میں کسی دور میں ڈی ایس پی ٹریفک تھے ، ایک بار جنرل ضیاء فیصل مسجد آئے تو عام ٹریفک کو مختلف اشاروں پر رکے دیکھا ، تو جنرل صاحب نے ڈی ایس پی رضا خان کو پاس بلایا سخت ناراض ہوئے اور کہا میں نے کتنی دفعہ تم لوگوں کو منع کیا ہے میرے لیے عام ٹریفک بند نہ کیا کرو لوگوں کوتکلیف ہوتی ہے ، ڈی ایس پی رضا نے خاموشی میں ہی عافیت جانی ،، کچھ دنوں بھی جنرل ضیاء پھر قومی اسمبلی کے عقب میں ایک عمارت کا افتتاح کرنے آرہے تھے ، انکے قافلے میں ایک عام موٹرسائیکل سوار گھس گیا تو موٹر کیڈ کے جوانوں نے اسے باہر نکالنا چاہا ، جنرل ضیاء نے یہ منظر دیکھ لیا اور ڈی ایس پی کو بلا لیا ۔۔۔ رضا خان بہت پریشان حاضری کے لیے گئے آئی جی اسلام آباد بھی ہمراہ تھے اور وہ بھی بہت پریشان تھے ، جنرل ضیاء کے ڈرائیور نے رضا سے کہا ، سر آج آپ کا آخری دن ہے نوکری کا ، تیار ہو جائیں ۔۔۔۔ یہ سن کر دونوں پولیس افسران مزید پریشان ہو گئے جنرل صاحب کے آفس کے باہر ملٹری سیکرٹری بولے ، رضا صاحب جو مرضی ہوجائے آپ نے ایک لفظ منہ سےنہیں نکالنا ، جبکہ دوسری طرف آئی صاحب کہہ رہے تھے رضا جو کہنا ہے تم نے کہنا ہے ، ڈی ایس پی رضا احمد خان کا اب کیا حال ہو گا آپ اندازہ کر سکتےہیں ۔ خیر دونوں افسران جنرل ضیاء کے سامنے پیش ہو گئے جنرل صاحب نے پھر وہی سوال دہرایا ، میں نے کتنی بار آپ کو منع کیا ہے آپ عوام کو میرے لیے تکلیف نہ دیا کریں ، جنرل صاحب کے پیچھے کھڑے ملٹری سیکرٹری نے انہیں انگلی سے بالکل چپ رہنے کا اشارہ کیا ، جنرل صاحب پھر بولے میں نے کیا پوچھا ہے ، پیچھے سے پھر خاموش رہنے کا اشارہ ہوا مگر رضا نے ہمت کرکے پوچھا جنرل صاحب کیا مجھے بولنے کی اجازت ہے تو جنرل ضیاء بولے ، مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم بولو اور جواب دو ، ڈی ایس پی رضا بولے سر جو غلطی میں نے کی اسکی ٹریننگ ہمیں 100 سال سے دی جارہی ہے ، اس میں ہمارا یا ٹریفک کانسٹیبلز کا کوئی قصور نہیں ، ہمیں یہ سب کرنے کو کہا جاتا ہے اور آپ ہمیں منع کررہے ہیں ، اب یہ کوئی بٹنن تو نہیں جیسے ہی آپ نے کہا ہم بند کردیں ۔۔۔ جنرل ضیاء مسکرائے اور بولے اسکا حل کیا ہے ، تو رضا نے بتایا سر ہمیں پوری ٹریفک پولیس کی نفری اور افسران کو تربیت دینا ہوگی ، تو جنرل صاحب نے کہا آج سے میں آپ کو یہ ذمہ داری سونپ رہا ہوں کہ آپ پورے صوبے میں اس بات کو یقینی بنائیں کہ وی آئی پی موومنٹ کے دوران عام آدمی پریشان نہ ہو ۔۔۔۔۔اسطرح ڈی ایس پی رضا احمد خان نے ہمت اور حوصلہ کرکے نہ صرف اپنی نوکری بچا لی بلکہ کچھ عرصہ ایک آمر کے حکم کی روشنی میں عوام کو بھی تکلیف سے نجات ملتی رہی ۔۔۔۔

Leave a Comment