
اداکار کیفی اور ماضی کی مایہ ناز اداکارہ چکوری بیگم کے بیٹے حسن کیفی کی زندگی انتہائی دردناک اور آزمائشوں سے بھری رہی۔ چکوری بیگم نے اپنی دوسری شادی کے بعد اپنے دونوں بیٹوں حسن کیفی اور اسد کیفی کی بہترین تربیت کی اور انہیں اعلٰی تعلیم سے آراستہ کیا۔ دونوں بھائی اپنی ماں کی آنکھ کا تارا تھے اور چکوری بیگم کے لیے بھی ان کی اولاد ہی سب سے بڑی دولت تھی۔ تاہم اپنی زندگی کے آخری ایام میں چکوری بیگم سے ایک بڑی بھول یہ ہوئی کہ انہوں نے اپنی دن رات کی محنت سے بنایا ہوا قیمتی گھر کیفی صاحب کی مالی مشکلات کے پیش نظر ان کے نام کر دیا۔ ماں کی وفات کے بعد دونوں بھائی ایک طرح سے بے آسرا ہو گئے کیونکہ ان کے پاس رہنے کے لیے کوئی ذاتی چھت یا قابلِ ذکر ترکہ باقی نہ بچا تھا۔
اس کٹھن موڑ پر دونوں بھائیوں نے ہمت نہ ہاری اور عملی زندگی میں اپنے قدم جمانے کے لیے جدوجہد شروع کر دی۔ اسد کیفی تو کسی حد تک اپنے حالات سنبھالنے میں کامیاب ہو گئے، مگر حسن کیفی کا مقدر صدمات سے بدل نہ سکا۔ والدہ کے داغِ مفارقت کے بعد ان کی شادی تو کر دی گئی، لیکن ابھی کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ ان کی جوان سال زوجہ بھی ناگہانی طور پر انتقال کر گئیں، جس نے حسن کیفی کو اندر سے توڑ کر رکھ دیا۔ اس عظیم صدمے کے باوجود انہوں نے خود کو دوبارہ سنبھالا اور دونوں بھائی ایک ہی چھت تلے رہتے ہوئے ایک دوسرے کی ڈھارس بنے رہے۔
حسن کیفی نے زندگی کی گاڑی چلانے کے لیے کئی چھوٹے بڑے کام کیے اور اپنے آخری دنوں میں وہ ایونٹ مینجمنٹ کے شعبے سے منسلک تھے۔ سب کچھ معمول پر آ ہی رہا تھا کہ اچانک ایک ماہ قبل ان کا اپ۔نڈکس پھٹ گیا جس سے ان کی حالت تشویشناک ہو گئی۔ اسد کیفی نے اپنے بھائی کو بچانے اور ان کے علاج معالجے کے لیے دن رات ایک کر دیا، مگر جسم میں زہر پھیلنے کے باعث تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئیں اور حسن کیفی زندگی کی بازی ہار کر اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔
ڈسکلیمر:
یہ معلومات آن لائن ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں اور صرف اور صرف معلوماتی مقاصد کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔ اس پوسٹ کا مقصد کسی فرد، ادارے، نظریے یا واقعے کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا یا کسی مخصوص نقطۂ نظر کی تائید کرنا نہیں۔ قارئین و سامعین سے گزارش ہے کہ وہ اس مواد کو اپنی صوابدید اور فہم کے مطابق دیکھیں