
“مشکلات کے آگے گھٹنے ٹیکنے کے بجائے خود اپنی منزل بنانے والی بہنوں کی دل کو چھو لینے والی کہانی!”
جنوبی پنجاب کے شہر رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والی تین باہمت بہنوں نے ثابت کر دیا کہ اگر ارادے پختہ ہوں تو کوئی بھی مشکل انسان کو ہرا نہیں سکتی۔ ان کے والد نے بیٹیوں کی اعلیٰ تعلیم کے لیے اپنا گاؤں چھوڑ کر شہر میں سکونت اختیار کی، دن رات محنت کی اور انہیں کراچی کی یونیورسٹی سے ڈاکٹر اور فارمیسی کی اعلیٰ پیشہ ورانہ ڈگری دلائی۔
لیکن اصل امتحان اس وقت شروع ہوا جب ڈگریاں مکمل کرنے کے بعد یہ بیٹیاں واپس رحیم یار خان آئیں۔ مقامی ہسپتالوں اور فارمیسیز میں اچھے روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر تھے، اور جہاں نوکری ملتی وہاں تنخواہ اتنی کم تھی کہ گھر کا خرچ چلانا بھی ناممکن تھا۔ اسی دوران والد گردوں کے مرض میں مبتلا ہو گئے اور ان کا ڈائیلاسز بھی شروع ہو گیا، جس نے خاندان پر مالی پہاڑ توڑ دیا۔
ایسے کٹھن حالات میں بھی ان بہنوں نے مایوس ہو کر بیٹھنے کے بجائے خود اپنے لیے روزگار کے نئے راستے تلاش کرنے کا عزم کیا تاکہ نہ صرف اپنی تعلیم کو کارآمد بنا سکیں بلکہ اپنے بیمار والد اور خاندان کا سہارا بھی بن سکیں۔